اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ08؍نومبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے تحریک جدید کے کون سے سال کے آغاز کا اعلان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے تحریکِ جدید کے اکانوے ویں (۹۱) سال کے آغاز کا اعلان فرمایا۔
سوال: پچھلے سال سے اس سان تحریک جدید کے چندہ میں کتنا اضافہ ہوا؟
جواب:حضور انور نےفرمایا:گذشتہ سال کے دوران جماعت ہائے احمدیہ عالَم گیر کو تحریکِ جدید میں 17.98 ملین پاؤنڈ مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے میں 7 لاکھ 89 ہزارپاؤنڈ زیادہ ہے۔
سوال: دنیاوی سلطنتیں کس طرح چلتی ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور ایک خلوص کا کام ہے۔
سوال: غریب لوگوں کی مالی قربانیاں اللہ تعالیٰ کی نظر میں کیسی ہوتی ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غریب لوگ تو بہت بڑی قربانی کر کے چندے دیتے ہیں۔ گو ان کی قربانیاں بظاہر مالی لحاظ سے، رقم کے لحاظ سے بہت چھوٹی ہوتی ہیں لیکن وزن کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت بڑی قربانیاں ہیں۔
سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 275 کی تلاوت فرمائی اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی، چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔
سوال: جماعت احمدیہ کے افراد کس طرح مالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جماعت احمدیہ کے افراد اخلاص و وفا کے ساتھ بڑھ چڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیںاور چھپ کر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی قربانی کر رہے ہوتے ہیں بلا اس خوف کے کہ انہیں کوئی مالی تنگی ہو جائے۔
سوال: جماعت احمدیہ کے افراد کی اکثریت لوگوں کی آمدنی کی کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جماعت احمدیہ میں اکثریت تو کم آمدنی والوں کی ہے اور اوسط درجےکے کمانے والوں پر مشتمل ہے ۔
سوال: بعض غریب لوگ کس طرح مالی قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بعض لوگ ایسے ہیں جو بہت بڑی قربانی کرکے بھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر، اپنی خوراک کم کر کے، اپنے بچوں کے اخراجات کم کر کے یہ قربانیاں دیتے ہیں اور ان کو کبھی خیال نہیں آیا یا انہوں نے کبھی یہ اظہار نہیں کیا کہ ہماری یہ قربانیاں ہیں اور ہم پر کیوں اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ہمیں بھی فلاں مقصد کے لیے ضرورت ہے۔ تو اب جبکہ ہمیں ضرورت ہے تو جماعت ہماری مدد کرے۔ کبھی کسی قسم کا احسان نہیں ہوتا۔ ضرورت بھی ہو تو انتہائی جھجک اور عاجزی کے ساتھ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور وہ بھی قرضہ کی صورت میں۔
سوال: چند غریب افراد جماعت نے مالی قربانی کیلئے کیا طرق اختیار کیا ہے؟
جواب: چند غریب افراد جماعت نے مالی قربانی قربانیاں کرنے کے لیے یہ طریق بھی اختیار کیا ہوا ہے کہ مالی قربانیوں کے لیے ایک ڈبہ بنا لیتے ہیں جس میں ہر سال یا ہر وقت جو بھی آمد ہو جب بھی جہاں سے کوئی پیسے آتے ہیں اس میں ڈالتے رہتے ہیں اور اس طرح سال کے آخر میں جمع کر لیتے ہیں۔
سوال: حضرت مصلح موعود ؓ نے جب تحریکِ جدید کی تحریک جاری فرمائی تو آپؓنے احباب جماعت کو کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ
تعالیٰ عنہ نے جب تحریکِ جدید کی تحریک جاری فرمائی تو آپؓنے سادہ زندگی کا مطالبہ کیا تھا اور آپؓنے فرمایا تھا کہ سادہ زندگی کر کے اپنے پیسے جوڑو اور اس کے حساب سے خرچ کرو ۔
