اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-09

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ01؍نومبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال: بنو قریظہ کن کن جرائم کے مرتکب تھے؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: بنوقریظہ کسی ایک جرم کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ بے وفائی اور احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے۔ بد عہدی اور غداری کے مرتکب ہوئے۔ بغاوت اور اقدام قتل کے مرتکب ہوئے اور ان جرموں کا ارتکاب انہوں نے ایسے حالات میں کیا جو ایک جرم کو بھیانک سے بھیانک صورت دے سکتے ہیں اور دنیا کی کوئی غیر متعصب عدالت ان کے مقدمہ میں موجبات رعایت کا عنصر نہیں پا سکتی۔
سوال: اگر باغی کو انتہائی سزا نہ دی جائے تو کیا ہوگا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: اگر باغی کو بھی انتہائی سزا نہ دی جاوے تو نظام حکومت بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور شریر اور مفسدہ پرداز لوگوں کو ایسی جرأت حاصل ہو جاتی ہے جو امن عامہ اور رفاہ عام کے لیے سخت مہلک ثابت ہوتی ہے اور یقینا ًایسے حالات میں باغی پر رحم کرنا دراصل ملک پر اور ملک کے امن پسند لوگوں پرظلم کے ہم معنی ہوتا ہے۔
سوال: غزوہ بنو قریظہ میں کتنے مسلمان شہید ہوئے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے جو اپنی مختلف تاریخوں سے تحقیق کی ہے اس کے مطابق وہ لکھتے ہیں کہ’’کم وبیش چار سو آدمی اس دن سعدؓکے فیصلہ کے مطابق قتل کیے گئے اور آنحضرت ﷺنے صحابہ کو حکم دے کران مقتولین کو اپنے انتظام میں دفن کروادیا۔
سوال:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے غزوۂ بنو قریظہ میں قتل ہونے والے یہودیوں کی تعداد پر ہونے والے غیر مسلم مؤرخین کے اعتراضات کے جواب میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے غزوۂ بنو قریظہ میں قتل ہونے والے یہودیوں کی تعداد پر ہونے والے غیر مسلم مؤرخین کے اعتراضات کے جواب میں بیان فرمایا ہے کہ بنوقریظہ کے واقعہ کے متعلق بعض غیر مسلم مؤرخین نے نہایت ناگوار طریقے پر آنحضرت ﷺکے خلاف حملے کیے ہیں اور ان کم وبیش چار سو یہودیوں کی سزائے قتل کی وجہ سے آپ کو ایک نعوذ باللہ ظالم وسفاک فرمانروا کے رنگ میں پیش کیا ہے۔ اس اعتراض کی بناء محض مذہبی تعصب پر واقع ہے جس سے جہاں تک کم از کم اسلام اور بانی اسلام کا تعلق ہے بہت سے مغربی روشنی میں تربیت یافتہ مؤرخ بھی آزاد نہیں ہوسکے۔اس اعتراض کے جواب میں اول تویہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بنوقریظہ کے متعلق جس فیصلہ کو ظالمانہ کہا جاتا ہے وہ سعدؓ بن معاذ کا فیصلہ تھا آنحضرت ﷺکاہرگز نہیں تھا۔ اور جب وہ آپ کا فیصلہ ہی نہیں تھا تو اس کی وجہ سے آپ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ دوم یہ فیصلہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت ہرگز غلط اورظالمانہ نہیں تھا…سوم یہ کہ اس عہد کی وجہ سے جو سعدؓ نے فیصلہ کے اعلان سے قبل آپ سے لیا تھا آپ اس بات کے پابند تھے کہ بہرحال اس کے مطابق عمل کرتے۔ چہارم یہ کہ جب خود مجرموں نے اس فیصلہ کوقبول کیا اور اس پر اعتراض نہیں اٹھایا اور اسے اپنے لیےایک خدائی تقدیر سمجھا جیسا کہ حیی بن اخطب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے جو اس نے قتل کیے جانے کے وقت کہے تو اس صورت میں آپ کا یہ کام نہیں تھا کہ خواہ نخواہ اس میں دخل دینے کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
