سوال: بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بدظنی کی وجہ سے کیا کرتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بدظنی کی وجہ سے اس حد تک اپنے دلوں میں کینے پالنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے شخص کا مقام اَوروں کی نظر میں گرانے کے لئے، معاشرے میں انہیں ذلیل کرنے کے لئے، رسوا کرنے کے لئے۔ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرکے پھر اس کی تشہیر شروع کر دیتے ہیں اور اس بات سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی باتیں مجھے پہنچائیں تاکہ اگر کوئی کارکن یا اچھا کام کرنے والا ہے تو اس کو میری نظروں میں گرا سکیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ بڑے اعتماد سے بعض لوگوں کے نام گواہوں کے طور پر بھی پیش کر دیتے ہیں اور جب ان گواہوں سے پوچھو، گواہی لو، تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ گواہ بیچارے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں جس کی گواہی ڈلوانے کے لئے کوشش کی جا رہی ہے۔اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ مَیں ان جھوٹی باتوں پر یقین کرکے جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے ضرور اسے سزا بھی دوں۔ گویا یہ شکایت نہیں ہوتی ایک طرح کا حکم ہوتا ہے۔
سوال: حضور انور کے پاس جو شکایات آتی ہیں اس کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بہت سی شکایات درست بھی ہوتی ہیںلیکن اکثر جو ذاتی نوعیت کی شکایات ہوتی ہیں وہ اس بات پر زور دیتے ہوئے آتی ہیں کہ فلاں
فلاں شخص مجرم ہے اور اس کو فوری پکڑیں۔ ان باتوں پرمَیں خود بھی کھٹکتا ہوں کہ یہ شکایت کرنے والے خود ہی کہیں غلطی کرنے والے تو نہیں، اس کے پیچھے دوسرے شخص کے خلاف کہیں حسد تو کام نہیں کر رہا۔ اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ حسد کی وجہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچا یا جائے۔ یہ حسد بھی اکثر احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس خیال کے دل میں نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ خدا جھوٹے اور حاسد کی مدد نہیں کرتا۔ اور حسد کی وجہ سے یا بدظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔
سوال: ہم اپنے احمدی معاشرے کو کس طرح پاک و صاف بنا سکتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہمارے احمدی معاشرہ میں ہر سطح پر یہ کوشش ہونی چاہئے کہ احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے۔ اس لئے ہر سطح پر جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ خاص طور پر یہ برائیاں، حسد ہے، بدگمانی ہے، بدظنی ہے، دوسرے پر عیب لگانا ہے اور جھوٹ ہے اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کوشش کی جائے، ایک مہم چلائی جائے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے ہمیں فَذَکِّرْ کا حکم کیوں دیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:انسان کی فطرت ہے کہ اگر بار بار یاددہانی نہ کرائی جائے تو بھول جاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فَذَکِّرْ کا حکم دیا ہے۔ اس یاددہانی سے جگالی کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اگر اصلاح کے لئے ذرا سی توجہ دلا دی جائے تو اصلاح کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کو صرف ہلکی سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوال: حضور انور نے حسد کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو اور گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔
سوال: اللہ کا خوف رکھنے والے اور حقیقت میں نیک بندوں کا کیا رد عمل ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اگر انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو تو وہ یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میرے اندر بڑی نیکی ہے اور یہ کہ یہ نیکی ہمیشہ میرے اندر قائم بھی رہنی ہے۔ پس اگر کسی سے کوئی نیکی کی بات ہوتی ہے تو اللہ کا خوف رکھنے والے اور حقیقت میں نیک بندے اس پر ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔
سوال: ایک احمدی کو کس چیز سے بچنے کی ضرورت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہر احمدی کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے نیکیوں کو اپنے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرے اور سب سے زیادہ جونیکیوں کو جلا کر خاک کرنے والی چیز ہے اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں اور جیسا کہ اس حدیث میں جو مَیں نے پڑھی آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ وہ حسد ہے۔ پس اس حسد کی بیماری کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔ تمام زندگی کی نیکیاں حسد کے ایک عمل سے ضائع ہو سکتی ہیں۔
سوال: ایک سچے مومن کی کیا نشانی ہے؟
جواب: حضور انور نےفرمایا:ایک سچے مسلمان کی نشانی، ایک سچے احمدی کی نشانی اور اس کا مقام یہ ہے کہ مغموم القلب بننے کی کوشش کرے۔ گناہوں سے بچے، اپنے دل کے ٹیڑھے پن کو دور کرے، بغض، کینہ اور حسد سے بچتے ہوئے اپنے پر جہنم حرام کرے اور اس دنیامیں بھی پُرسکون زندگی کی وجہ سے جنت حاصل کرنے والا ہو اور آخرت میں بھی جنت کا وارث بنے۔
سوال : اللہ تعالیٰ فاسق اور ظالم کے متعلق کیا فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فاسق اور ظالم کے متعلق فرماتا ہےکہ وَلَا تَلْمِزُوْآ اَنْفُسَکُمْ ولَاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (الحجرات:12) اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو، ایمان کے بعدفسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ کی نظر کس چیز پر ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا، نہ تمہاری صورتوں کو اور نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر ہے۔
سوال: جو شخص اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اس کو کیا اجر ملتا ہے؟
جواب: حضورانور نے فرمایا:حضرت ابو درداءؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آگ سے اس کے چہرے کی حفاظت فرمائے گا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تہمتیں لگانے والوں کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ۔
سوال: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ برائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کیا فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یٰٓاَیُھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ۔ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا کہ اے ایمان والوں بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجسس سے کام نہ لیا کرو۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جھوٹ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔ اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار، دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو، ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔
٭٭٭