اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-30

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍جولائی 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے جلسہ پر آنے والے مہمانوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپ ایک خاص مقصد لے کر اس جلسے میں شامل ہو رہے ہیں، آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ چیز راسخ ہونی چاہئے، یہ بات ہر وقت ہمیشہ رہنی چاہئے کہ آپ کے یہاں آنے کا مقصد کسی دنیاوی میلے میں شامل ہونا نہیں بلکہ اپنی روحانی ترقی کے لئے آئے ہیں۔
سوال: حضور انور نے مہمانوں کو کن ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ لوگ جو اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ اس روحانی ماحول سے فائدہ اٹھائیں اور جلسے کی برکات سے فیضیاب ہوں تو آپ کا یہ کام ہے کہ اپنی توجہ اسی مقصد پر مرکوز رکھیں۔ نہ تو آپ کو ان تین دنوں میں کسی بھی واقف کار کارکن سے غیر ضروری توقعات ہونی چاہئیں کہ وہ آپ کی رائج طریق سے ہٹ کر مہمان نوازی یا خدمت کرے، نہ ہی آپ ان کارکنوں کو مجبور کریں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اکرام ضیف، مہمان نوازی، مہمان کے عزت و احرام کا کس قدر خیال تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اکرام ضیف یا مہمان نوازی یا مہمان کے عزت و احترام کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ کہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ناراض مہمان کو منانے کے لئے اس کے پیچھے تیز تیز جا رہے ہیں تاکہ اس کو پکڑ کر لائیں اور اسے منائیں۔ کہیں رات کو موسم کی خرابی کے باوجود، شدت کے باوجود، مہمان کے لئے دودھ لے کر آ رہے ہیں۔ کہیں مہمانوں کے لئے اپنے گھر کے تمام
بستر بھی دے کر بیوی بچوں سمیت سردی میں رات گزار رہے ہیں۔ کہیں مہمانوں کو فرماتے ہیں کہ تکلّف نہ کیا کرو جو ضرورت ہو اس کا اظہار کر دو تاکہ تکلیف نہ ہو۔ کبھی لنگر خانے والوں کو فرما رہے ہیں کہ مختلف علاقے کے لوگوں کے مزاج اور خوراک کی عادات مختلف ہوتی ہیں ان کا خیا ل کیا کرو اور ان سے پوچھ کر ان کے مزاج کے مطابق خوراک تیار کر دیا کرو۔ بعض مہمانوں کے پان وغیرہ تک کاخیال فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم خوش ہوتے ہیں جب مہمان تشریف لائیں اس لئے مہمان بھی بوجھ نہ سمجھا کریں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کے متعلق حضور انور نے کون سا واقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک واقعہ کا یوں ذکر ملتا ہے۔ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنے پر آپؑنے فرمایا:میرے لئے سب برابرہیں، اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔ سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا ہونا چاہئے، یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے۔ مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ان کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت میرے مہمان ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں۔ اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا جائے۔ خبردار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو۔
سوال:بعض دفعہ بعض باتیں تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں اس تعلق سے حضور انور نے کون سا واقعہ فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بعض دفعہ بعض باتیں تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں اور خاص طور پر جب ایسی جگہ ہوں جہاں بہت سے لوگ ہوں تو شرمندگی کی وجہ سے انسان زیادہ غصے میں آ جاتا ہے، زیادہ غصے کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس ماحول کو پرامن رکھنے کے لئے ہر ایک کو حوصلے اور صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ بات جتنی بڑھائیں، ماحول کو خراب کرتے چلے جائیں گے۔ اس ضمن میں ایک لطیفہ میں آپ کو سناتا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض دفعہ کس طرح اپنے صحابہ ؓ کے اس قسم کے جوش کو جو غصہ کی وجہ سے ہوتا تھا دھیما کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہو گئے، ان کی وجہ سے شور و غل رہتا تھا۔ پیرسراج الحق صاحب نے بہت سے کتوں کو زہر دے کر مار ڈالا۔ اس پر بعض لڑکوں نے پیرصاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا نام پیر کُتیّ مار رکھ دیا۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں شاکی ہوئے کہ لوگ مجھے کُتیّ مار کہتے ہیں۔ حضرت صاحبؑنے تبسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ دیکھیں حدیث شریف میں میرا نام (حضرت مسیح موعود ؑ اپنے بارے میں بتاتے ہیں) سؤر مار لکھاہے، کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ پیرصاحب اس پربہت خوش ہو کر چلے آئے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔
سوال: حضور انور نے نمازوں کی ادائیگی کی طرف احباب جماعت کو کیا توجہ دلائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ان ایام میں پورے التزام سے نمازوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں۔ صرف جلسہ سننے والے ہی نہیں بلکہ کارکنان کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی، جہاں بھی وہ ڈیوٹیاں دے رہے ہیں وہاں نماز کی ادائیگی کا انتظام کریں۔ ان کے افسران کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں اور جو جلسے کے نظام کا شعبہ تربیت ہے وہ بھی اس کی نگرانی رکھے۔
سوال: حضور انور نے پارکنگ اور صفائی کےمتعلق سے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: گاڑیوں کو پارک کرتے وقت خیال رکھیں۔ اس دفعہ لگتا ہے یورپ سے بھی کافی تعداد آئی ہے۔ اس لئے کاریں بھی کافی ہوں گی تو پارکنگ کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ کبھی اپنی گاڑیاں ایسی جگہ پر پارک نہ کریں جہاں منع کیا جائے۔ ٹریفک کے قواعد کو ملحوظ رکھیں یہ میں نے پہلے بھی بتا یا تھا، جلسہ گاہ میں شعبہ پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں اور مکمل طور پر جیسا کہ مَیں کہہ چکا ہوں قانون اور قواعد کی پابندی کریں۔ پھر صفائی کا خیال رکھیں، ٹائیلٹس کی صفائی ہے، دوسری صفائی ہے۔ یہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔ یہاں اس جلسہ گاہ میں تو عارضی انتظام ہے اس لئے خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ صفائی بھی اور جتنی ہم ہر بات میں توجہ دیں گے ہمارے لئے آئندہ آسانیاں پیدا کرے گی اور جتنی گندگی پھیلائیں گے اتنی مشکلات پیدا ہوں گی۔
سوال: جو اللہ تعالیٰ کی خاطر جلسہ کے لئے سفر اختیار کرے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر یک صاحب جو اس للّہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں، خداتعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم ّو غم دور فرما وے اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھا وے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔ اے خدا! اے ذُوالْمَجْدِ وَالْعَطَا اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔ آمین ثم آمین۔