سوال: جلسہ میں ڈیوٹی دینے والے کارکنان حضور انور سے کیا دعائیہ درخواست کرتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بہت سارے کارکنان دعا کے لئے کہتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہمارے سپرد جو کام ہوا ہے ہم احسن رنگ میں اسے سر انجام دے سکیں اور کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو مہمانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو یا جلسے کے انتظام میں خرابی کا باعث ہو یا انتظامیہ کے لئے پریشانی کا موجب بنے یا مجھے لکھتے ہیں کہ آپ کے لئے کسی قسم کی تکلیف کا باعث ہو۔
سوال: جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی میں کوئی بھی خلل یا کوئی بھی تکلیف ہو تو سب سے زیادہ کس کو تکلیف ہوگی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ظاہر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی میں کوئی بھی خلل یا کوئی بھی خرابی یا ان کے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہونے سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا احساس ہو گا اور ہونا چاہئے کیونکہ U.K کے جلسے کا تصور خود بخود غیر محسوس طور پر مرکزی جلسے کا ہو گیا ہے۔
سوال: حضور انور نے کارکنان کو کس بات کی طرف توجہ دلائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مجھے بعض مہمانوں کا علم ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو یاتو بڑی توقعات رکھتے ہیں یا طبعاً اتنے حسّاس ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے کسی بھی کارکن یا میزبان کی طرف سے ذرا سی بھی اونچ نیچ نہیں ہونی چاہئے۔ بعض مہمان غلطی پر ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ایک کارکن کا، ایک میزبان کا کام یہ ہے کہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہرحال میں مہمان کا خیال رکھے اور اسے کسی بھی قسم کی ناراضگی کا موقع نہ دے، گو کہ بعض صورتوں میں یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن جب آپ نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر ظاہر ہے کہ قربانی بھی کرنی پڑے گی اور جب اپنے جذبات کی قربانی کرتے ہوئے اس مشکل کام کو سر انجام دیں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ ثواب کے حقدار ٹھہریں گے۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی مہمان نوازی کا کیا نمونہ پیش کرتے ہوئے حضور انور نے احباب جماعت کو کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہم تو اس نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں جس نے مہمان نوازی کے ایسے اعلیٰ معیار قائم فرمائے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کیااعلیٰ معیار تھے۔ آپؐکی برداشت اور بلند حوصلگی کا مقابلہ ہی نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لئے اسوہ ٔحسنہ ہیں۔ جب آپؐاپنی امت کو نصیحت کرتے تھے یا اپنے ماننے والوں یا صحابہ کو نصیحت کرتے تھے یا جو نصیحت ہمیں آپؐنے کی ہے، اس کے اعلیٰ نمونے بھی آپؐنے دکھائے ہیں۔ دیکھیں جب ایک مہمان آتا ہے، غیر مسلم ہے، سوتا ہے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے یا کسی وجہ سے رات کو اپنے پر کنٹرول نہیں رہا یا شرارتاً بستر گندہ کرکے چلا گیا توآپؐنے برا نہیں منایا بلکہ صبح جب جا کے دیکھا تو خود ہی اس کو دھونے لگے۔
سوال: اگر کسی مہمان کی طبیعت میں تیزی ہے تو میزبان کو اس کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نےکارکنان کو فرمایا:اگر کسی مہمان کی طبیعت کی تیزی کی وجہ سے اس کے منہ سے کوئی سخت قسم کے الفاظ نکل جاتے ہیں یا وہ سخت الفاظ استعمال کر لیتا ہے تو کارکنان کو ہمیشہ درگزر سے کام لینا چاہئے اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان کی باتوں کا برا نہیں منانا چاہئے کیونکہ اس سے پھر مزید بدمزگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہر احمدی سے ہونا چاہئے، چاہے وہ مہمان ہو یا میزبان ہو، مرد ہو یا عورت ہو لیکن ہر دوسرے کا فعل اس کے ساتھ ہے۔ آپ جو کارکنان ہیں، میں آپ سے اس وقت مخاطب ہوں۔ مہمانوں کو تو نصیحت میں بعد میں کروں گا کہ آپ لوگوں کو ان دنوں میں بہت زیادہ وسیع حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اچھے اخلاق کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہئے۔
سوال: لوگوں سے کس طرح پیش آنے کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے قُوْلُوْالِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ: 84) یعنی لوگوں سے نرمی سے بات کیا کرو۔ تو یہ بات جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے، اخلاق کو قائم کرنے کا ایک گُر ہے۔ یہ صرف خاص حالات کے لئے ہی نہیں ہے اور صرف خاص لوگوں سے ہی متعلق نہیں ہے بلکہ ہر وقت ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔
سوال: رسول ﷺ نے حسن سلوک کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول ﷺنے فرمایا: مَا مِنْ شَیْئٍ یُوْضَعُ فِی الْمِیْزَانِ اَثْقَلَ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِکہ میزان میں حسن خُلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے اور اچھے اخلاق کا مالک ان کی وجہ سے صوم و صلوٰۃ کے پابند کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺکے حسن اخلاق کا معیار کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک صحابی عبداللہؓ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے زیادہ کسی کو تبسم فرمانے والا نہیں پایا۔کسی کا اتنا ہنستا مسکراتا چہرہ نہیں دیکھاجتنا آنحضرت ﷺکا تھا۔ تو یہ ہیں معیار ہمارے پیارے نبی ﷺکے۔ پھر آپؐنے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم کیا گیا وہ خیر سے بھی محروم کیا گیا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مہمان کے نازک جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔
سوال: جلسہ کے ہر ایک مہمان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک موقع پر کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا : دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہواور بعض کو نہیں۔ اس لئے مناسب ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔
سوال:افسران صیغہ جات کو حضور انور نے کیا نصیحت کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: افسران صیغہ جات بھی یاد رکھیں کہ وہ اس افسری کے ذریعہ سے قوم کی خدمت پر مامور کئے گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنے کام کا جائزہ لینا ہے وہاں تربیتی لحاظ سے اپنے کارکنان کا بھی جائزہ لیتے رہنا ہے اور ہر وقت یہ کوشش کرنی ہے کہ مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہوں اور دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اپنے کام انجام دینے والے ہوں۔
سوال: حضور انور نے شعبہ مہمان نوازی اور خوراک والوں کو کس طرف توجہ دلائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: شعبہ مہمان نوازی اور خوراک والے یہ بات پلّے باندھ لیں کہ کسی مہمان کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ فلاں مہمان کو زیادہ پوچھا گیا اور فلاں کو کم یا فلاں کے لئے بیٹھنے کے لئے زیادہ بہتر جگہیں تھیں اور فلاں کے لئے کم۔ ٹھیک ہے بعض جگہیں بنائی جاتی ہیں، بعضوں کا تقاضا ہے، مریضوں کے لئے، بیماروں کے لئے یا ایسے مہمانوں کے لئے جو کسی خاص ملک کے نمائندے ہیں اور ان کو وہاں زبان کی وجہ سے بٹھانا پڑتا ہے یا پھر ایسے ہیں جو غیر ہیں وہ آتے ہیں لیکن عمومی طور پر جو مہمان نوازی کا اصول ہے، سب مہمانوں سے ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے۔
٭٭٭