سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 46 کی تلاوت فرمائی:وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِکُمْ۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا وَّکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیْرًا(النسآء:46)
سوال: ہم نے توحید حقیقی اور زندہ خدا کی شناخت کس کے ذریعہ سے حاصل کی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسرآیاہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔
سوال: جو سچے دل سے آنحضرت ﷺکی پیروی کرتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کس طرح نوازتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص اس زمانے میں بھی آنحضرت ﷺکی پیروی کرتا ہے وہ بلاشبہ قبر میں سے اٹھایاجاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صحیحہ صادقہ اس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مددیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفرد انسان ہو جاتا ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺکی پیروی کے نتیجہ میں ہمیں کیا حاصل ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اور آپؑکی جماعت کے ساتھ بھی اپنی نصرت دکھانے کا وعدہ ہے اور جب تک ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہیں گے اور آپؐکے ساتھ سچے تعلق اور عشق کو قائم رکھیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان برکات سے ہمیشہ فیض پہنچاتا رہے گا اور اپنی نصرت کے دروازے بھی ہم پر کھولے گا۔ انشاء اللہ۔
سوال: آنحضرت ﷺنے آخرین کے گروہ کے متعلق کیا پیشگوئی بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے حضرت معاویہ بن مُرّہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول مقبول ﷺنے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد پاتا رہے گا۔ جو بھی انہیں چھوڑے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ خداتعالیٰ کا میری امت سے یہ سلوک قیامت تک جاری رہے گا۔
سوال:دنیا کی بقا اور بہبودی کس کے ساتھ جڑنے پر منبی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آج احمدیوں کا فرض ہے کہ دنیا کو بتائیں کہ ہمارے ساتھ آ جاؤ کہ اسی میں خیر ہے اب اسلام کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جڑنے سے ہی وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مسیح و مہدی سے اپنی نصرت کاوعدہ فرمایا ہے۔
سوال: سورج گرہن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور منجملہ نشانوں کے ایک نشان خسوف وکسوف رمضان میں ہے۔ کیونکہ دارقطنی میں صاف لکھا ہے کہ مہدی موعود کی تصدیق کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نشان ہو گا کہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔ چنانچہ وہ گرہن لگ گیا اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مجھ سے پہلے کوئی اور بھی ایسا مدعی گزرا ہے کہ جس کے دعویٰ کے وقت میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا ہو۔ سو یہ ایک بڑا بھاری نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ظاہر کیا۔
سوال: سورج گرہین کے متعلق رسالہ نورالحق میں حضرت مسیح موعودؑ نے کیا مزید وضاحت بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جیسا کہ تدبر کرنے والے پر پوشیدہ نہیں اور اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو دارقطنی نے امام محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوئے جب سے کہ زمین آسمان پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کی رات کے اوّل میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہو گا۔ اور اسی مہینے کے نصف باقی میں سورج گرہن ہو گا۔
سوال: زلزلوں اور طاعون کے سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یاد رہے کہ مسیح موعود کے وقت میں موتوں کی کثرت ضروری تھی اور زلزلوں اور طاعون کا آنا ایک مقدر امر تھا۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ جو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے دم سے لوگ مریں گے اور جہاں تک مسیح کی نظر جائے گی اس کا قاتلانہ دم اثر کرے گا۔ پس یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس حدیث میں مسیح موعود کو ایک ڈائن قرار دیا گیا ہے جو نظر کے ساتھ ہر ایک کا کلیجہ نکال لے گا۔ بلکہ معنے حدیث کے یہ ہیں کہ اسکے نَفَحَاتِ طَیِّبَات یعنی کلمات اس کے جہاں تک زمین پر شائع ہوں گے تو چونکہ لوگ ان کا انکار کریں گے اور تکذیب سے پیش آئیں گے اور گالیاں دیں گے اس لئے وہ انکار موجب عذاب ہو جائے گا۔ یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ مسیح موعود کا سخت انکار ہو گا جس کی وجہ سے ملک میں مری پڑے گی اور سخت سخت زلزلے آئیں گے اور امن اٹھ جائے گا۔ ورنہ یہ غیر معقول بات ہے کہ خوانخواہ نیکو کار اور نیک چلن آدمیوں پر طرح طرح کے عذاب کی قیامت آوے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانوں میں بھی نادان لوگوں نے ہر ایک نبی کو منحوس قدم سمجھا ہے اور اپنی شامت اعمال ان پر تھاپ دی ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے۔ اور سخت عذاب بغیر نبی کے قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل:16)۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔ …… بغیر قائم ہونے کسی مُرْسَلِ الٰہی کے یہ وبال تم پر کیوں آ گیا جو ہر سال تمہارے دوستوں کو تم سے جدا کرتا اور تمہارے پیاروں کو تم سے علیحدہ کرکے داغ جدائی تمہارے دلوں پر لگاتا ہے۔ آخر کچھ بات تو ہے۔ کیوں تلاش نہیں کرتے۔
ض__ژ __ض