سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپؐکے پاس آنے کا موقع ملا اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی باتیںسنیںتو ان میں صدہا مسلمان ہو گئے۔ جب تک انہوں نے آپ ﷺ کی باتیں نہ سنی تھیں ان میں اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپؐکے حسن و جمال پر ان کو اطلاع نہ پانے دیتی تھی۔
سوال: صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کی رات کو پہرے کی ڈیوٹی کے متعلق حضور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓکو رات کے وقت پہرے کا حکم دیا ہوا تھا۔ روزانہ پہرہ ہوتا تھا۔ تین آدمی باری باری پہرہ دیا کرتے تھے۔ جن میں حضرت اَوس بن خَولیؓ، عَبَّاد بن بِشرؓ اور محمد بن مَسْلَمَہؓ تھے۔
سوال: ایک رات جب حضرت محمد بن مَسْلَمَہؓ رسول اللہ ﷺ کے پہرے پر مامور تھے تو کیا واقعہ رونما ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک رات حضرت محمد بن مَسْلَمَہؓ رسول اللہ ﷺ کے پہرے پر مامور تھے تو قریش نے مِکْرَزْ بن حَفْص کی نگرانی میں پچاس آدمیوں کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد چکر لگائیں اس امید پر کہ مسلمانوں میں سے کسی کو قتل کر دیں یا اچانک ان کو کوئی نقصان پہنچائیں۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے ان کو پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ مکرز بھاگ گیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو خبر دار کیا۔
سوال: مسلمانوں میں سے کون کون رسول کریم ﷺ کی اجازت سے مکہ میں داخل ہوئے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مسلمانوں میں سے چند آدمی رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تھے جن میں کُرْز بن جابر فِہْرِی، عبداللہ بن سُہَیل، عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی، ابورُوم بن عُمَیر عَبْدَرِی، عَیَّاش بن اَبِی رَبِیعہ، ہِشَام بن عاص، ابُو حاطِب بن عَمْرو، عُمَیر بن وَہْب، حَاطِب بن ابی بَلْتَعَہ اور عبداللہ بن اُمَیَّہ شامل تھے۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی امان میں مکہ میں داخل ہوئے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چھپ کر داخل ہوئے تھے۔ مختلف روایتیں ہیں۔
سوال: جب قریش کو مسلمانوں کی خبر ہوئی تو انہوں نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب ان مسلمانوں کی خبر قریش کو ہوئی تو قریش نے ان کو پکڑ لیا اور قریش کو اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کی خبر بھی مل گئی تھی جن کو حضرت محمد بن مسلمہ ؓنے روک لیا تھا۔ جب قریش کو خبر ملی کہ ان کے پچاس آدمی مسلمانوں کے قیدی ہو گئے ہیں۔ پھر قریش کا ایک اَور مسلح دستہ نبی کریم ﷺ اور آپؐکے اصحابؓکی طرف آیا اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ وہ تیر اور پتھر پھینکنے لگے۔
سوال: مشرکین کے کتنے شہ سواروں کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا تھا اور مسلمانوں میں سے کس کو قریش نے شہید کر دیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مشرکین کے بارہ شہ سواروں کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا اور مسلمانوں میں سے حضرت اِبنِ زُنَیمؓشہید ہو گئے۔ قریش نے ان کو تیر مار کر قتل کر دیا تھا۔
سوال: سہیل بن عمرو کو جب رسول کریم ﷺ نے دور سے دیکھا تو صحابہؓ کو کیا فرمایا؟
جواب:حضورانورنےفرمایا:پھر قریش نے ایک جماعت آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجی جن میں سُہَیل بن عمرو بھی تھا۔ آنحضرت ﷺ نے جیسے ہی دُور سے اس کو دیکھا تو صحابہؓ سے فرمایا کہ سُہیل کے ذریعہ تمہارا معاملہ سَہل یعنی آسان ہو گیا۔
سوال: جب قریش کو حدیبیہ کی اس بیعت کا حال معلوم ہوا تو ان کی کیا کیفیت تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب قریش کو حدیبیہ کی اس بیعت کا حال معلوم ہوا تو وہ لوگ بہت خوفزدہ ہوئے۔ ان کو بھی پتہ لگ گیا کہ یہ بیعت ہو گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک عہد لیا ہے سب مسلمانوں سے اور ان کے ذی رائے لوگوں نے مشورہ دیا کہ صلح کرنا مناسب ہو گا۔یعنی اس سال اس طرح صلح کی جائے، یہ کہا جائے کہ اس سال آپ واپس لوٹ جائیں اور آئندہ سال آ کر تین روز مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں مگر آپ کے ساتھ صرف ایک سوار کے ضروری ہتھیار یعنی میانوں میں پڑی تلوار اور کمانوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ اس مشورے کے بعد قریش نے دوسری دفعہ سُہَیل بن عمرو کو بھیجا۔ اس کے ساتھ مِکرِز بن حَفْص اور
