اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-05

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ23؍جون 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ الصّٰٓفّٰت : 172تا174کی تلاوت فرمائی:وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اور بلاشبہ ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے حق میں ہمارا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ یقینا وہی ہیں جنہیں نصرت عطا کی جائے گی اور یقینا ہمارا لشکر ضرور غالب آنے والا ہے۔
سوال: کن پانچ مواقع آپؐ کی زندگی کے ایسے ہیں جو انتہائی غیر معمولی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر ان سے نکلنا محال تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:یاد رہے کہ پانچ موقعے آنحضرت ﷺکے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔ اگر آنجناب درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔
ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھا لی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔
دوسرا وہ موقعہ تھا جب کہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت ﷺ مع حضرت ابوبکرؓکے چھپے ہوئے تھے۔
تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جبکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺاکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا۔ اور آپؐپر بہت سی تلواریں چلائیں مگر کوئی کار گر نہ ہوئی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔
چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا۔
پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت ﷺکے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔
پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺکا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تما م دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپؐ کے ساتھ تھا۔
سوال: حنین کی جنگ کے بارے میں قرآن کریم میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حنین کی جنگ میں جب مسلمانوں کو اپنی تعداد دیکھ کر یہ خیال ہوا کہ اب ہم بہت بڑی تعداد میں ہو گئے ہیں، بارہ ہزار کا لشکر ہے کون ہم پر غالب آ سکتا ہے۔ کیونکہ اس لشکر میں نئے آنے والے مسلمان بھی شامل تھے لیکن ان نئے آنے والوں میں ایمان کی کمزوری بھی تھی۔ شروع میں ایک حملے کے بعد ایسی حالت پیدا ہوئی کہ شکست کی صورت پیدا ہونی شروع ہو گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدے کے مطابق کہ میرا لشکر ہی غالب آتا ہے اپنی نصرت فرماتے ہوئے ان بدلے ہوئے مخالف حالات کو مسلمانوں کے حق میں بدل دیا۔
سوال: آنحضرت ﷺجب جنگ کرتے ہو کیا دعا کرتے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انسؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺجب جنگ کرتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! تو ہی میرا سہارا ہے اور تو ہی میرا مددگار ہے اور تیری ہی دی ہوئی توفیق سے میں جنگ کر رہا ہوں۔
سوال: قرآن کریم میں جنگ حنین میں مسلمانوں کے نقصان کے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: قرآن کریم میں جنگ حنین میں مسلمانوں کے نقصان کے متعلق فرمایا:لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَارَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ(التوبہ:25) کہ یقینا اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے خاص طورپر حنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں تکبر میں مبتلا کر دیا تھا۔ پس وہ تمہارے کسی کام نہ آ سکی اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔ پھر تم پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ یعنی تمہاری کثرت تعداد یا اس وجہ سے تکبر جو بعض نئے آنے والے مسلمانوں کے دل میں پید اہو گیا تھا یہ کسی کام نہ آ سکا کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، ہم طاقتور ہیں، ہمارے پاس ہتھیار بہت زیادہ ہیں۔
سوال:جب رسول کریم ﷺکو ایک یہودی سردار کی بہن نے بھنی ہوئی ران پر زہر لگا کر دیا تو خدا نے آپ کی کس طرح حفاظت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:روایت میں ذکر آتا ہے کہ ایک یہودی سردار کی بہن نے آپؐکو ایک بھنی ہوئی ران پیش کی اور اس پر اچھی طرح زہر لگا دیا۔ آپؐ صحابہ ؓ کے ساتھ بیٹھ کر اس کو کھانے لگے۔ کچھ صحابہ ؓ نے پہلے بھی کھانا شروع کر دیا۔ لیکن آپؐ نے جب منہ میں لقمہ ڈالا تو فوراً پتہ لگ گیا۔ آپؐنے فوراً کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔ اس یہودیہ کوبلایا گیا۔ تو اس نے تسلیم کیا اور پھر وہ کہنے لگی کہ آپؐکو کس نے بتایا ہے ؟ آپؐنے گوشت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اس نے۔ پھر آپؐنے اس سے پوچھا تمہارا اس سے مقصد کیا تھا۔ تم کیا چاہتی تھی؟ ہمیں کیوں ہلاک کرنا چاہتی تھی؟ تو کہتی ہے کہ میرا خیال تھا کہ اگر آپؐ اللہ کے نبی ہیں، رسول ہیں تو اس زہر سے آپؐکو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس زہر سے محفوظ رکھے گا۔ اور اگر نہیں تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
سوال:حارث بن بدل جب جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺکے مقابلے کے لئے آیا تو اس وقت کیا ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حارث بن بدل نے بیان کیا کہ مَیں جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺکے مقابلے کے لئے آیا۔ آپؐکے سارے صحابہ شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے مگرحضرت عباس بن عبدالمطلب اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہما نہیں بھاگے تھے۔ تو حضورؐنے زمین سے ایک مٹھی لی اور ہمارے چہروں پر پھینک دی تو ہم شکست کھا گئے۔ پس یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ ہر شجر اور حجر ہماری تلاش میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور لشکروں کو مخالفین نے بھی دیکھا۔ ان کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ مسلمانوں کی فوج نہیں لڑ رہی بلکہ کوئی اور لڑ رہاہے۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہے جو فرشتوں کے ذریعے سے حملہ آور ہو رہی ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ تھا کہ آج اس جگہ کی ہر مخلوق ہمارے خلاف ہے۔ مٹی کا ایک ذرہ بھی ہمارے خلاف ہے۔ درخت، پتے اور ہر چیز ہمارے خلاف چل رہی ہے اور جنگ لڑ رہی ہے۔ تو یہ تھے اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے۔