سوال: حضرت مصلح موعودؓنے مسجد فضل کی کیا اہمیت بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا: مَیں یقین رکھتا ہوں کہ یہ رواداری کی روح ہے جو اس مسجد کے ذریعے سے پیدا کی جائے گی دنیا سے فتنہ و فساد دور کرنے اور امن و امان کے قیام میں مدد دے گی اور وہ دن جلد آئیں گے جب لوگ جنگ و جدال کو ترک کر کے محبت اور پیار سے آپس میں رہیں گے۔
سوال: جماعت احمدیہ کی مساجد کس طرح تعمیر ہوتی ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جماعت احمدیہ کی یہ خوبی ہے کہ جماعت کی مساجد لوگوں کے چندوں اور قربانیوں سے تعمیر ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو انگلستان میں بھی جماعت کی قربانی کی وجہ سے درجنوں مسجدیں بن چکی ہیں اور مغربی ممالک میں بھی بےشمار مساجد تعمیر ہو گئی ہیں۔
سوال: لندن میں جماعت احمدیہ کے کون سے پہلے مبلغ تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: چودھری فتح محمد صاحب سیالؓجماعت احمدیہ کے پہلے مبلغ ہیں جو باقاعدہ مبلغ بن کے یہاں آئے اور سب سے پہلا پھل بھی آپ کو ملا جن کا نام مسٹر کوریو تھا جو ایک جرنلسٹ تھے۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد فضل کی تعمیر کیلئے کیا تحریک فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب لندن میں مسجد کی جگہ خریدے جانے کی اطلاع ملی تو اس وقت آپؓڈلہوزی میں تھے۔ آپؓنے وہاں بڑا فنکشن کیا اور پھر وہاں مسجدفضل کے نام سے اس مسجد کا نام بھی معین فرمایا اور اس کے بعد چندے کی تحریک ہوئی تاکہ مسجد کی تعمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم اکٹھی ہو سکے۔
سوال: لندن میں ورود مسعود کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکاکون سا رؤیا کا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں ورودِ مسعود کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو ایک رؤیا پہلے سے دکھلایا گیا تھا کہ وہ سمندر کے کنارے انگلستان کے ایک مقام پر اترے ہیں اور ایک لکڑی کے کُندے پر پاؤں رکھ کر ایک کامیاب جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کر رہے ہیں کہ آواز آئی: ولیم دی کنکرر (William the Conqueror) ۔ گویا انگلستان کی روحانی فتح حضورؓ کے ورودِ انگلستان کے ساتھ مقدر تھی جو اب ظہور میں آئی۔
سوال: مسجد فضل کو کیا تاریخی حیثیت حاصل ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد فضل کی ایک تاریخی حیثیت ہےاس لحاظ سے کہ یہ جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ہے جو عیسائیت کے گڑھ میں بنائی گئی تھی اور پھر یہاں سے اسلام کی حقیقی تعلیم اور تبلیغ لوگوں میں وسیع پیمانے پر شروع ہوئی۔ آج ہمیں ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے لیکن حیرت ہے کہ اس خود کاشتہ پودے کے ذریعہ سے ان لوگوں کی، مغرب میں رہنے والے لوگوں کی مذہب کی کمزوریاں ان کے ممالک میں ظاہر کر کے اسلام کی خوبصورتی کی تبلیغ کی جارہی ہے اور ان اعتراض کرنے والوں کو تو یہ توفیق نہیں ملی کہ اس طرح تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سوال: مسجد فضل کے بارے میںتاریخ میں کیا لکھا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد کے بارے میں تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ اگرچہ ولایت میں تبلیغی سلسلہ جاری ہوتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد کے وجود میں لانے کا خیال پیدا ہو گیا تھا کیونکہ وہاں بار بار مکانوں کے بدلنے سے تبلیغ کے اثر کو سخت نقصان پہنچتا تھا کہ بہرحال جماعت کا ایک مرکز ہونا چاہیے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھر کرائے پہ لیتے جائیں تو اس کی وہ باقاعدگی نہ رہنے سے اتنا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کا خیال تھا کہ مرکز بہرحال ہونا چاہیے مگر یہ کام بظاہر مشکل نظر آتا تھا اس کے لیے کوئی عملی تدبیر 1919ء تک پیدا نہیں ہو سکی۔ روپے کی فراہمی اور لندن
