اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-12

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ25؍اکتوبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال:بنو قریظہ کی قیدی عورتوں کے ساتھ رسول کریم ﷺکا کیا سلوک تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بنو قریظہ کی قیدی عورتیں تقسیم ہوئی ہوں یا فروخت کی گئی ہوں اس موقع پر آنحضرت ﷺنے ایک ایسا حکم دیا جو آپ کی وسعتِ رحمت اور عورتوں کے محسن کے طور پر آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ جو بھی کوئی عورت تقسیم کی جائے یا فروخت کی جائے۔ اگر اس کے ساتھ چھوٹا بچہ یا بچی ہو تو اس کو اس کی ماں سے الگ نہ کیا جائے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے اور ایسا ہی اگر دو چھوٹی بہنیں ہوں تو انہیں بھی بالغ ہونے تک جدا نہ کیا جائے۔
سوال: قبیلہ اَوس کی جانب سے بنو قریظہ کی سفارش سننے پر حضرت سعد ؓنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قبیلہ اَوس کی جانب سے بنو قریظہ کی سفارش سننے پر حضرت سعدؓنے فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں۔
سوال:بنوقریظہ کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے حضرت سعدؓکے تشریف لانے پر رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنوقریظہ کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے حضرت سعدؓکے تشریف لانے پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اپنے سردار کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐنے فرمایا کہ اپنے اس بہترین آدمی کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
سوال: حضرت سعدؓنے بنو قریظہ کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت سعدؓنے بنو قریظہ کے متعلق فرمایا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے بالغ مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر دیا جائے اور مال تقسیم کر دیا جائے اور گھر مہاجرین کو دے دیے جائیں نہ کہ انصار کو۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سعد! تمہارا فیصلہ اللہ کے اس فیصلے کے مطابق ہے جو اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اسی فیصلے کے متعلق مجھے فرشتے نے سحری کے وقت بتایا تھا۔
سوال: بنو قریظہ کا محاصرہ کتنے دن رہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنو قریظہ کا یہ محاصرہ کتنے دن رہااس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض روایات دس دن کی ہیں۔ بعض پندرہ دن کی، بعض چودہ دن اور بعض جگہ پچیس دن بیان کیے جاتے ہیں۔
سوال: سعد بن معاذؓکے فیصلہ کی تنفیذ کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سعد بن معاذؓکے فیصلہ کی تنفیذ کے بارے میں مزید لکھا ہے کہ جب حضرت سعدؓنے فیصلہ کر لیا تو رسول اللہ ﷺنو ذوالحجہ بروز جمعرات مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ ایک روایت میں ہے کہ پانچ ذوالحجہ کو واپس آئے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺسات ذوالحجہ کو مدینہ واپس تشریف لائے اور وہ جمعرات کا دن تھا۔ ان قیدیوں کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو مدینہ میں لایا جائے۔ رسول اللہ ﷺکے حکم کے مطابق قیدیوں کو حضرت اسامہ بن زیدؓکے گھر لایا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو حضرت رملہ بنت حارثؓکے گھر لایا گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان سب کو حضرت رملہ بنت حارثؓکے گھر قید کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے کھجوریں لانے کا حکم دیا تو وہ ساری زمین پر بکھیر دی گئیں۔ لوگ بیشمار کھجوریں لے آئے اور یہودی ساری رات وہ بافراغت کھاتے رہے۔ ہتھیار، سامان، کپڑے وغیرہ حضرت رملہ کے گھر لانے کا حکم دیا اور اونٹوں اور بکریوں کو وہیں درختوں کے نیچے چرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
