سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 60 کی تلاوت فرمائی:یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْـلًا۔اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکّام کی بھی۔ اور اگر تم کسی معاملہ میں اولوالامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو۔ اگر فی الحقیقت تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔ یہ بہت بہتر طریق ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھاہے۔
سوال: خدا کے پسندیدہ لوگ لون ہوتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں۔ ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی جماعت کے ساتھ جڑنے کیلئے کیا ضروری ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اس دائمی قدرت کے ساتھ وابستہ رہنے کے لئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت سے جُڑے رہنے اور خلافت سے وابستہ رہنے کے لئے، اطاعت کے وہ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اعلیٰ درجہ کے ہوں جن سے باہر نکلنے کا کسی احمدی کے دل میں خیال تک پیدا نہ ہو۔
سوال: نظام جماعت اور نظام خلافت کی مضبوطی کے لئے جماعتی نظام کے فیصلہ کو یا امیر کے فیصلہ کو تسلیم کرنا کس لئے ضروری ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نظام جماعت اور نظام خلافت کی مضبوطی کے لئے جماعتی نظام کے فیصلہ کو یا امیر کے فیصلہ کو تسلیم کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ خلیفۂ وقت نے اس فیصلے پر صاد کیا ہوتا ہے یا امیر کو اختیار دیا ہوتا ہے کہ تم میری طرف سے فیصلہ کردو۔ اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور اس سے جماعتی مفاد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو خلیفۂ وقت کو اطلاع کرنا کافی ہے۔ پھر خلیفۂ وقت جانے اور اس کا کام جانے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ذمّہ دار اور نگران بنایا ہے اور جب خلیفہ، خلافت کے مقام پر اپنی مرضی سے نہیں آتا بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کو اس مقام پر اس منصب پر فائز کرتی ہے تو پھر خداتعالیٰ اس کے کسی غلط فیصلے کے خود ہی بہتر نتائج پیدا فرمادے گا۔
سوال: حضور انور نے عہدیداروں کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بعض عہدیدار اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور وہ بھی اپنے تکبر اور انانیت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو بھی اپنے خول سے باہر آنا چاہئے۔ کیونکہ یہی عادت بن چکی ہے کہ جہاں خطبہ دیا جارہا ہو، لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف و ہی مخاطب ہیں۔ بلکہ جہاں جہاں بھی یہ بیماریاں یا برائیاں ہیں اور ہر جگہ کے وہ لوگ، لوگوں کے خطوط کے ذریعہ سے میرے علم میں آتے رہتے ہیں، ہر اس جگہ پر جہاں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ذہنوں میں خنّاس سمایا ہوا ہے ان کو اس سے باہر نکلنا چاہئے اور استغفار کرنی چاہئے۔
سوال: حضور انور نے نیشنل امراء کو کیا نصیحت بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نیشنل امراء سے مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب کسی بھی قسم کی تحقیق کے لئے کمیشن بناتے ہیں تو تلاش کرکے تقویٰ شعار لوگوں کے سپرد یہ کام کیا کریں۔ یا اگر میرے پاس کسی کمیشن کے بنانے کی تجویزدی جاتی ہے تو ایسے لوگوں کے نام آیا کریں جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اور اطاعت کے اعلیٰ معیار کے حامل ہوں۔ کسی بھی فریق سے ان کا کسی بھی قسم کا تعلق نہ ہو۔
سوال: اسی طرح حضورانور نے امراء اور مرکزی عہدیداران کو کیا نصیحت بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: امراء اور مرکزی عہدیداران کو مَیں کہتا ہوں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ جماعت کے تعاون اور اطاعت کے معیار بڑھیں تو خود خلیفۂ وقت کے فیصلوں کی تعمیل اس طرح کریں جس طرح دل کی دھڑکن کے ساتھ نبض چلتی ہے۔ یہ معیار حاصل کریں گے تو پھر دیکھیں کہ ایک عام احمدی کس طرح اطاعت کرتا ہے کیونکہ ایک احمدی کے لئے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے اور اس یقین پر قائم ہے کہ اب یہ سلسلۂ خلافت چلنا ہے انشاء اللہ اور جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ دائمی اور ہمیشہ رہنے والا سلسلہ ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان میں ترقی کرنے والے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں گے، تو احمدی کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد سب سے زیادہ اطاعت اولوالامر کے طور پر خلیفۂ وقت کی اطاعت ہے۔ پھر مرتبے کے لحاظ سے ہر سطح پر جماعتی نظام کا ہر عہدیدار قابل اطاعت ہے۔
سوال: دنیاوی حاکموں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: دنیاوی حاکموں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو برا نہ کہتے پھرو، بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔ خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کردے گا۔ جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بدعملیوں کے سبب آتی ہے۔ ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستار ہ ہوتا ہے۔ مومن کے لئے خداتعالیٰ آپ سامان مہیا کردیتا ہے۔ میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔ خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔
سوال: اطاعت کس طرح کی ہونی چاہئے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرماتے ہیں:اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کردینا ضروری ہوتا ہے۔ بدُوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔
سوال: حضور انور نے مربیان کو کیا نصیحت فرمائی ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مربیان کو خیال رکھنا چاہئے کہ مربی کے لئے کبھی بھی جماعت کے کسی فرد کے ذہن میں یہ تاثر نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ فلاں مربی یامبلغ کے فلاں شخص سے بڑے قریبی تعلقات ہیں اور اگر کوئی معاملہ اس کے سامنے پیش کیا جائے تو فلاں مربی یا مبلغ یا واقف زندگی اس کی ناجائز طرفداری کرے گا۔ مربی، مبلغ یا کسی بھی مرکزی عہدیدار کا یہ کام ہے کہ اپنے آپ کو ہر مصلحت سے بالا رکھ کر، ہر تعلق کو پس پشت ڈال کر جماعتی مفاد کے لئے کام کرنا ہے اور جماعت کے افراد کے لئے عمومی طور پر بھی اور بعض معاملات اٹھنے پر خاص طور پر بھی، ایسا رویہ رکھیں اور تربیت کریں کہ فریقین ہمیشہ اطاعت کے دائرے میں رہیں۔ یہ مربیان کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جماعت میں اطاعت کی روح پیدا کردیں۔ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دینی علم سے بھی نوازا ہوا ہے۔ پس اس طرف خاص توجہ دیں۔ جماعت میں جماعت کی روح پیدا کرنے کے لئے بنیادی چیز ہی یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد میں اطاعت کا جذبہ اور روح پیدا کردیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