سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 18 کی تلاوت فرمائی:اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُوْلٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے100 مساجد بنانے کا ٹارگٹ جرمنی جماعت کےاحباب جماعت کو کب دیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جماعت جرمنی کے سپرد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک کام کیا تھا اور اس بات کا اظہار فرمایا تھا کہ اتنے سالوں میں (چند سال کا معین ٹارگٹ دیا گیا تھا)،100مساجد تعمیر کرنی ہیں۔ اور یہ پہلا ٹارگٹ 1989ء میں اس وقت یہ ٹارگٹ جماعت جرمنی کے افراد کی تعداد اور ان کی استطاعت کا اندازہ لگا کرحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا کہ دس سال میں سو مساجد بنانی ہیں۔
سوال:1997ء کے جلسہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی توجہ دلانے پر مساجد میں کس قدر اضافہ ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب ایک عرصہ گزر گیا اور یہ ٹارگٹ پورا نہ ہوا۔ یا اس کی طرف اُس طرح پیشرفت نہ ہوئی جس کی اُنہیں توقع تھی تو پھر 1997ء کے جلسے میں انہوں نے اس طرف توجہ دلائی۔جس کے بعد پھر کچھ تیزی پیدا ہوئی اور چند مساجد بنیں یا سنٹر خریدے گئے۔ 2003ء میں جب مَیں پہلی دفعہ یہاں جلسہ پر آیا تو امیر صاحب نے چند مساجد کا افتتاح مجھ سے کروایا۔ اس وقت مَیں نے امیر صاحب کو کہا تھا کہ آئندہ جب مَیں آؤں تو کم از کم پانچ مساجد تیار ہوں۔ یا جتنی جلدی آپ پانچ مساجد تیار کر لیں گے اس وقت مَیں اپنا جرمنی کا دورہ رکھ لوں گا۔ بہرحال یہ کام اب تیزی سے جاری رہنا چاہئے۔ تو بہرحال جماعت جرمنی نے اس طرف پھر توجہ کی اور نتیجۃً جب مَیں 2004ء کے جلسے پر آیا تو پانچ مساجد کا افتتاح ہوا۔
سوال: جماعت کی ترقی کس طرح ہوتی ہے ؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد ہمیں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جہاں تم جماعت کی ترقی چاہتے ہو وہاں مسجد کی تعمیر کر دو۔ تو اگر اس سوچ کے ساتھ مسجدیں بنائیں گے کہ آج اسلام کا نام روشن کرنے کے لئے اور آج اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لئے ہم نے ہی قربانیاں کرنی ہیں اور کوشش کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا، اور ہمیشہ فرماتا ہے، فرماتا رہا ہے۔
سوال: ہمیں مسجدیں کس سوچ کے ساتھ تعمیر کرنی چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب ہم اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو یہ خوشخبری سنیں کہ ہم نے مسجدیں تیری خاطر بنائی تھیں۔ تیری عبادت ہر وقت ہمیشہ ہمارے پیش نظر تھی اور تیرے دین کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہمارے مقاصد میں سے تھا۔ پس اسی لئے ہم مسجدیں بناتے ہیں اور بناتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم نمازوں کی طرف توجہ دیتے رہے۔ کوئی نام نمود، کوئی دنیا کا دکھاوا ہمارا مقصد نہ تھا۔ اے اللہ ہماری تمام مالی قربانیاں تیری خاطر تھیں کہ تیرا نام دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور تیرے پیارے نبی ﷺکا جھنڈا دنیا میں سر بلندہو۔ اور تیرا تقویٰ ہمارے دلوں میں اور ہماری نسلوں کے دلوں میں قائم ہو اور ہمیشہ قائم رہے۔ توُ نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا۔ اس کو ماننے کی ہمیں توفیق عطا فرمائی۔ جس کو تُو نے اس زمانے میں دوبارہ دین اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ پس ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے اس ہدایت سے ہمیں محروم نہ کر دینا بلکہ خود ہمیں ہدایت دئیے رکھنا۔ خود ہمیں سیدھے راستے پر چلائے رکھنا۔ اے اللہ توُ دعاؤں کو سننے والا اور دلوں کا حال جاننے والا ہے۔ ہماری ان عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں کو سن، ہماری اس نیک نیت کا بدلہ عطا فرما جو ان مساجد کی تعمیر کے پیچھے کار فرما ہے کہ تیرا نام دنیا کے اس علاقے میں بھی ظاہر ہو جہاں ہم مسجد تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔ ہماری نیتیں تیرے سامنے ہیں تُو ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے تُو ہماری پاتال تک سے بھی واقف ہے۔ تُو وہ بھی جانتا ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی یورپ میں کتنی مساجب بنانے کی خواہش تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی خواہش تھی کہ یورپ میں اگر ہم اڑھائی ہزار مسجدیں بنا لیں تو تبلیغ کے بڑے وسیع راستے کھل جائیں گے۔
سوال:حضور انور نے احباب جماعت کو تبلیغ کی طرف کیا توجہ دلائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: تبلیغ کی طر ف کوشش ہو اس کے لئے اپنی حالتوں کو درست کرنے کے بعد، اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کے بعد، اپنی مسجدوں کو پیار ومحبت کا نشان بنانے کے بعد، جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے پیغام کے ساتھ پیار و محبت کا پیغام ہر طرف پھیلانے کا نعرہ بلند ہو، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو اپنے علاقے کے ہر شخص تک پہنچا دیں۔ یہی پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی پسند ہے اور یہی پیغام ہے جس سے دنیا کا امن اور سکون وابستہ ہے۔ یہی پیغام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا ہے۔ آج روئے زمین پر اس خوبصورت پیغام کے علاوہ کوئی پیغام نہیں جو دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکے اور بندے کو خدا کے حضور جھکنے والا بناسکے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ کہ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (حٰمٓ السجدۃ: 34)۔ یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہو گی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور کہے کہ مَیں یقینا کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے کیا اجزا بیان فرمائے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔ عُجب، خود پسندی، مال حرام سے پرہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔ جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں ۔
سوال: حضور انور نے صبر و استقلال کت متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔ تو آپس میں زیادہ بڑھ کر صبر کے نمونے دکھانے چاہئیں۔ اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ یہ برداشت اور صبر کی سزا لڑنے کی سزا سے زیادہ سخت ہے۔ اور جب اس نیت سے اپنوں اور غیروں کی سختیاں برداشت کریں گے کہ میری بے صبری اللہ کا پیغام پہنچانے میں کہیں روک نہ بن جائے تو اللہ تعالیٰ ہر طرف سے اپنے فضلوں کی بارشیں برسائے گا انشاء اللہ۔ آپ کو نئے پھل بھی استقامت دکھانے والے اور آگے نیکیوں کو پھیلانے والے عطا ہوں گے اور مسجدوں کی تعمیر میں جو روکیں ہیں وہ بھی دور ہوں گی۔ اور ان قربانیوں کی وجہ سے جو جذبات اور مال کی قربانیاں ہیں اللہ تعالیٰ آپ کے مال و نفوس میں بھی برکت عطا فرمائے گا۔ پس اس طرف خاص کوشش کریں۔