میں موجود زمین کا ملنا جو کافی ہو اور شرفاء کے محلے میں ہو اور ایسی ہو کہ جس میں قانونی طور پر کوئی شرط اور پابندیاں عائد نہ ہوں اور یہ بات لندن کے مکانات اور قطعات اراضی خریدنے میں اور اس پر حسب منشاء عمارت بنانے میں بڑی سخت روک تھی۔ یہ ساری شرائط بھی پوری ہوں۔ پھر اس کی تعمیر و نگرانی پر سب سے بڑھ کر لوگوں کی توجہ کو اس طرف کھینچنا یہ وہ سب امور تھے جو اس کے راستے میں حائل تھے لیکن خدا نے ہر انتظام بہترین طریق پر اور بہترین صورت میں پورا کر دیا۔ سب سے پہلے روپے کی فراہمی تھی وہ اس طرح ہوئی کہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد ایک زمانہ ایسا آیا کہ پاؤنڈ کا نرخ گرنا شروع ہوا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے مغرب میں پھیلنے کے بارے میں کیا رؤیا بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اسلام کے مغرب میں پھیلنے کے بارے میں ایک رؤیا کے حوالے سے آپؑبیان فرماتے ہیں کہ ایسا ہی طلوعِ شمس جو مغرب کی طرف سے ہو گا ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیامیں ظاہرکیا گیا ہے وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغرب جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منور کیے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنےچودھری فتح محمد صاحب سیالؓانگلستان میں زمین کو خریدنے کو کب کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:1920ء میں چودھری فتح محمد صاحب سیالؓکو حضرت خلیفۃالمسیح
الثانیؓ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ انگلستان میں کوئی زمین خریدیں جہاں مسجد بنائی جائے اور ایک باقاعدہ مشن ہاؤس بنا کے وہاں کام شروع کیا جائے جس کے لیے پھر کوشش ہوئی اور دوہزار دو سو پاؤنڈ سے اوپر کی رقم سے پٹنی کے علاقے میں یہ جگہ خریدی گئی۔
سوال: برطانیہ میں سب سے پہلے احمدی کون تھے؟
جواب: برطانیہ میں سب سے پہلے احمدی مسٹر کوریو تھے جو ایک جرنلسٹ تھے۔
سوال: اخبارات نے حضور ؓ کے سفر اور انگلستان پہنچنے کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اخبارات نے حضورؓ کے سفر اور انگلستان پہنچنے کو بڑا نمایاں طور پر شائع کیا اور آپؓوہاں پہنچ کر پھر لندن وکٹوریہ سٹیشن پر اترے۔ پورٹ سے پھر وہاں وکٹوریہ گئے۔ یہاں آپ اترے۔ یہاں سے آپ اور آپ کی جماعت سینٹ پال کے عظیم الشان اور انگلستان کے سب سے بڑےگرجے کے سامنے پہنچے اور اس کے بعد اس کے سامنے ٹھہر کر آپ نے خدائے ذوالجلال سے اسلام اور توحید کی فتح کی دعا کی اور پھر آپ اپنے قافلے کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ آپ کی رہائش کے لیے ایک اچھی جگہ کا پہلے سے ہی انتظام کر لیا گیا تھا۔جو عمارت کرائے پر لی گئی تھی اس جگہ ایک بڑا گھر تھا۔ مذہبی کانفرنس کے مضمونوں اور پرائیویٹ ملاقاتوں اور پبلک لیکچروں اور اس دوران میں کابل سے یہ خبر بھی ملی تھی کہ نعمت اللہ خان صاحب شہید کو سنگسار بھی کیا گیا تھا ۔ تو اس کے واقعات کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو کافی شہرت ملی اور کافی اخباروں میں اس کا چرچا ہوا۔ ان فنکشنوں کے بعد مسجد کے سنگِ بنیاد رکھنے کی باری آئی اور یہ کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت شاندار اور پراثر طریقے سے ہوا۔
