اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-30

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ22؍نومبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال: بیعت رضوان کے بارے میںحضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب بیعت ہورہی تھی آنحضرت ﷺنے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگروہ یہاں ہوتا تواس مقدس سودے میں کسی سے پیچھے نہ رہتا، لیکن اس وقت وہ خدا اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے۔
سوال: حضرت عثمانؓکی شہادت کی خبر اور بیعت رضوان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عثمانؓکی شہادت کی خبر اور بیعت رضوان کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی فرمایا ہے۔ آپ اپنی ایک تقریر میں بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے صحابہؓ کو جمع کیاجب حضرت عثمان کے واقعہ کی اطلاع ملی اور فرمایا سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے۔ تم نے سنا ہے کہ عثمانؓکو مکہ والوں نے مار دیا ہے۔ اگر یہ خبر درست نکلی تو ہم بزور مکہ میں داخل ہوں گے (یعنی ہمارا پہلا ارادہ کہ صلح کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے جن حالات کے ماتحت تھا وہ چونکہ تبدیل ہو جائیں گے اِس لیے ہم اِس ارادہ کے پابند نہ رہیں گے) جو لوگ یہ عہد کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا پڑا تو یا ہم فتح کر کے لوٹیں گے یا ایک ایک کر کے میدان میں مارے جائیں گے وہ اس عہد پر میری بیعت کریں۔ آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پندرہ سو زائر جو آپ کے ساتھ آیا تھا یکدم پندرہ سو سپاہی کی شکل میں بدل گیا اور دیوانہ وار ایک دوسرے پر پھاندتے ہوئے انہو ں نے رسول اللہ ﷺکے ہاتھ پر دوسروں سے پہلے بیعت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیعت تمام اسلامی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور درخت کا عہد نامہ کہلاتی ہے کیونکہ جس وقت بیعت لی گئی اس وقت رسول کریم ﷺایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔
سوال: جب قبیلہ خُزَاعہ کا ایک نامور رئیس بُدَیل بن وَرْقَاء نامی سے رسول کریم ﷺکو عرض کیا کہ مکہ کے رؤساء جنگ کے لیے تیار کھڑے ہیں اور وہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے تو رسول کریم ﷺنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیںاور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کر رکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اورمَیں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لیے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کرکے مجھے دوسرے لوگوں کے لیے آزاد چھوڑ دیں۔ لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی ردّ کر دیا اور بہر صورت جنگ کی آگ کوبھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر مَیں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہو جائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔
سوال:عروہ پر حضرت ابوبکر ؓ کا کیا احسان تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کسی زمانے میں عُرْوَہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا احسان بھی تھا۔ اس کے بارے میں لکھا ہے کہ عُرْوَہ نے دیت ادا کرنے کے لیے تعاون مانگا تھا۔ کسی کو قتل کر دیا تھا اس کی دیت دینی تھی۔ تعاون مانگا تو کسی آدمی نے دو اور کسی نے تین اونٹ دے کر تعاون کیاجبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دس اونٹ دے کر تعاون کیا۔ یہ احسان تھا جو حضرت ابوبکرؓ نے عُرْوَہ پر کیا تھا۔
سوال:عُرْوَہ نے قریش کو آنحضرت ﷺکی شخصیت کے بارے میں کیا کہا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:عُرْوَہ قریش کے پاس آیا اور کہنے لگااے میرے لوگو!میں سفارت کے لیے بادشاہوں کے درباروں میں،قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ اللہ کی قَسم !میں نے کبھی کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کی ایسی اطاعت کی جائے جیسی محمد ﷺکی اطاعت گزاری اس کے صحابہؓ میں ہوتی ہے۔