سوال: سعد ؓکے فیصلے کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا: سعدؓ کافیصلہ گو اپنی ذات میں سخت سمجھا جائے مگر وہ ہرگز عدل وانصاف کے خلاف نہیں تھا اور یقیناًیہود کے جرم کی نوعیت اور مسلمانوں کی حفاظت کا سوال دونوں اسی کے مقتضی تھے کہ یہی فیصلہ ہوتا اور پھر یہ فیصلہ بھی یہودی
شریعت کے عین مطابق تھا بلکہ اس ابتدائی معاہدہ کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ اس کی روسے مسلمان اس بات کے پابند تھے کہ یہود کے متعلق انہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں مگر جو کچھ بھی تھا یہ فیصلہ سعدؓ بن معاذ کا تھا آنحضرت ﷺکا نہیں تھا اور سعدؓ پر ہی اس کی پہلی اور آخری ذمہ داری عائد ہوتی تھی اور آنحضرت ﷺکا تعلق بحیثیت صدر حکومت کے اس سے صرف اس قدر تھا کہ آپ اس فیصلہ کواپنی حکومت کے انتظام کے ماتحت جاری فرماویں۔
سوال: جو معاہدہ آنحضرت ﷺاور یہود کے درمیان ابتدا میں ہوا تھا اس کی ایک شرط رسول کریم ﷺنے کیا بیان کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جو معاہدہ آنحضرت ﷺاور یہود کے درمیان ابتدا میں ہوا تھا اس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر یہود کے متعلق کوئی امر قابلِ تصفیہ پیدا ہو گا تو اس کا فیصلہ خود انہیں کی شریعت کے ماتحت کیا جائے گا۔
سوال: مسٹر مارگولیس صاحب نے غزوہ احزاب کے حملہ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟ـ
جواب: مسٹر مارگولیس صاحب لکھتے ہیں کہ:غزوہ احزاب کاحملہ جس کے متعلق محمدؐ صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ محض خدائی تصرفات کے ماتحت پسپا ہوا وہ بنونضیر ہی
کی اشتعال انگیز کوششوں کا نتیجہ تھا یا کم از کم یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور بنونضیر وہ تھے جنہیں محمدؐ صاحب نے صرف جلاوطن کر دینے پر اکتفا کی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا محمد ؐ صاحب بنوقریظہ کو بھی جلاوطن کر کے اپنے خلاف اشتعال انگیز کوششیں کرنے والوں کی تعداد اورطاقت میں اضافہ کر دیں ؟ دوسری طرف وہ قوم مدینہ میں بھی نہیں رہنے دی جاسکتی تھی جس نے اس طرح برملا طور پر حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا۔ ان کا جلاوطن کرنا غیر محفوظ تھا مگر ان کا مدینہ میں رہنا بھی کم خطرناک نہ تھا۔ پس اس فیصلہ کے بغیرچارہ نہ تھا کہ ان کے قتل کا حکم دیا جاتا۔ پھر یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ مدنظر رکھنی چاہیے کہ بنوقریظہ آنحضرت ﷺکے صرف حلیف اور معاہدہی نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ابتدائی معاہدہ کی رو سے مدینہ میں آپ کی حکومت کوتسلیم کرچکے تھے یاکم از کم آپ کی سوؤرینیٹی [Sovereignty]کو انہوں نے قبول کیا تھا۔ پس ان کی حیثیت صرف ایک غدار حلیف یا معمولی دشمن کی نہیں تھی بلکہ وہ یقیناً باغی بھی تھے اور باغی بھی نہایت خطرناک قسم کے باغی۔ اور باغی کی سزا خصوصاً جنگ کے ایام میں سوائے قتل کے کوئی اور نہیں سمجھی گئی۔
سوال: آنحضرت ﷺیہود کے متعلق کس طرح فیصلہ فرمایا کرتے تھے؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا: آنحضرت ﷺہمیشہ یہود کے متعلق شریعت موسوی کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