سوال: کعب بن اسد رئیس قریظہ کو میدانِ قتل میں لایا گیا تو آنحضرت ﷺنے اسے اشارۃً مسلمان ہو جانے کی تحریک کی تو اس نے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:کعب بن اسد رئیس قریظہ کو میدانِ قتل میں لایا گیا تو آنحضرت ﷺ نے اسے اشارۃً مسلمان ہو جانے کی تحریک کی۔ اس نے کہا اے ابوالقاسم! میں مسلمان تو ہو جاتا مگر لوگ کہیں گے موت سے ڈر گیا۔ پس مجھے یہودی مذہب پر ہی مرنے دو۔
سوال: یہودی رُفَاعَہ کی معافی کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک یہودی رُفَاعَہ کی معافی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے لکھا ہے کہ ’’ایک اور یہودی رُفَاعَہ نامی تھا اس نے ایک رحم دل مسلمان خاتون کی منت سماجت کر کے اسے اپنی سفارش میں کھڑا کر لیا۔ اور آنحضرت ﷺنے اس مسلمان خاتون کی سفارش پر رفاعہ کوبھی معاف فرما دیا۔ غرض اس وقت جس شخص کی بھی سفارش آپؐکے پاس کی گئی آپ نے اسے فوراً معاف کردیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐسعدؓکے فیصلہ کی وجہ سے مجبور تھے ورنہ آپ کا قلبی میلان ان کے قتل کیے جانے کی طرف نہیں تھا۔
سوال: سعدؓنے بنو قریظہ کے یہودیوں کے متعلق رسول کریم ﷺکوکیا رائے پیش کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سعدؓنے اپنا فیصلہ سنایا کہ’’بنو قریظہ کے مقاتل یعنی جنگجو لوگ قتل کر دئے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئے جائیں۔‘‘
سوال: سعد کے اس فیصلہ پر رسول کریم ﷺ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے یہ فیصلہ سنا تو بے ساختہ فرمایا۔ لَقَدْ حَکَمْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ۔ یعنی ’’تمہارا یہ فیصلہ ایک خدائی تقدیر ہے۔‘‘جو ٹل نہیں سکتی اور ان الفاظ سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ بنوقریظہ کے متعلق یہ فیصلہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ اس میں صاف طورپر خدائی تصرف کام کرتا ہوا نظرآتا ہے اور اس لیے آپ کاجذبہ رحم اسے روک نہیں سکتا اور یہ واقعی درست تھا کیونکہ بنوقریظہ کا ابولبابہ کو اپنے مشورہ کے لیے بلانا اور ابولبابہ کے منہ سے ایک ایسی بات نکل جانا جو سراسر بے بنیاد تھی اور پھر بنوقریظہ کا آنحضرت ﷺکو حکم ماننے سے انکار کرنا اور اس خیال سے کہ قبیلہ اوس کے لوگ ہمارے حلیف ہیں اور ہم سے رعایت کا معاملہ کریں گے سعد بن معاذ رئیس اوس کو اپنا حکم مقرر کرنا۔ پھر سعد کاحق وانصاف کے رستے میں اس قدر پختہ ہو جانا کہ عصبیت اور جتھہ داری کا احساس دل سے بالکل محو ہو جاوے۔ اوربالآخر سعد کااپنے فیصلہ کے اعلان سے قبل آنحضرت ﷺسے اس بات کا پختہ عہد لے لینا کہ بہرحال اس فیصلہ کے مطابق عمل ہو گا۔ یہ ساری باتیں اتفاقی نہیں ہو سکتیں اوریقینا ًان کی تہ میں خدائی تقدیر اپنا کام کر رہی تھی اوریہ فیصلہ خدا کا تھا نہ کہ سعد کا۔
سوال: نُبَاتَہ کے قتل کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:تاریخی روایات کے مطابق عورتوں میں سے صرف نُبَاتَہ کو قتل کیا گیا جو بنو قریظہ کے ایک شخص حَکم کی بیوی تھی اور اس نے ایک مسلمان صحابی حضرت خَلَّادؓ کو جو کہ بنو قریظہ کے قلعہ کی دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے اوپر سے پتھر پھینک کر ماردیا تھا۔ اس قتل کی سزا میں اسے قتل کیا گیا تھا۔ لیکن بعض سیرت نگار اس روایت سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کے نزدیک بنو نضیر یا خیبر کی بعض روایات اس واقعہ کے ساتھ مل جل جانے کی وجہ سے اور بعض دیگر قرائن کی وجہ سے اس عورت کے قتل کا واقعہ درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
ض ژ ض