حُوَیْطِب بن عبدالعُزّٰی بھی تھے۔ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس یہ تجویز لے کر آئے کہ اس سال تو آپ بغیر عمرہ کیے ہی واپس چلے جائیں تا کہ عرب یہ نہ کہیں کہ آپ طاقت کے زور پر قریش کی مرضی کے خلاف مکہ میں داخل ہو گئے ہیں اور اگلے سال عمرہ کے لیے دوبارہ آجائیں۔ چنانچہ جب سُہیل سامنے آیا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو دُور سے دیکھ کر فرمایا:اس شخص کو دوبارہ بھیجنے کا مطلب ہے کہ قریش نے صلح کا ارادہ کیا ہے۔
سوال: صلح حدیبیہ کے معاہدے کی تحریر کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کیا بیان کیا ہے؟
جواب: صلح کے معاہدے کی تحریرکے بارے میں سیرت خاتم النبیینؐمیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓلکھتے ہیں کہ ’’بہرحال بڑی رَدّوکَدْ کے بعد یہ معاہدہ تکمیل کوپہنچا اور قریباً ہر امر میں آنحضرت ﷺ نے اپنی بات کو چھوڑ کر قریش کامطالبہ مان لیا اور خدائی منشاء کے ماتحت اپنے اس عہد کو پوری وفاداری کے ساتھ پورا کیا کہ بیت اللہ کے اکرام کی خاطر قریش کی طرف سے جو مطالبہ بھی ہو گا اسے مان لیا جائے گا اور بہرصورت حرم کے احترام کو قائم رکھا جائے گا اس معاہدہ کی شرائط حسب ذیل تھیں :
1۔آنحضرت ﷺ اور آپؐکے ساتھی اس سال واپس چلے جائیں۔
2۔ آئندہ سال وہ مکہ میں آکر رسم عمرہ اداکرسکتے ہیں مگر سوائے نیام میں بند تلوار کے کوئی ہتھیار ساتھ نہ ہو اورمکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔
3۔ اگرکوئی مرد مکہ والوں میں سے مدینہ جائے توخواہ وہ مسلمان ہی ہو آنحضرت ﷺ اسے مدینہ میں پناہ نہ دیں اور واپس لوٹا دیں۔ چنانچہ اس تعلق میںصحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں کہ لَا یَأْتِیْکَ مِنَّا رَجُلٌ وَاِنْ کَانَ عَلٰی
دِیْنِکَ اِلَّا رَدَدْتَہٗ اِلَیْنَا۔ یعنی ہم میں سے اگر کوئی مرد آپ کے پاس جائے تو آپ اسے واپس لوٹا دیں گےلیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ کوچھوڑ کر مکہ میںآجائے تو اسے واپس نہیںلوٹایا جائے گا۔انہوں نے اپنی شرط منوا لی کہ مسلمان ہو کے اگر کوئی مدینہ جاتا ہے تو واپس ہو گا لیکن اگر مسلمان کسی طرح مکہ میں آ جائے اور پکڑا جائے تووہ واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر مکہ والوں میں سے کوئی شخص اپنے ولی یعنی گارڈین (guardian) کی اجازت کے بغیر مدینہ آجائے تواسے واپس لوٹادیا جائے گا۔
4۔ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کاحلیف بن جائے اورجو چاہے اہل مکہ کا۔
5۔ یہ معاہدہ فی الحال دس سال تک کے لیے ہوگا اوراس عرصہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان جنگ بندرہے گی۔
سوال: صلح حدیبیہ کے بارت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اے نے کیا تفصیل بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓایم اے فرماتے ہیں:صلح حدیبیہ کے گواہ کے بارے میں تفصیل اس طرح ہے کہ اس معاہدہ کی دو نقلیں کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر دستخط ثبت کیے۔ مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ(جو اس وقت تک مکہ سے واپس آ چکے تھے) عبدالرحمن بن عوفؓ، سعد بن ابی وقاصؓاور ابوعبیدہؓتھے۔ معاہدہ کی تکمیل کے بعد سُہَیل بن عمرو معاہدہ کی ایک نقل لے کر مکہ کی طرف واپس لوٹ گیا اور دوسری نقل آنحضرت ﷺ کے پاس رہی۔
سوال: حدیبیہ کے قصے کو قرآن مجید نے کس نام سے موسوم کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیں :حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایا ہے۔إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِيْنًا۔ وہ فتح اکثر صحابہؓ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کی موجب ہوئی مگر دراصل وہ فتح مبین تھی۔ گو اس کے مقدمات نظری اور عمیق تھے۔