سوال:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صلح حدیبیہ کے واقعات کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :رسول کریم ﷺ جب خانہ کعبہ کے طواف کے لیے تشریف لے گئے توکفارِ مکہ نے خبر پاکر اپنے ایک سردار کو آپ کی طرف روانہ کیا کہ وہ جا
کر کہے کہ اس سال آپ طواف کے لیے نہ آئیں۔ وہ سردار آپ کے پاس پہنچا اور بات چیت کرنے لگا۔ بات کرتے وقت اس نے آپ کی ریشِ مبارک کو ہاتھ لگایا کہ آپ اس دفعہ طواف نہ کریں اور کسی اگلے سال پرملتوی کر دیں۔ایشیا کے لوگوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی سے بات منوانا چاہتے ہوں تو منت کے طور پر دوسرے کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں یا اپنی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں کہ دیکھو! میں بزرگ ہوں اور قوم کا سردار ہوں میری بات مان جاؤ۔ چنانچہ اس سردار نے بھی منت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔ یہ دیکھ کر ایک صحابی آگے بڑھے اور اپنی تلوار کا ہتھہ مار کر سردار سے کہا: اپنے ناپاک ہاتھ پیچھے ہٹاؤ۔ سردار نے تلوار کا ہتھہ مارنے والے کو پہچان کر کہا تم وہی ہو جس پر میں نے فلاں موقع پر احسان کیا تھا۔ یہ سن کر وہ صحابی خاموش ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ سردار نے پھر منت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سردار کے اس طرح ہاتھ لگانے پر سخت غصہ آرہا تھا مگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا شخص نظر نہ آتا تھا جس پر اس سردار کا احسان نہ ہواور اس وقت ہمارا دل چاہتا تھا کہ کاش! ہم میں سے کوئی ایسا شخص ہوتا جس پر اس سردار کا کوئی احسان نہ ہو۔اتنے میں ایک شخص ہم میں سے آگے بڑھا جو سر سے پاؤں تک خَوداور زِرہ میں لپٹا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ سردار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ ہٹا لو اپنا ناپاک ہاتھ۔ یہ حضرت ابوبکرؓ تھے جنہوں نے یہ کہا۔ سردار نے جب ان کو پہچانا تو کہا ہاں میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے۔
سوال: سفر حدیبیہ میں حضرت کَعْب بن عُجْرَہ کے لیے احرام میں سر منڈوانے کی رخصت کاکیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سفر میںحضرت کَعْب بن عُجْرَہ کے لیے احرام میں سر منڈوانے کی رخصت کا ذکر ملتا ہے۔ اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ حضرت کَعْب بن عُجْرَہ سے روایت ہے کہ ہم حُدَیْبِیہ مقام میں رسول اللہ ﷺکے ہمراہ تھے۔ ہم حالتِ احرام میں تھے۔ مشرکین نے ہمارا محاصرہ کر رکھا تھا۔ میرے بال لمبے تھے، جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔ آپؐمیرے پاس سے گزرے۔ آپؐنے فرمایا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا یہ میرا گمان نہ تھا کہ تمہاری یہ اذیت اس قدر زیادہ ہو جائے گی۔ آپ نے مجھے سر منڈوانے کا حکم دیا کہ تم پہلے ہی سر منڈوا سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ (البقرہ:197) پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو کچھ روزوں کی صورت میں یا صدقہ دے کر یا قربانی پیش کر کے فدیہ دینا ہو گا۔ ایسی حالت میں، تکلیف کی صورت میں یہ کیا جا سکتا ہے، سر منڈوایا جا سکتا ہے۔
سوال: حضرت خِرَاشْ بن اُمَیَّہ ؓکو قریش کی طرف بھیجنے کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضور انور نے فرمایا:حضرت خِرَاشْ بن اُمَیَّہ ؓکو قریش کی طرف بھیجنے کا ذکر ملتا ہے۔ محمد بن اسحاق نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے اونٹ پر حضرت خِرَاش بن اُمَیَّہ کو قریش کی طرف بھیجا۔ اس اونٹ کا نام ثَعْلَب تھا تا کہ قریش کے لوگوں تک وہ پیغام پہنچا دیں جس کے لیے وہ آئے ہیں تو عکرمہ بن ابی جہل نے اونٹ کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عِکْرِمہ نے اس نمائندے کے قتل کا بھی ارادہ کیا لیکن احابیش نے روک دیا تو انہوں نے حضرت خِراش کو جانے دیا اور وہ رسول اللہ ﷺکے پاس واپس آ گئے اور جو اُن کے ساتھ ہوا تھا وہ رسول اللہ ﷺکو بتا دیا۔
ض ژ ض