سوال: خندق کا محاصرہ کتنے دن رہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: خندق کا محارہ پندرہ دن رہا یا ایک قول کے مطابق یہ محاصرہ بیس دن رہا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک ماہ کے قریب محاصرہ رہا۔
سوال:حضور انور نے کفار کے میدان خالی کر جانےکے بعد کی تفصیل میںکیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کفار کے میدان خالی کر جانے کے بعد کی تفصیل میں تاریخ میں یوں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺسے لشکرو ں کو واپس بھگا دیا تو آپ ﷺنے فرمایا۔ اَلْآنَ نَغْزُوْھُمْ وَلَا یَغْزُوْنَنَا۔ یعنی آئندہ ہم قریش کے خلاف نکلیں گے مگر انہیں ہمارے خلاف نکلنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ اور اس کے بعد واقعی ایسا ہوا۔ قریش کو ہمت اورجرأت نہیں ہوئی کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کریں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺکے ہاتھوں مکہ فتح ہو گیا۔
سوال: غزوۂ خندق میں کتنے افراد شہید ہوئے تھےاور کون کون ہوئے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ خندق میں نو افراد شہید ہوئے تھے۔ایک سعد بن معاذؓہیں۔ یہ اس جنگ میں زخمی ہوئے تھے اور کچھ دنوں کے بعد وفات ہوئی۔ انس بن اوسؓپھر عبداللہ بن سہلؓ، طفیل بن نعمانؓ،ثَعْلَبَہ بن عَنَمَہ بن عدیؓ، کعب بن زیدؓ، قیس بن زید بن عامرؓ، عبداللہ بن ابی خالدؓ، اَبُو سِنَان بن صَیْفِی بن صَخْرؓ۔ اور دو صحابہؓ دراصل پہلے شہید ہو گئے تھے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے جو ابوسفیان کے لشکر کا پتہ کرنے گئے تھے اور وہاں شہید ہوئے۔ یوں کُل گیارہ شہید ہوئے۔ یہ دو جو تھے یہ سُلَیطؓاور سُفْیَان بن عَوف اسلمیؓتھے۔
سوال: جنگ خندق میں مشرکین کے کتنے افراد مارے گئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مشرکین کے تین افراد مارے گئے جو عَمرو بن عَبْدِوُدّ، نَوفَل بن عبدُاللہ بن مُغِیرہ اور عُثمان بن مُنَبِّہ۔ اس کو خندق کے دن ایک تیر لگا تھا یعنی جس دن کفار نے پُرزور حملہ کیا تھا اور مسلمانوں نے بھی تیروں کا جواب تیروں سے دیا تھا جس کے زخم سے یہ مکہ جا کر مرا۔
سوال: بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد نے اپنی قوم سے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنوقریظہ کا سردار کعب بن اسد اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! تم پر ایک آزمائش آئی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔ میں تمہارے سامنے تین باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جس کوچاہو قبول کر لو، …ہم محمد ﷺکی اطاعت قبول کر لیں اور ان کو سچا مان لیں کیونکہ اللہ کی قسم !تمہیں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں …دوسری بات یہ ہے کہ آؤ! ہم اپنے بچوں اور بیویوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں سونت کر محمد ﷺاور ان کے صحابہ پر ٹوٹ پڑیں … آج کی رات ہفتہ یعنی سبت کی ہے اور امید ہے کہ محمد ﷺاور ان کے صحابہ اس رات ہماری طرف سے بے فکر ہوں گے۔ اس لیے تم ان پر حملہ کر دو۔ شاید کہ ہم محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کو دھوکا دے سکیں۔
سوال: جنگِ احزاب کے معجزانہ انجام کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنےکیا بیان فرمایا ہے؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے لکھا ہے کہ ’’کم وبیش بیس دن کے محاصرہ کے بعد کفار کالشکر مدینہ سے بے نیل و مرام واپس چلا گیا اور بنوقریظہ جو ان کی مدد کے لیے نکلے تھے وہ بھی اپنے قلعہ میں واپس آگئے۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کا جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ یعنی صرف پانچ چھ آدمی شہید ہوئے مگر قبیلہ اوس کے رئیس اعظم سعد بن معاذ کوایسا کاری زخم آیا کہ وہ بالآخر اس سے جانبر نہ ہو سکے اور یہ نقصان مسلمانوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا۔ کفار کے لشکر میں سے صرف تین آدمی قتل ہوئے لیکن اس جنگ میں قریش کو کچھ ایسا دھکا لگا کہ اس کے بعد ان کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر نکلنے یا مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور آنحضرت ﷺکی پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔
