اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-09

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ07؍جولائی 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: کن چار موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی۔ (1) اوّل وہ موقع جبکہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا۔ (2) دوسرے وہ موقعہ جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا۔ (3) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا۔ (4) وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا۔ (5) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی لی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا مَیں قاتل قرار دیا جاؤں۔ مگر وہ تمام مقدمات میں نامراد رہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو 29 جولائی 1897 میں کون سا خواب دیکھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : 29جولائی 1897ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اَور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور مَیں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔ اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے
مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔ …میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ مَاھٰذَا اِلَّا تَھْدِیْدُالْحُکَّام۔ یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حُکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہو گی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہو اقَدِابْتُلِیَ الْمُوْمِنُوْن ترجمہ: مومنوں پر ایک ابتلاء آیا یعنی بوجہ اس مقدمہ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ۔ یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تا خدا تمہیں جتلاوے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اس کے مامور کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعویٰ بیعت میں جھوٹا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صادق شخص کے متعلق کیا الہام ہوا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا کہ:
صادق آں باشد کہ ایام بلا
مے گزارد با محبت با وفا
یعنی خدا کی نظر میں صادق وہ شخص ہوتا ہے کہ جو بلا کے دنوں کو محبت اور وفا کے ساتھ گزارتا ہے۔
سوال: جب مولوی محمد حسین صاحب نے کرسی مانگی تو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے کیا کہا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب مولوی صاحب نے کرسی مانگی تو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ان کو جھڑک دیا اور کہا کہ تمہیں کرسی نہیں مل سکتی۔ یہ تو رئیس ہیں اور ان کا باپ کرسی نشین تھا اس لئے ہم نے کرسی دی۔ سو جو لوگ میری ذلّت دیکھنے کے لئے آئے تھے ان کا یہ انجام ہوا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک احمدی دوست کو اپنی بریت کی تسلی دیتے ہوئے کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک احمدی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ: یہ آخری ابتلاء ہے جو محمد حسین کی وجہ سے پیش آ گیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے راضی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ مخالفوں نے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے اور خداتعالیٰ کے کام فکر اور عقل سے باہر ہیں۔
سوال: کس طرح عبدالحمید صاحب نے اپنا گناہ قبول کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ نے کس طرح تائید و نصرت فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:اب دیکھو کہ اس بندہ درگاہ کی کیسی صفائی سے بریّت ثابت ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس مقدمہ میں عبدالحمید کے لئے سخت مضر تھا کہ اپنے پہلے بیان کو جھوٹا قرار دیتا۔ کیونکہ اس سے یہ جرم عظیم ثابت ہوتا ہے کہ اس نے دوسرے پر ناحق ترغیب قتل کا الزام لگایا۔ اور ایسا جھوٹ اس سزا کو چاہتا ہے جو مرتکب اقدام قتل کی سزا ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے دوسرے بیان کو جھوٹا قرار دیتا جس میں میری بریّت ظاہر کی تھی تو اس میں قانوناً سزا کم تھی۔ لہٰذا اس کے لئے مفید راہ یہی تھی کہ وہ دوسرے بیان کو جھوٹا کہتا مگر خدانے اس کے منہ سے سچ نکلوا دیا۔ جس طرح زلیخا کے منہ سے حضرت یوسفؑ کے مقابل پر اور ایک مفتری عورت کے منہ سے حضرت موسیٰ ؑ کے مقابل پر سچ نکل گیا تھا۔ سو یہی اعلیٰ درجہ کی بریّت ہے جس کو یوسف اور موسیٰ کے قصّے سے مماثلت ہے۔ اور اسی کی طرف اس الہامی پیشگوئی کا اشارہ تھا کہ بَرَّأَ ہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا۔ کیونکہ یہ قرآن شریف کی وہ آیت ہے جس میں حضرت موسیٰؑ کی بریّت کا حال جتلانا منظور ہے۔ غرض میرے قصّے کو خداتعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ اور حضرت موسیٰؑ کے قصّے سے مشابہت دی اور خود تہمت لگانے والے کے منہ سے نکلوا دیا کہ یہ تہمت جھوٹ ہے۔ پس یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے اور کس قدر عجائب تصرفات الٰہی اس میں جمع ہیں۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔
سوال: 1904ء میں کرم دین کے فوجداری مقدمے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں سفر کی مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں : جب مَیں 1904ء میں کرم دین کے فوجداری مقدمہ کی وجہ سے جہلم میں جا رہا تھا۔ تو راہ میں مجھے الہام ہوا اُرِیْکَ بَرَکَاتٍ مِنْ کُلِّ طَرْفٍ یعنی ہر ایک پہلو سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔ اور یہ الہام اسی وقت تمام جماعت کو سنا دیا گیا بلکہ اخبار الحکم میں درج کرکے شائع کیا گیا۔ اور یہ پیشگوئی اس طرح پرپوری ہوئی کہ جب مَیں جہلم کے قریب پہنچا تو تخمیناً دس ہزار سے زیادہ آدمی ہو گا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا اور تمام سڑک پر آدمی تھے۔ اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے تھے اور پھر ضلع کی کچہری کے ارد گرد اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑ گئے۔ گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دو سو عورت بیعت کرکے اس سلسلے میں داخل ہوئی اور کرم دین کا مقدمہ جو میرے پر تھا خارج کیا گیا۔ اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دئیے اور تحفے پیش کئےاور اس طرح ہم ہر ایک طرف سے برکتوں سے مالا مال ہو کر قادیان میں واپس آئے اور خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے وہ پیشگوئی پوری کی۔
سوال: کرم دین جہلمی کے اس مقدمہ فوجداری کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا پیشگوئی بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :کرم دین جہلمی کے اس مقدمہ فوجداری کی نسبت پیشگوئی ہے جو اس نے جہلم میں مجھ پر دائر کیا تھا۔ جس پیشگوئی کے یہ الفاظ خداتعالیٰ کی طرف سے تھے رَبِّ کُلُّ شَیْ ءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ اور دوسرے الہامات بھی تھے جن میں بریت کا وعدہ تھا۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے اس مقدمہ سے مجھ کو بری کر دیا۔
٭٭٭