سوال: تنزانیہ کے نومبائع عبداللہ صاحب نے چندے کے کیا دو فائدے بیان فرمائے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:تنزانیہ کے امیر صاحب نے لکھا کہ ایک صاحب ہیں۔ نومبائع ہیں عبداللہ صاحب۔ انہوں نے کہا مجھے چندے دینے کے دو فائدے نظر آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے بعد سے میرے رزق میں اضافہ ہو گیا۔ دوسرے میں جب بھی کاروبار کرتا ہوں، ایک دکان چلاتا ہوں۔ میری دکان کی ساری چیزیں فوراً فروخت ہو جاتی ہیں اور جلدی سے پھر میری دکان خالی ہو جاتی ہے۔ پھر نیا مال لے کے آتا ہوں اور اس سے مجھے منافع ہوتا جاتا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کرنے کا نتیجہ ہے۔
سوال:کیرالہ کے ایک صاحب نے چندہ کی برکت کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قادیان کے وکیل المال لکھتے ہیں کہ کیرالہ کے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے بڑے بُرے حالات تھے۔ کوئی کام نہیں مل رہا تھا۔ آخر میں نے سوچا کہ اَور تو کچھ نہیں، کپڑے کا کام شروع کرتا ہوں اور فٹ پاتھ پر ہی ایک میز لگا کر کام شروع کر دیا اور چندے کی ادائیگی باقاعدہ شروع کر دی۔ باقاعدہ حساب کر کے چندہ دیتے تھے۔ جو بھی آمد ہوتی تھی اس میں اللہ کے فضل سے بڑی برکت پڑی اور کہتے ہیں اب میں بڑی بڑی رقمیں چندے میں دیتا ہوں۔ کاروبار بھی دو تین سال میں وسیع ہو گیا۔ جہاں دوسرے لوگوں کے کاروبار متاثر ہو جاتے ہیں حالات کی وجہ سے لیکن ان کے کام میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا رہا اور متاثر نہیں ہوئے۔
سوال: کیلگری کی ایک طالبہ نے اپنے ایمان میں مضبوطی کا کیا ذکر فرمایا؟
جواب:کیلگری میں ایک طالبہ ہے اس نے اپنے ایمان میں مضبوطی کا ذکر اس طرح بیان کیا۔ کہتی ہے مجھے ہر کوئی کہتا تھا کہ پڑھائی کے دوران جاب ملنی مشکل ہے۔ میں نے بہت دعا کی اور تحریکِ جدید کے صف اول کے جو چندہ دینے والے تھے ان میں شامل ہونے کے لیے لکھ دیا جو ایک ہزار یا اس سے زائد ڈالر کا وعدہ ہے۔ کہتی ہیں کہ چندہ دینے کی برکت سے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ تین دن میں جاب مل گئی اور میرا ایک سمسٹر بھی ضائع نہیں ہوا اور مجھے پیسے بھی مل گئے اور لوگ اس بات پر حیران تھے۔
سوال:سینٹرل افریقن ریپبلک کے عیسیٰ صاحب نے چندے کی برکت کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سینٹرل افریقن ریپبلک کے مبلغ انچارج کہتے ہیں: عیسیٰ صاحب نے مجھے بتایا کہ میری زندگی میں بہت سے مسائل تھے۔ گھر کے حالات بھی خراب تھے۔ سوچ رہا تھا کہ جماعت سے قرض کی درخواست کروں۔ ایک دن چندہ تحریکِ جدید اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے حوالے سے تقریر سنی کہ جو اللہ کی خاطر ایک دھیلا دیتا ہے اللہ تعالیٰ دس گنا بڑھا کر واپس کرتا ہے۔ میں نے کہا مَیں بھی یہ تجربہ کر لیتا ہوں۔ اسی روز سے چندے کی ادائیگی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کا ایسا کرنا ہوا کہ ترکی کے ایک تاجر نے جو ڈائمنڈ کا کاروبار کرتا تھا مجھے اپنی کمپنی میں لے لیا اور میرے حالات دن بدن بہتر ہونا شروع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب میں نے اپنا گھر بھی تعمیر کر لیا ہے، سواری بھی، نیا موٹر سائیکل خرید لیا ہے۔ پہلے میرے پاس موٹر سائیکل ٹھیک کرانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