ض ژ ض
سوال: حضرت مصلح موعودؓنے مسجد فضل کی کیا اہمیت بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا: مَیں یقین رکھتا ہوں کہ یہ رواداری کی روح ہے جو اس مسجد کے ذریعے سے پیدا کی جائے گی دنیا سے فتنہ و فساد دور کرنے اور امن و امان کے قیام میں مدد دے گی اور وہ دن جلد آئیں گے جب لوگ جنگ و جدال کو ترک کر کے محبت اور پیار سے آپس میں رہیں گے۔
سوال: جماعت احمدیہ کی مساجد کس طرح تعمیر ہوتی ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جماعت احمدیہ کی یہ خوبی ہے کہ جماعت کی مساجد لوگوں کے چندوں اور قربانیوں سے تعمیر ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو انگلستان میں بھی جماعت کی قربانی کی وجہ سے درجنوں مسجدیں بن چکی ہیں اور مغربی ممالک میں بھی بےشمار مساجد تعمیر ہو گئی ہیں۔
سوال: لندن میں جماعت احمدیہ کے کون سے پہلے مبلغ تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: چودھری فتح محمد صاحب سیالؓجماعت احمدیہ کے پہلے مبلغ ہیں جو باقاعدہ مبلغ بن کے یہاں آئے اور سب سے پہلا پھل بھی آپ کو ملا جن کا نام مسٹر کوریو تھا جو ایک جرنلسٹ تھے۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد فضل کی تعمیر کیلئے کیا تحریک فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب لندن میں مسجد کی جگہ خریدے جانے کی اطلاع ملی تو اس وقت آپؓڈلہوزی میں تھے۔ آپؓنے وہاں بڑا فنکشن کیا اور پھر وہاں مسجدفضل کے نام سے اس مسجد کا نام بھی معین فرمایا اور اس کے بعد چندے کی تحریک ہوئی تاکہ مسجد کی تعمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم اکٹھی ہو سکے۔
سوال: لندن میں ورود مسعود کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکاکون سا رؤیا کا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں ورودِ مسعود کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو ایک رؤیا پہلے سے دکھلایا گیا تھا کہ وہ سمندر کے کنارے انگلستان کے ایک مقام پر اترے ہیں اور ایک لکڑی کے کُندے پر پاؤں رکھ کر ایک کامیاب جرنیل کی طرح چاروں طرف نظر کر رہے ہیں کہ آواز آئی: ولیم دی کنکرر (William the Conqueror) ۔ گویا انگلستان کی روحانی فتح حضورؓ کے ورودِ انگلستان کے ساتھ مقدر تھی جو اب ظہور میں آئی۔
سوال: مسجد فضل کو کیا تاریخی حیثیت حاصل ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد فضل کی ایک تاریخی حیثیت ہےاس لحاظ سے کہ یہ جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ہے جو عیسائیت کے گڑھ میں بنائی گئی تھی اور پھر یہاں سے اسلام کی حقیقی تعلیم اور تبلیغ لوگوں میں وسیع پیمانے پر شروع ہوئی۔ آج ہمیں ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے لیکن حیرت ہے کہ اس خود کاشتہ پودے کے ذریعہ سے ان لوگوں کی، مغرب میں رہنے والے لوگوں کی مذہب کی کمزوریاں ان کے ممالک میں ظاہر کر کے اسلام کی خوبصورتی کی تبلیغ کی جارہی ہے اور ان اعتراض کرنے والوں کو تو یہ توفیق نہیں ملی کہ اس طرح تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سوال: مسجد فضل کے بارے میںتاریخ میں کیا لکھا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:مسجد کے بارے میں تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ اگرچہ ولایت میں تبلیغی سلسلہ جاری ہوتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد کے وجود میں لانے کا خیال پیدا ہو گیا تھا کیونکہ وہاں بار بار مکانوں کے بدلنے سے تبلیغ کے اثر کو سخت نقصان پہنچتا تھا کہ بہرحال جماعت کا ایک مرکز ہونا چاہیے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ گھر کرائے پہ لیتے جائیں تو اس کی وہ باقاعدگی نہ رہنے سے اتنا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کا خیال تھا کہ مرکز بہرحال ہونا چاہیے مگر یہ کام بظاہر مشکل نظر آتا تھا اس کے لیے کوئی عملی تدبیر 1919ء تک پیدا نہیں ہو سکی۔ روپے کی فراہمی اور لندن
