اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ14؍جولائی 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: خلافت ثانیہ کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی کس طرح مدد و نصرت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: خلافت ثانیہ کے وقت میں ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی کس طرح مدد و نصرت فرمائی۔ اندرونی اور بیرونی مخالفین کی کوششوں اور خواہشوں کو پامال کرکے احمدیت کی کشتی کو اس بالکل نوجوان لیکن اولوالعزم پسرِ موعود کی قیادت میں آگے بڑھاتا چلا گیا اور جماعت کو ترقیات پر ترقیات دیتا چلا گیا۔ اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت کی وجہ سے احمدیت کا جھنڈا خلافت ثانیہ میں لہرایا گیا۔
سوال: خلافت ثالثہ کے انتہائی سخت دور میں اللہ
تعالیٰ نے احباب جماعت کی کس طرح مدد فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: خلافت ثالثہ میں انتہائی سخت دور آیا اور دشمن نے جماعت کو، افراد جماعت کو مایوس اور مفلوج کرنے کی کوشش کی اور اپنے زُعم میں جماعت کے ہاتھ کاٹ دئیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت و فضل سے جماعت کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ یہ قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیابلکہ ایک دنیا نے دیکھا کہ مخالفین کے نہ صرف ہاتھ کٹے بلکہ گردنیں بھی اڑا دی گئیں اور یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہیں۔ پھر خلافت رابعہ کے دَور میں مخالفین نے خیال کیا کہ اب ہم نے ایسا داؤ استعمال کیا ہے یا مخالفین کے ایک سرغنے نے خیال
کیا کہ اب مَیں نے ایسا داؤاستعمال کیا ہے کہ اب جماعت احمدیہ ہر طرف سے بندھ گئی ہے، اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے اور یہ اپنی موت آپ مر جائے گی۔ لیکن جیسا کہ بے شمار الہامات سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ مَیں تیری مدد کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس خلیفۂ راشد کی بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور دشمن اپنی تمام تر تدبیروں اور مکروں کے باوجود نظام خلافت کو مفلوج اور ختم کرنے میں ناکام و نامراد ہوا۔ بلکہ اپنے وعدے کے مطابق کہ’’مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کس طرح مخالفین کا منہ بند کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد مخالفین اس امید
پر تھے کہ شاید اب یہ انتہا ہو چکی ہے اس لئے شاید اب جماعت کا زوال شروع ہو جائے لیکن بے وقوفوں کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کیا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس مسیح الزمان کو اپنی تائید و نصرت کے وعدوں کے ساتھ اس زمانے میں بھیجا ہے وہ نصرت نہ مخالفین کی خواہشوں سے ختم ہونی ہے، نہ ان کی کوششوں سے ختم ہونی ہے، انشاء اللہ۔ اور نہ کسی وقت یا کسی خاص فرد کے ساتھ یہ نصرت وابستہ ہے۔ یہ نصرت کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیاری جماعت سے وابستہ ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس میں روک نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے وعدے ہر قدم پر، ہر روز ہم دیکھتے ہیں۔ اس طرح جماعتی لحاظ سے اللہ تعالیٰ سارا سال اور ہر روز جو نصرت ہمیں دکھاتا ہے۔
سوال:مولانا محمد صادق صاحب کا کون سا واقعہ حضور انور نے بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مولانا محمد صادق صاحب انڈونیشیا کا اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ پاڈانگ شہرمیں چوہدری رحمت علی صاحب مرحوم ایک احمدی درزی مکرم محمد یوسف صاحب کی دکان پر بیٹھے تھے کہ ہالینڈ کے ایک عیسائی بشپ پادری اپنے ساتھیوں سمیت تبلیغ کرتے ہوئے وہاں آ نکلے اور مولانا صاحب سے ان کا اسلام اور عیسائیت پر تبادلہ خیالات شروع ہو گیا جسے سننے کے لئے لوگ بکثرت وہاں جمع ہو گئے۔ اسی اثناء میں موسلادھار بارش ہونے لگی۔ اس علاقہ میں جب بارش شروع ہوتو کئی کئی گھنٹے رہتی ہے۔ تو بحث کرنے کے بعد جب وہ پادری صاحب دلائل کا مقابلہ نہ کر سکے اور عاجز آ گئے تو اپنی شکست اور ناکامی پر پر دہ ڈالنے کے لئے حضرت مولانا صاحب کو انہوں نے کہا کہ اگر واقعی عیسائیت کے مقابلہ میں تمہارا مذہب اسلام سچا اور افضل ہے تو اس وقت ذرا اپنے اسلام کے خدا سے کہئے کہ وہ اپنی قدرت کا کرشمہ دکھائے اور اس موسلادھار بارش کو یکدم بند کر دے۔ چنانچہ اس کا یہ مطالبہ کرنا ہی تھا کہ مولانا صاحب نے بلا حیل و حجت اپنے زندہ خدا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے بڑی پر اعتماد آواز میں بارش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ اے بارش! تو اس وقت خدا کے حکم سے تھم جا اور اسلام کے زندہ اور سچے خدا کا ثبوت دے۔ کہتے ہیں کہ اسلام کے خدا پر قربان جائیے کہ اس کے بعد چند منٹ بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ بارش تھم گئی اور وہ پادری اور سب حاضرین اللہ کے عظیم نشان پر بڑے حیران رہ گئے، انگشت بدنداں رہ گئے۔
