سوال: غزوہ خندق کے دوران کھجوروں میں برکت کے واقعہ کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوہ خندق میں کھجوروں میں برکت کا بھی واقعہ ملتا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے کہ غزوہ خندق کے موقع کی ایک روایت ہے۔ حضرت بشیر بن سعدؓکی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عَمْرَہ بنت رَوَاحَہ نے میرے کپڑوں میں تھوڑی سی کھجوریں دے کر کہا کہ بیٹی !یہ اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ اور کہنا یہ تمہارا صبح کا کھانا ہے۔ وہ کہتی ہیں مَیں ان کھجوروں کو لے کر چلی اور اپنے والد اور ماموں کو ڈھونڈتی ہوئی رسول اللہ ﷺکے پاس سے گزری تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے لڑکی! یہ تیرے پاس کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ! یہ کھجوریں ہیں۔ میری ماں نے میرے والد بشیر بن سعد اور میرے ماموں عبداللہ بن رواحہ کے لیے بھیجی ہیں ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:یہ لاؤ مجھے دے دو۔ میں نے وہ کھجوریں آپ ﷺکے دونوں ہاتھوں میں رکھ دیں ۔ آنحضرت ﷺنے ان کھجوروں کو ایک کپڑے پر ڈال دیا اور پھر ان کو ایک اور کپڑے سے ڈھانپ دیا اور ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چنانچہ تمام خندق کھودنے والے جمع ہو گئے اور ان کھجوروں کو کھانے لگے اور وہ کھجوریں زیادہ ہوتی گئیں یہاں تک کہ جب سب کھا چکے تو کھجوریں کپڑے کے کنارے سے نیچے گر رہی تھیں ۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سالک کے مقام کی کیا تشریح فرمائی؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلامؑ فرماتے ہیں :اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الرسل حضرت خاتم الانبیاء ﷺنے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑاکہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا … اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺنے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا اور بعض اوقات سخت مجروحوں پراپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کیے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔
سوال: خندق کی کھدائی کے دوران منافقوں اور مومنوں کی کیا حالت بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:خندق کی کھدائی کے دوران منافقوں اور مومنوں کی حالت کا بیان بھی ہوا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے ۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ کئی منافقین نے رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کے کام میں شرکت سے سستی کی اور وہ تھوڑا سا کام کرتے اور رسول اللہ ﷺکو بتائے بغیر اور اجازت لیے بغیر گھر کھسک جاتے اور مسلمانوں میں سے کسی کو جب کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں عرض کرتے اور جانے کی اجازت طلب کرتے۔ یہ مومنوں کی حالت تھی۔منافقین بغیر پوچھے چلے جاتے تھے۔ مومن پوچھ کے جاتے تھے تو رسول اللہ ﷺمومنین کو اجازت دیتے تھے۔ اور وہ جیسے ہی حاجت پوری کرلیتے تو واپس آجاتے۔
سوال:رسول اللہ ﷺکی لڑائی کی تیاری کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺکی لڑائی کی تیاری کی مزید تفصیل بھی بیان ہوئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ روایات کے مطابق ابوسفیان کے لشکر کی آمد سے تین دن قبل خندق تیار ہو چکی تھی۔ اب منصوبے کے مطابق خندق میں کام کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کو بھی ان قلعوں کی طرف بھیج دیا گیا جہاں عورتوں کو حفاظت کی غرض سے منتقل کیا گیا تھا۔ البتہ جن کی عمر پندرہ سال تھی ان کو اجازت دی گئی کہ چاہیں تو یہاں رہیں چاہیں تو واپس قلعوں میں چلے جائیں۔ ایسے جن نوجوانوں کو جنگ میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ان میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ،حضرت زید بن ثابتؓ،حضرت ابوسعید خُدریؓ اور حضرت بَراء بن عَازِبؓ شامل تھے۔
سوال: مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مسلمانوں کی تعدادکے بارے میں مؤرخین کافی مختلف روایات بیان کرتے ہیں ۔ کسی کے نزدیک یہ تعداد نو سو سے زائد نہیں تھی اور کسی کے نزدیک سات سو تھی ۔کسی کے نزدیک دو ہزار اور کسی کے نزدیک تین ہزار تھی۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اِس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارہ میں مؤرخین میں سخت اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس لشکر کی تعداد تین ہزار لکھی ہے بعض نے بارہ تیرہ سو اور بعض نے سات سو۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مؤرخین اسے حل نہیں کر سکے۔ لیکن مَیں نے اس کی حقیقت کو پالیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں ۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بنو قریظہ کی غداری کے ضمن میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بنو قریظہ کی غداری کے ضمن میں فرماتے ہیں: ابو سفیان نے یہ چال چلی کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہودی رئیس حُیَی بن اخطب کویہ ہدایت دی کہ وہ رات کی تاریکی کے پردے میں بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف جاوے اوران کے رئیس کعب بن اسد کے ساتھ مل کر
بنو قریظہ کواپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے۔چنانچہ حُیَی بن اخطب موقعہ لگا کر کعب کے مکان پر پہنچا۔ شروع شروع میں تو کعب نے اس کی بات سننے سے انکار کیا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہمارے عہدوپیمان ہیں اورمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ اپنے عہدوپیمان کو وفاداری کے ساتھ نبھایا ہے اس لیے میں اس سے غداری نہیں کر سکتا۔ مگر حُیَی نے اسے ایسے سبز باغ دکھائے اوراسلام کی عنقریب تباہی کا ایسا یقین دلایا اور اپنے اس عہد کو کہ جب تک ہم اسلام کو مٹا نہ لیں گے مدینہ سے واپس نہیں جائیں گے اس شدومد سے بیان کیا کہ بالآخر وہ راضی ہو گیا۔ اوراس طرح بنوقریظہ کی طاقت کا وزن بھی اس پلڑے کے وزن میں آکر شامل ہو گیا جوپہلے سے ہی بہت جھکا ہوا تھا۔ یعنی ان کافروں کی تعداد تو پہلے ہی بہت زیادہ تھی ان میں ایک اور وزن ان یہودیوں کی عہد شکنی کا پڑگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوجب بنوقریظہ کی اس خطرناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دوتین دفعہ خفیہ خفیہ زُبیربن العَوَّامؓکو دریافت حالات کے لیے بھیجا۔ اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس وخزرج کے رئیس سَعدِ بن مُعاذؓاورسَعدِ بن ِعُبَادہؓاور بعض دوسرے بااثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہوتو واپس آکر اس کا برملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔ جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بدبخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا اور سعدینؓکی طرف سے معاہدہ کاذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کربولے کہ جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذؓاور سعد بن عبادہؓنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالات سے اطلاع دی۔
ض ژ ض