سوال:حضور انور نے جنگ احزاب کی مزیدکیا تفصیل بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب مشرکین کو خندق عبور کرنے کے باوجود کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی بلکہ سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اتحاد کیا کہ وہ سب صبح کو حملہ کریں گے کوئی پیچھے نہیں رہے گا۔ ساری رات وہ تیاری کرتے رہے اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺکے سامنے خندق پر آ گئے۔ مشرکین نے ہر طرف سے خندق کو گھیر لیا اور ایک لشکر رسول اللہ ﷺکے خیمہ کی طرف متوجہ کیا۔ اس میں خالد بن ولید تھے۔ خندق کو بار بار عبور کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سخت تیر اندازی کا مقابلہ ہوا۔ کفار مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی غفلت کے منتظر رہے کہ کہیں موقع ملے تو وہ خندق عبور کریں اور یہ حملے اور کوششیں وقفے وقفے سے ہوتی رہیں۔ اسی موقع پر وحشی بن حرب نے طفیل بن نعمانؓکو اور بعض نے کہا ہے طفیل بن مالک بن نعمان انصاریؓکو اپنا چھوٹا نیزہ مار کر شہید کر دیا۔ حضرت سعد بن معاذؓبھی ایک تیر لگا جس سے وہ زخمی ہوئے اور اسی زخم کی وجہ سے کچھ دنوں کے بعد ان کی شہادت ہوئی۔
سوال:غزوۂ خندق میں جب حملہ کی شدت کی وجہ سے نمازیں وقت پر ادا نہ ہوئیں تو رسول کریم ﷺ نے کس طرح افسوس کا اظہار کیا؟
جواب:حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن حملہ اتنا شدید ہو گیا کہ مسلمانوں کی بعض نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں جس کا رسول اللہ ﷺکو اتنا صدمہ ہو اکہ آپ نے فرمایا: خد اکفار کو سزا دے انہوں نے ہماری نمازیں ضائع کیں … اس سے محمد رسول اللہ ﷺکے اخلاق پر ایک بہت بڑی روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین چیز آپ کے لیے خدا تعالیٰ کی عبادت تھی۔
سوال: حضرت حذیفہؓجب کفار کے لشکر کی خبر لینے روانہ ہوئے تو آپؓکی کیا کیفیت تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت حذیفہؓکہتے ہیں کہ جب میں کفار کے لشکر کی خبر لینے روانہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے بدن میں سردی کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ بلکہ میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا ایک گرم حمام میں سے گزررہا ہوں اورمیری گھبراہٹ بالکل جاتی رہی۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے خندق کے مقام پر نمازیں جمع ہونے کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓبیان فرماتے ہیں:اس دن مسلمانوں کی ساری نمازیں وقت پر ادا نہیں ہوسکیں۔ یہ درست نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے بات صرف یہ ہوئی تھی کہ چونکہ اس وقت تک صلوۃِ خوف شروع نہیں ہوئی تھی اس لیے بوجہ مسلسل خطرے اورمصروفیت کے صرف ایک نماز یعنی عصر بے وقت ہوگئی تھی جو مغرب کے ساتھ ملاکر پڑھی گئی اور بعض روایات کی رو سے صرف ظہروعصر کی نماز بے وقت ادا ہوئی تھی۔
سوال: خندق میں آنحضور ﷺکی چار نمازیں قضا کرنے پر ایک پادری کے اعتراض کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیا جواب دیا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔ اس لیے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کر نے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں۔بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہوگئی تھیں۔ چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہوسکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔ اور مغرب اور عشاء۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کرکے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو ردّ کرتی ہیں اورصرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔
سوال:جنگ خندق کےدوران کون سی غیبی مدد مسلمانوں کو ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک غیبی مدد یوں ہوئی کہ مسلمانوں کا ایک مسلح دستہ جو کہ اپنے ایک عزیز کی تدفین کے لیے جا رہا تھا اس کو بیس اونٹ غلہ سے لدے ہوئے ملے جو کہ بنو قریظہ کی طرف سے سامانِ رسد کے طور پر قریش مکہ کی طرف جارہے تھے۔یہ راشن حُیَی بن اَخْطَب کی سفارش اور خصوصی کوشش سے بھیجے جا رہے تھے۔ ایک چھوٹی سی جھڑپ کے بعد یہ سارے اونٹ انہوں نے اپنے قبضہ میں کر لیے اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں پیش کیا۔ اہلِ خندق نے اس میں سے کھایا اور ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ ذبح کیے اور کچھ باقی رہ گئے جو مسلمان جنگ کے اختتام پر مدینہ لے گئے۔ قریشی سپہ سالار ابوسفیان کو جب یہ خبر ملی تو اس نے کہا حُیَی کتنا منحوس ثابت ہوا۔ اب جب ہم واپس جائیں گے تو اپنا سامان لادنے کے لیےکوئی جانور بھی ہمارے پاس نہیں۔جنگ کی حالت میں یہ جائز تھا۔ جس طرح انہوں نے گھیرا ہوا تھا۔ اس میں اگر انہوں نے ان کے راشن پر قبضہ کیا تو بالکل جائز بات تھی۔
سوال:رسول اللہ ﷺکا احزاب کے خلاف بددعاکرنے کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:عبداللہ بن اُبَی بن اَوفیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے احزاب پر بددعا کی۔ ابونُعَیم نے اضافہ کیا ہے۔ یہ زائد بات اس میں بتائی ہے کہ آپؐنے انتظار کیا جب سورج کا زوال ہو گیا تو آپ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! تم دشمن سے مڈھ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو اور اگر تمہاری دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو جائے تو پھر صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔پھر فرمایا:اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتٰبِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ،اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَاعَلَیْھِم۔اے اللہ !کتاب نازل کرنے والے!! جلد حساب لینے والے!!! تُو لشکروں کو شکست دے دے۔ اے اللہ !ان کو شکست دے دے اور ان کے خلاف ہماری مدد کر۔
سوال: حضور انور نے دنیا کے حالات کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:دنیا کے حالات جیسا کہ آپ کو پتہ ہے دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ امریکہ اور بڑی طاقتیں انصاف سے کام لینا نہیں چاہتیں۔ جنگ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں اور معصوموں کو اس کے خوفناک اور بداثرات سے بچائے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں ہمیں بڑھنا ہو گا اور دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینی ہو گی۔ اس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہیے۔
ض ژ ض