اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-23

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ15؍نومبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال: صلح حدیبیہ کب ہوئی؟
جواب:صلح حدیبیہ ذی القعدہ ۶؍ہجری بمطابق مارچ ۶۲۸ عیسوی کو ہوئی۔ اسے غزوہ حدیبیہ بھی کہا جاتا ہے۔
سوال: غزوہ حدیبیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پون سی سورت نازل فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوہ حدیبیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پوری سورت، سورۃ الفتح نازل فرمائی۔ اس سورت کی ابتدائی آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یقیناً ہم نے تجھےکھلی کھلی فتح عطا کی ہے تاکہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش کو بخش دے اور تجھ پر اپنی نعمت کو کمال تک پہنچائے، اور تجھے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے اور اللہ تیری وہ نصرت کرے جو عزت اور غلبے والی نصرت ہو۔
سوال: حدیبیہ کس کا نام تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حدیبیہ ايک کنویں کا نام تھا، جو آغازِ اسلام ميں مسافروں اور حجاج کے کام آتا تھا، لیکن یہاںکوئی آبادی نہیںتھی۔
سوال: حدیبیہ مکّے سے کتنے فاصلے پر واقع ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ مقام مکّے سے ایک مرحلے یعنی نَو میل کے فاصلے پر واقع ہے، مدینے سے مکّے کا فاصلہ تقریباً ۲۵۰؍میل ہے، اس طرح مدینے سے حدیبیہ کا فاصلہ ۲۴۱؍میل بنتا ہے۔ حدیبیہ حرمِ مکّہ کی مغربی حد ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺنے کس خواب کی بنا پر سفر حدیبیہ اختیار کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:روایات اور تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرتﷺ نےایک خواب کی بِنا پر سفرِ حدیبیہ اختیار کیا تھا۔آپؐکو خواب میں دکھایا گیا کہ آپؐاپنے صحابہؓ کے ساتھ امن کی حالت میں اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو کترواتے ہوئے مکّے میں داخل ہوئے ہیں اور یہ کہ آپؐبیت اللہ میں داخل ہوئے ہیں اور اس کی چابی لے لی ہے اور میدانِ عرفات میں وقوف کرنے والوں کے ساتھ وقوف کیا۔ اس خواب کی بنا پر آپؐنے اہلِ عرب اور ارد گرد کے بادیہ نشین لوگوں کو بلایا تاکہ وہ بھی آپؐکے ساتھ نکلیں۔ اس سفر میں مسلمانوں کے پاس سوائے نیاموں میں بند تلواروں کے اور کوئی اسلحہ نہ تھا۔ تلوار اس زمانے میں گھر سے نکلتے ہوئے ہر شخص اپنے پاس رکھا کرتا تھا اور یہ ضروری نہ تھا کہ جس کے پاس تلوار ہے وہ ضرور جنگ کرے گا۔
سوال: جب حضرت عمر نے رسول کریم ﷺ سے ہتھیار ساتھ نہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو آپؐنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عمرؓ نے ہتھیار ساتھ نہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کیونکہ مَیں عمرے کی نیّت سے جا رہا ہوں اس لیے مَیں نہیں چاہتا کہ ہتھیار اپنے ساتھ رکھوں۔
سوال: آنحضرت ﷺنے اس خواب کے دیکھنے کے بعد صحابہؓ کو کیا تحریک فرمائی؟
جواب:حضور انور نےفرمایا:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓآنحضرتﷺ کے اس خواب کا ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ آپؐنے اس خواب کے دیکھنے کے بعد اپنے صحابہ ؓکو تحریک فرمائی کہ وہ عمرے کے لیے تیاری کرلیں۔
سوال:غزوہ حدیبیہ میں مسلمانوں کی کتنی تعداد تھی؟
جواب:حضورانورنےفرمایا:غزوہ حدیبیہ میں مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سےمختلف روایات ملتی ہیں جن میں یہ تعداد ایک ہزار سے لے کر سترہ سَو تک بیان کی گئی ہے۔
سوال: سفر حدیبیہ میں آنحضرتﷺ کی کون سی زوجہ ساتھ تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سفرِ حدیبیہ میں آپؐکی زوجہ حضرت امِ سلمہؓآپؐکے ساتھ تھیں۔
سوال: آنحضرتﷺ نے حدیبیہ کا سفر کب شروع کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایاـ:آپؐذوالقعدہ کے شروع میں بروز پِیر روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں ظہر کی نماز ادا کی۔
سوال: سفر حدیبیہ میں جانوروں کی تعداد کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قربانی کے جانور منگوائے جن کی تعداد ستّر تھی، انہیں گانیاں یعنی ہار پہنائے۔ پھر اونٹوں کے کوہانوں پر نشان لگائے۔ باقی جانوروں پر ایک صحابی حضرت ناجیہ ؓنے نشان لگائے۔ اس سفر میں مسلمانوں کے پاس دو سَو گھوڑے تھے۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے قریش کے حالات کا علم کرنے کیلئے کس کو بھیجا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نبی کریمﷺ نے قریش کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لیےایک خبر رساں کو آگے بھیجا اور مزید احتیاط کے طور پر بیس سواروں کی ایک اور جماعت کو بھی آگے بھیجا۔ روحہ مقام پر پہنچ کر آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں مشرکین ہیں اور وہ اچانک حملہ کر سکتے ہیں، اس اطلاع کے ملنےپر آپؐنے حضرت ابو قتادہ انصاریؓکو صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا۔
سوال: آنحضرت ﷺجب حدیبیہ کی گھاٹی میں پہنچے تو آپؐکی اونٹنی کون سے مقام پر بیٹھ گئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرتﷺ جب حدیبیہ کی گھاٹی میں پہنچے تو آپؐکی اونٹنی قصویٰ بیٹھ گئی اور باوجود کوشش کےنہ چلی۔
سوال: جب لوگوں نے کہا کہ قصویٰ اڑ گئی ہے تو رسول کریم ﷺ نے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: لوگوں نے کہا کہ قصویٰ اڑ گئی ہے آنحضورﷺ نے فرمایا کہ قصویٰ اڑی نہیں اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ ہاتھیوں کو روکنے والی پاک ذات یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو روک دیا ہے۔
سوال: سفر حدیبیہ میں پانی کے کونسے معجزےکا رسول کریمﷺ نے ذکر کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس سفر کے دوران لوگ آنحضرتﷺ کے سامنے جمع ہوگئے جبکہ آپؐکے سامنے ایک پانی کا برتن تھااور آپ اس سے وضو کر رہے تھے۔ آپؐنے پوچھا کیا بات ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپؐکے پاس جو اس برتن میں پانی ہے اس کے علاوہ ہم میں سے کسی کے پاس نہ پینے کے لیے پانی ہے اور نہ وضو کرنے کے لیے پانی ہے۔ آپؐنے یہ سن کر اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور اسی وقت آپؐکی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی کے فوّارے پھوٹنے لگے۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں کہ ہم نے وہ پانی پیا اور وضو کیا اور اگر ہم تعداد میں ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا۔
سوال: حقیقی توحید کسے کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حقیقی توحید یہ ہے کہ باوجود درمیانی اسباب کے، انسان کی نظر اس وراء الوراء ہستی کی طرف سے غافل نہ ہو جواس کارخانہ عالم کی علت العلل ہے اور جس کے بغیر یہ ظاہری اسباب ایک مردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام معجزات کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام معجزات کے حوالے سے فرماتے ہیںکہ درجہ لقاء میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقتوں کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرتﷺ نے دکھلائے، جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔
ض ژ ض