سوال: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس طرح آنحضرتﷺ کے ساتھ وفا و قربانی میں پیش پیش تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: نبی کریم ﷺکے جاںنثار صحابہ کا بھی آپؐسے وفا کا عجیب رنگ تھا اس طرح وہ اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف نبی کریم ﷺاپنی ذات پر ان سب کو ترجیح دے رہے تھے۔ایسے شجاع کہ اپنی جان کا کوئی فکر نہیں اہل مدینہ کا فکر ہے اور اس کےلیے اکثر خود جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کبھی بظاہرآرام کرنے کےلیےخیمہ میں تشریف لاتے بھی ہیں تو اس کا اکثر حصہ خدا کے حضورسربسجود ہو کر دعائیں کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔
سوال: غزوہ احزاب میںبنو قریظہ کا حصہ کیوں غیر محفوظ تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ ان کی طرف سے ہو کر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا۔ اسی وجہ سے ان کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔
سوال: بنو قریظہ اور کفار نے مسلمان لشکر کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کیا فیصلہ کیا؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں:بنو قریظہ اور کفار نے بھی اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ جب بنو قریظہ کفار کے ساتھ مل گئے تو وہ کھلے بندوں کفار کی مدد نہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ مسلمان مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کا بھی کوئی سامان کر لیں۔جو بنو قریظہ کے علاقہ کے ساتھ ملتی تھی یہ تدبیر نہایت ہی خطرناک تھی۔مسلمانوں کو غافل رکھتے ہوئے کسی ایسے وقت میں بنو قریظہ کا دشمن کے ساتھ جا ملنا جبکہ اسلامی فوج پر کفار کی فوج کا زبردست دھاوا ہو رہا ہو مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کو جس طرف بنو قریظہ کے قلعے واقعہ تھے بالکل ناممکن بنا دیتا تھا۔
سوال: رسول کریم ﷺنے مدینہ کی حفاظت کیلئے پانچ سو افراد کا تعین کرنے کا فیصلہ کیوں فرمایا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مسلمانوں کی فکر قدرتی تھی اور اس کے سدّ ِباب کے لیے بھی کوشش ضروری تھی۔ اس کے لیے مدینہ کی حفاظت کے لیے پانچ سو افراد کا تعین کرنے کا فیصلہ آپؐنے فرمایا۔ اس کی تفصیل سیرت نگاروں نے یوں بیان کی ہے کہ بنو قریظہ کے معاہدہ توڑنے کی خبر مسلمانوں تک پہنچ گئی تو ان کا خوف بڑھ گیا اور ان کو عورتوں ا ور بچوں کی فکر ہونے لگی اور مسلمانوں کی حالت ویسی ہو گئی جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِذْجَآءُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا (الاحزاب :11) جب وہ تمہارے پاس تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نشیب کی طرف سے بھی آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل اچھلتے ہوئے ہنسلیوں تک جا پہنچے اور تم لوگ اللہ پر طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔
سوال: خندق کے کتنے مقامات پر پہرہ دیا گیا تھا اور ان سب کا نگران کون تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺاور مسلمان تو دشمن کے سامنے تھے اور مختلف جگہوں پر باری باری خندق کا پہرہ دیتے تھے۔ وہ وہاں سے نہیں ہٹ سکتے تھے ۔ سیرت نگاروں نے خندق کے آٹھ مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں پہرہ دیا جاتا تھا اور ان سب کا نگران حضرت زبیر بن عوامؓکو بنایا گیا تھا۔
سوال: جب رسول کریم ﷺکو بنو قریظہ کے متعلق خبر ملی کہ وہ کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو آپ ﷺنے کیا تجویز فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بنو قریظہ چونکہ اب معاہدہ ختم کر کے محاصرہ کرنے والے قبائل کے ساتھ مل چکے تھے اور ان کی بابت خبریں ملنے لگیں کہ وہ کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ جب آپ ﷺکو یہ خبر ملی تو رسول اللہ ﷺنے حضرت سَلَمَہ بن اسلمؓ کو دو سو افراد کے ساتھ اور حضرت زید بن حارثہؓ کو تین سو افراد کے ساتھ مدینہ کی حفاظت کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ رات کے وقت وہ مختلف جگہوں پر پہرہ دیں اور وقتاً فوقتاً تکبیر یعنی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہیں۔
سوال: رسول کریم ﷺکی جرأت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا کیا حال تھا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم ﷺکی جرأت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا یہ حال تھا کہ آپؐ سردی میں رات کو اٹھ اٹھ کر اس جگہ جاتے اور اس کا پہرہ دیتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐپہرہ دیتے ہوئے تھک جاتے اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تو واپس آکر تھوڑی دیر میرے ساتھ لحاف میں لیٹ جاتے مگر جسم کے گرم ہوتے ہی پھر اس شگاف کی حفاظت کے لیے چلے جاتے۔ اِس طرح متواتر جاگنے سے آپ ایک دن بالکل نڈھال ہوگئے اور رات کے وقت فرمایا کاش! اِس وقت کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں آرام سے سو جاتا۔ اتنے میں باہر سے سعد بن وقاص کی آواز آئی۔ آپؐنے پوچھا کہ کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا آپؐکا پہرہ دینے کو۔ آپؐنے فرمایا مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے جاؤ اور اس کا پہرہ دو تا مسلمان محفوظ رہیں۔ چنانچہ سعدؓاس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور آپ سو گئے۔
سوال: جنگ احزاب کا دن مسلمانوں کے لئے کس طرح کا دن تھا؟
جواب: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بیان فرمایا :اس وقت مدینہ کا مطلع ظاہری اسباب کے لحاظ سے سخت تاریک وتار تھا۔ شہر کے چاروں طرف ہزارہا خونخوار دشمن ڈیرہ ڈالے پڑے تھے جو ہر وقت اس تاک میں تھے کہ کوئی موقعہ ملے تو مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کو ملیامیٹ کر دیں۔ شہر میں مسلمانوں کے پہلو میں غدّار بنوقریظہ تھے جن کے سینکڑوں مسلح نوجوان اپنی ذات میں ایک جری لشکر سے کم نہ تھے اور جو جس وقت چاہتے یا موقعہ پاتے عقب کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکتے تھے اور مسلمان خواتین اور بچے جوشہر میں تھے وہ تو گویا ہر وقت ان کا شکار ہی تھے۔ اس صورت حال نے جس کی حقیقت کسی سمجھدار شخص پر مخفی نہیں رہ سکتی تھی کمزور مسلمانوں میں سخت پریشانی اور سراسیمگی پیدا کر دی اور منافق طبع لوگ تو برملا کہنے لگے کہ مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا معلوم ہوتا ہے کہ خدا اوراس کے رسول کے وعدے مسلمانوں کی فتح وکامرانی کے متعلق یونہی جھوٹے ہی تھے۔ بعض منافقین نے آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہو ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ یارسول اللہ! شہر میں ہمارے مکانات بالکل غیر محفوظ ہیں آپ اجازت دیں تو ہم اپنے گھروں میں ٹھہر کر ان کی حفاظت کریں۔ جس کے جواب میں خدائی وحی نازل ہوئی کہ وَمَا ہِىَ بِعَوْرَۃٍ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا یہ غلط ہے کہ ان لوگوں کو اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال ہے بلکہ بات یہ ہے کہ وہ میدان کارزار سے بھاگنے کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