سوال:حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ کا کون سا واقعہ حضور انور نے بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ ایک جگہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَیں ایک دفعہ موضع گڈھو گیا۔مَیں نے یہاں کے بعض آدمیوں کو احمدیت کی تبلیغ کی اور واپسی پر اس موضع کی ایک مسجدکے برآمدے میں اپنی ایک پنجابی نظم کے کچھ اشعار جو سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ کی آمد سے متعلق تھے لکھ دئیے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت گاؤں کے نمبردار چوہدری اللہ بخش تھے وہ کہیں مسجد کے غسلخانے میں طہارت کر رہا تھا۔ اس نے مجھے مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا اور راستہ میں وہاں کے امام مسجد مولوی کلیم اللہ نے بھی مجھے دیکھا۔ جب دونوں آپس میں ملے تو انہوں نے میرے جنون احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے مسجد کے برآمدے میں ان اشعار کو پڑھا۔ اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ اب ہماری مسجد اس مرزائی نے پلید کر دی ہے یہ تجویز کیا کہ سات مضبوط جوانوں کو میرے پیچھے دوڑایا جائے جو میری مشکیں باندھ کر، پکڑ کر ان کے پاس لے آئیں۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ میرے ہاتھوں ہی میرے لکھے ہوئے اشعار کو مٹوا کر مجھے قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سات جوانوں کو میرے پیچھے دوڑایا مگر اس زمانے میں مَیں بہت تیز چلنے والا تھا اس لئے مَیں ان جوانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے گاؤں آ گیا اور وہ خائب و خاسر ناکام لوٹ گئے۔ تو دوسرے دن اسی گاؤں کا ایک باشندہ جو والد صاحب کا مرید تھا اور ان لوگوں کے بد ارادوں سے واقف تھا صبح ہوتے ہی ان کی(یعنی ان کے والد صاحب کی) خدمت میں حاضر ہوا۔ اور سار اماجرا کہہ سنایا۔ والد صاحب نے یہ سننے کے بعد مجھ سے کہا کہ جب ان لوگوں کے تمہارے متعلق ایسے ارادے ہیں تو احتیاط کرنی چاہئے۔ جب مَیں نے اپنے والد صاحب سے یہ سنا تو وضو کرکے نماز شروع کر دی اور اپنے مولیٰ کریم سے عرض کیا کہ یہ لوگ مجھے تیرے پیارے مسیح کی تبلیغ سے روک دیں گے؟ اور کیا مَیں اس تبلیغ کرنے سے محروم رہوں گا؟۔ یہ دعا مَیں بڑے اضطراب اور قلق سے مانگ رہا تھا کہ مجھے جائے نماز پر ہی غنودگی سی محسوس ہوئی اور مَیں سو گیا اور سونے کے ساتھ ہی میرا غریب نواز خدا مجھ سے ہمکلام ہوا اور نہایت رأفت اور رحمت سے فرمانے لگا وہ کون ہے جو تجھے تبلیغ سے روکنے والا ہے۔ اللہ بخش نمبردار کو مَیں آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈال دوں گا۔ صبح ہوتے ہی مَیں ناشتہ کرکے اس گاؤں میں پہنچا اور جاتے ہی اللہ بخش نمبردار کا پتہ پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ کیا بات ہے؟ مَیں نے کہا اس کے لئے ایک الٰہی پیغام لایا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ بخش آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈالا جائے گا اور کوئی نہیں جو اس خدائی تقدیر کو ٹال سکے۔ تو کہنے لگے کہ وہ تو موضع لالہ چک جو گجرات سے مشرق کی طرف کچھ فاصلے پرہے وہاں گیا ہوا ہے۔ مَیں نے پھر کہا کہ تم لوگ گواہ رہنا کہ وہ آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈالا جائے گا۔ کوئی نہیں جو اس تقدیر کو ٹال سکے۔ یہ پیغام سنتے ہی وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان پر سنّاٹا چھا گیا اور پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی اللہ بخش بیمار ہوا، خونی اسہال ہوئے اور سینے میں درد وغیرہ ہوئی۔ وہاں لالہ چک میں بیمار ہو گیا اور چند دن میں یہ بیماری اتنی بڑھی کہ اس کے رشتہ دار اس کو گجرات ہسپتال لے کر گئے اور وہاں جا کے وہ ٹھیک گیارہویں دن اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے موضع گڈھو کا قبرستان بھی اسے نصیب نہ ہوا۔
٭٭٭