سوال: خطبہ کے شروع میں حضور انور نے کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ مومن کی آیت نمبر 52 کی تلاوت فرمائی:اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْا َشْہَادُ۔
سوال: اللہ تعالیٰ جب انبیاء کو بھیجتا ہے تو انکے دل میں کیا ڈالتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ جب اپنے انبیاء دنیا میں بھیجتا ہے تو ان کے دل اس یقین سے پُر کرتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ پر، ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ ان کا معین و مدد گار ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کا یہ یقین ہی ہے جو انہیں توکل میں بڑھاتا چلا جاتا ہے اور جو انبیاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جس کی معراج ہمیں آنحضرت ﷺکی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے کیسے کٹھن اور مشکل حالات اور مقامات سے اللہ تعالیٰ اپنے ان خاص بندوں کو اپنی نصرت فرماتے ہوئے نکال کر لے آتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے انبیاء کے وقت میں، ان کی زندگی میں ان کے ماننے والے اور اس تعلیم پر عمل کرنے والوں میں ہم دیکھتے ہیں۔ اور پھر بعد میں جو اس حقیقی تعلیم کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں جو کہ وہ انبیاء لے کر آئے وہ لوگ یہ نظارے دیکھتے ہیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے فضلوں سے حصہ پانے کی معراج آنحضرت ﷺکی ذات بابرکات ہے اور آپؐپر ایمان اور آپؐ کی تعلیم پر مکمل عمل اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور نصرتوں کا حصہ دار بناتا ہے اور اس تعلیم پر عمل کرنے والوں کی دنیا و آخرت سنوارتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اس رسول ﷺاور مومنوں سے وعدہ ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تفسیر میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے … بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیونکر مدد کر سکتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُوَ نِعْمَ الْوَکِیْل ہے۔ دنیا اور دنیا کی مددیں ان لوگوں کے سامنے کَالْمَیِّتْ ہوتی ہیںاور وہ مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں ۔
سوال: حضرت نوح ؑ کی پکار پر اللہ تعالیٰ نے کس طرح دعا کو قبول کیا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت نوح ؑ کی پکار پر اللہ تعالیٰ نے کس طرح دعا کو قبول کیا اور ظالموں سے نجات دلائی۔ اس کا ذکر قرآن کریم میں یوں آتا ہےوَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَالَہٗ فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ۔ وَنَصَرْنٰـہُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَا۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمَ سَوْئٍ فَاَغْرَقْنٰھُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ اور نوح کا بھی ذکر کر جب قبل ازیں اس نے پکارا تو ہم نے اسے اس کی پکار کا جواب دیا اور اسے اور اس کے اہل کو ایک بڑی بے چینی سے نجات بخشی۔ اور ہم نے اس کی اُن لوگوں کے مقابل مدد کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا تھا۔ یقینا وہ ایک بڑی بدی میں مبتلا لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا مشابہت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جس طرح حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کشتی کے ذریعہ سے بچایا تھا اور دعا قبول کرتے ہوئے قوم کو غرق کیا تھا اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے طاعون کا نشان دے کر فرمایا کہ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھ پر۔
سوال: حضور انورنے ابراہیم علیہ السلام کا کون سا واقعہ بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخالفین نے آگ میں جلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپؑکی کس طرح مدد فرمائی اور مخالفین کی تمام تدبیریں ناکام و نامراد ہو گئیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےقَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِھَتَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْن۔قُلْنَا یٰـنَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ۔ وَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰھُمُ الْا َخْسَرِیْنَ۔ ترجمہ : انہوں نے کہا اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔ ہم نے کہا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔ اور انہوں نے اس سے ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے ان کو کلیۃًنامراد کر دیا۔
سوال: قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ۔ وَنَجَّیْنٰـھُمَا وَقَوْمَھُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ۔ وَنَصَرْنٰـھُمْ فَکَانُوْا ھُمُ الْغٰلِبِیْن ترجمہ: اور یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کیا تھا اور اُن دونوں کو اور اُن کی قوم کو ہم نے بہت بڑے کرب سے نجات بخشی تھی اور ہم نے ان کی مدد کی۔ پس وہی غالب آنے والے بنے۔
سوال: حضور انور نے آنحضرت ﷺکی ہجرت مدینہ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قرآن کریم نے اس واقعہ کا یوں ذ کر فرمایا ہے کہ اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْنَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاج فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی۔ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌاس کا ترجمہ یہ ہے، اگر تم اس رسول ﷺکی مدد نہ بھی کرو تو اللہ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا وطن سے نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کر دکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا۔ اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے اور اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہجرت مدینہ کے بارے میں کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشانِ پا یہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہو گا۔ مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے، کبوتر نے انڈے دئیے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپؐ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھے آئے ہیں لیکن آپؐکی کمال شجاعت کو دیکھوکہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیق صادق صدیق ؓکو فرماتے ہیں۔ یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپؐنے زبان ہی سے فرمایا۔ کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں اشارہ سے کام نہیں چلتاباہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہےخداتعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