سوال: غزوۂ بنوقریظہ کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:غزوۂ بنوقریظہ ذوالقعدہ پانچ ہجری بمطابق مارچ اور اپریل 627ء میں ہوا۔
سوال: حضور انور نے قبیلہ بنو قریظہ کا کیا تعارف بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنوقریظہ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ بنوقُریظہ یہود کا ایک قبیلہ ہے۔ یہ قریظہ کی اولاد تھی جو مدینہ کے قریب چند میل کے فاصلے پر ایک مضبوط قلعہ میں اتری تھی اور پھر اسی کے نام سے منسوب ہونے لگی۔ قریظہ اور نضیر دو بھائی تھے جن کا تعلق حضرت ہارون کی اولاد سے تھا۔ ایک کی اولاد بنوقریظہ کہلائی اور دوسرے کی اولاد بنو نضیر۔
سوال: حضور انور نے بنو قریظہ پر حملہ آور ہونے کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:بنوقریظہ کی طرف روانگی کا ذکریوں ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتومؓکو نگران مقرر فرمایا اور بنوقریظہ کی طرف بدھ کے دن نکلے اور ذوالقعدہ کے سات دن باقی تھے۔ رسول اللہ ﷺنے ہتھیار اور زرہ پہنی اور خود پہنا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لے لیا اور ڈھال گلے میں لٹکا لی اور اپنے گھوڑے لُحَیْف پر سوار ہوئے۔ مسلمانوں کے پاس چھتیس گھوڑے تھے اور رسول اللہ ﷺاپنے صحابہؓ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ تین ہزار افراد تھے۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ حضرت علیؓمہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ پہلے ہی بنوقریظہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔ حضرت ابوقَتَادہؓکہتے ہیں کہ ہم بنوقریظہ کے پاس پہنچ گئے اور حضرت علیؓنے قلعہ کے نیچے جھنڈا گاڑھ دیا۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو انہیں جنگ کا یقین ہو گیا۔ پھر وہ اپنے قلعوں میں بند ہو کر رسول اللہ ﷺاور آپؐکی ازواج مطہرات کو گالیاں دینے لگے۔ حضرت ابوقتادہؓبیان کرتے ہیں کہ ہم خاموش رہے اور ان گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ رسول اللہ ﷺ بھی بنوقریظہ تک پہنچ گئے اور بنوقریظہ کے پہاڑ کےدامن میں بِئْرِ اُنَّا پر ان کے قلعہ کے قریب ٹھہر گئے۔
سوال:سعد بن عبادہؓنے مسلمانوں کے کھانے کے لئے کیا بھیجا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مسلمانوں کے اس غزوہ میں کھانے کا بھی ایک ذکر ملتا ہے کہ تمام صحابہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عشاء کے وقت تک جمع ہو گئے اور حضرت سعد بن عبادہؓنے کھجوروں کا ایک اونٹ رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کے لیے بھیجا۔ اس روزرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھجور کیا ہی اچھا کھانا ہے!
سوال:حضور انور نے مسلمانوں کے بنوقُریظہ پر محاصرے کی کیا تفصیل بیان فرمائی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺسحری کے وقت آگے بڑھے اور تیر انداز دستے کو آگے رکھا۔ انہوں نے یہودیوں کے قلعوں کا احاطہ کر لیا اور ان پر تیر اندازی کی اور پتھر برسائے اور وہ یہودی بھی، اپنے قلعوں سے تیر اندازی کرتے رہے، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ پھر قلعوں کے ارد گرد رات گزاری اور مسلمان یہود پر باری باری حملہ کرتے رہے۔ رسول اللہ ﷺمسلسل ان پر تیر اندازی کرواتے رہے یہاں تک کہ یہود نے ہلاکت کا یقین کر لیا اور مسلمانوں پر تیر اندازی چھوڑ دی اور کہنے لگے کہ ہمیں چھوڑ دو ہم تم سے بات چیت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ انہوں نے نَبَّاشْ بن قَیس کو آپؐکے پاس بھیجا۔ اس نے رسول اللہ ﷺسے کہا کہ انہیں یہاں سے چلے جانے کی اجازت دے دیں جیسے بنو نضیر یہاں سے گئے تھے اور آپؐاموال اور ہتھیار لے لیں اور ہمارے خون معاف فرما دیں۔ ہم آپؐکے شہر سے اپنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ نکل جائیں گے۔ یہ یہود کی طرف سے پیشکش ہوئی۔ اور ہمارے لیے وہ سامان ہو گا جس کوہمارا ایک اونٹ اٹھا سکے۔ لیکن رسول اللہ ﷺنے انکار کر دیا اور پھر نَبَّاشْ نے کہا کہ ہمیں اموال کی ضرورت نہیں جس کو ہمارے اونٹ اٹھائیں۔ رسول اللہ ﷺنے انکار کر دیا کہ انہیں آنحضرت ﷺکے فیصلے کے مطابق اترنا ہو گا لیکن اس نے رسول اکرم ﷺکے فیصلہ پر اترنے سے انکار کر دیا اور اپنی قوم میں واپس چلا گیا۔