میں موجود زمین کا ملنا جو کافی ہو اور شرفاء کے محلے میں ہو اور ایسی ہو کہ جس میں قانونی طور پر کوئی شرط اور پابندیاں عائد نہ ہوں اور یہ بات لندن کے مکانات اور قطعات اراضی خریدنے میں اور اس پر حسب منشاء عمارت بنانے میں بڑی سخت روک تھی۔ یہ ساری شرائط بھی پوری ہوں۔ پھر اس کی تعمیر و نگرانی پر سب سے بڑھ کر لوگوں کی توجہ کو اس طرف کھینچنا یہ وہ سب امور تھے جو اس کے راستے میں حائل تھے لیکن خدا نے ہر انتظام بہترین طریق پر اور بہترین صورت میں پورا کر دیا۔ سب سے پہلے روپے کی فراہمی تھی وہ اس طرح ہوئی کہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد ایک زمانہ ایسا آیا کہ پاؤنڈ کا نرخ گرنا شروع ہوا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے مغرب میں پھیلنے کے بارے میں کیا رؤیا بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اسلام کے مغرب میں پھیلنے کے بارے میں ایک رؤیا کے حوالے سے آپؑبیان فرماتے ہیں کہ ایسا ہی طلوعِ شمس جو مغرب کی طرف سے ہو گا ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیامیں ظاہرکیا گیا ہے وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغرب جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منور کیے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنےچودھری فتح محمد صاحب سیالؓانگلستان میں زمین کو خریدنے کو کب کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:1920ء میں چودھری فتح محمد صاحب سیالؓکو حضرت خلیفۃالمسیح
الثانیؓ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ انگلستان میں کوئی زمین خریدیں جہاں مسجد بنائی جائے اور ایک باقاعدہ مشن ہاؤس بنا کے وہاں کام شروع کیا جائے جس کے لیے پھر کوشش ہوئی اور دوہزار دو سو پاؤنڈ سے اوپر کی رقم سے پٹنی کے علاقے میں یہ جگہ خریدی گئی۔
سوال: برطانیہ میں سب سے پہلے احمدی کون تھے؟
جواب: برطانیہ میں سب سے پہلے احمدی مسٹر کوریو تھے جو ایک جرنلسٹ تھے۔
سوال: اخبارات نے حضور ؓ کے سفر اور انگلستان پہنچنے کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اخبارات نے حضورؓ کے سفر اور انگلستان پہنچنے کو بڑا نمایاں طور پر شائع کیا اور آپؓوہاں پہنچ کر پھر لندن وکٹوریہ سٹیشن پر اترے۔ پورٹ سے پھر وہاں وکٹوریہ گئے۔ یہاں آپ اترے۔ یہاں سے آپ اور آپ کی جماعت سینٹ پال کے عظیم الشان اور انگلستان کے سب سے بڑےگرجے کے سامنے پہنچے اور اس کے بعد اس کے سامنے ٹھہر کر آپ نے خدائے ذوالجلال سے اسلام اور توحید کی فتح کی دعا کی اور پھر آپ اپنے قافلے کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ آپ کی رہائش کے لیے ایک اچھی جگہ کا پہلے سے ہی انتظام کر لیا گیا تھا۔جو عمارت کرائے پر لی گئی تھی اس جگہ ایک بڑا گھر تھا۔ مذہبی کانفرنس کے مضمونوں اور پرائیویٹ ملاقاتوں اور پبلک لیکچروں اور اس دوران میں کابل سے یہ خبر بھی ملی تھی کہ نعمت اللہ خان صاحب شہید کو سنگسار بھی کیا گیا تھا ۔ تو اس کے واقعات کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو کافی شہرت ملی اور کافی اخباروں میں اس کا چرچا ہوا۔ ان فنکشنوں کے بعد مسجد کے سنگِ بنیاد رکھنے کی باری آئی اور یہ کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت شاندار اور پراثر طریقے سے ہوا۔
ض ژ ض