سوال: حضور انور نے خطبہ جمعہ 19 نومبر 2006 میں کن کن جگہوں کے دورے کے متعلق فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہ دَورہ سنگاپور، آسٹریلیا، جاپان اور پیسیفک کے بعض جزائر پر مشتمل تھا جن میں فجی اور نیوزی لینڈ وغیرہ تھے۔
سوال: سنگاپور میں جلسہ سالانہ کیوں نہیں منعقد کیا گیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کیونکہ بعض ایسی پابندیاں ہیں جنکی وجہ سے باہر سے کسی جانے والے کیلئے حکومتی اداروں سے تقریر وغیرہ کرنے کی اجازت لئے بغیر کوئی پبلک گیدرنگ میں تقریر نہیں ہو سکتی اس لئے وہاں جلسہ تو نہیں ہوا لیکن جو چند دن ہم وہاں ٹھہرے اس میں جلسے کا ہی سماں تھا۔
سوال: سنگاپور میں اکثریت کن لوگوں کی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سنگا پور کی جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ چند ایک پاکستانی گھروں کے علاوہ تمام مقامی احمدی ہیں ۔
سوال: سنگاپور کے لوگوں نے اپنا کام کس طرح سنبھالا ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سنگاپور کے لوگوں نےجس طرح اپنے کام کو سنبھالا ہوا ہے اس سے ان کے جماعت اور خلافت سے اخلاص و وفا کا اظہار ہوتا ہے۔
سوال: سنگاپور کی مسجد کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب : حضور انور نے فرمایا: اس ملک میں ایک خوبصورت سی مسجد بنائی ہوئی ہے۔کافی بڑی مسجد ہے، دو منزلہ ہے اس میں دفاتر بھی ہیں، لائبریری وغیرہ بھی ہے۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں گئے تھے تو آپ نے اس کا افتتاح فرمایا تھا۔ اب وہاں اسی پلاٹ میں جگہ تھی جہاں مَیں مشن ہاؤ س کا سنگ بنیاد رکھ کے آیا ہوں۔
سوال:ملائشیا اور انڈونیشیا کے افراد کی ملاقات کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ملائشیا میں بعض پابندیاں ہیں اور مخالفت ہے جس کی وجہ سے وہاں کی خاصی تعداد ملاقات کیلئے سنگاپور آ گئی تھی۔ انڈونیشیا میں جماعت کی مخالفت زوروں پر ہے اور فی الوقت وہاں جانا بھی مشکل ہے۔ وہاں سے بھی کافی تعداد میں انڈونیشین احمدی آئے ہوئے تھے اور اس بات پر ان کی بھی جذباتی کیفیت ہو جاتی تھی کہ آپ فی الحال وہاں دورہ نہیں کر سکتے۔
سوال:انڈونیشین کے دلی جذبات کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:انڈونیشین اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے بھی ہیں، جب مَیں نے انہیں صبر کی تلقین کی تو بلا استثناء ہر ایک جوان، بوڑھا، مرد، عورت سخت جذباتی ہو گئے تھے۔ مَیں عموماً اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتا ہوں لیکن میں انہیں دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنے پر قابو پا رہا تھا۔
سوال: ہماری جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کیا مشابہت ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا؟ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔ وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ ؓنے دیکھا۔ وہ خداتعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ ؓ نے پایا۔ وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیساکہ صحابہ ؓ نے اٹھایا۔ وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے حاصل کی۔ بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نمازمیں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔ بہتیرے اُن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوابیں آتی ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خداتعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے۔ اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، جیسا کہ صحابؓکو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْکے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خداتعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا۔
سوال: حضور انور نےآسٹریلیا کے دورہ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آسٹریلیا ایک وسیع ملک ہے۔آسٹریلیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ بھی ہوا۔ اور اس دفعہ تو وہاں باہر سے بھی کافی لوگ آ کر شامل ہوئے تھے۔ وہاں ہماری سڈنی میں جو مسجد ہے، بڑی خوبصورت اور بہت بڑی مسجد ہے اور مین روڈ کے اوپر ہی تقریباً واقع ہے اس کا نظارہ بڑا خوبصورت نظر آتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت جب روشنی ہو۔ بلند مینار ہے
اور ساتھ گنبد۔ جماعت کو یہ بہت اچھی جگہ مل گئی ہے اور اس جگہ کا رقبہ تقریباً 28 ؍ایکڑ ہے۔ اس مسجد کا افتتاح بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔
سوال: حضور انور نے فجی کے دورہ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: فجی میںاللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ میں جماعتی تربیتی امور پر باتیں ہوئیں۔ یہاں مختلف جگہوں پر چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں۔ جزائر فجی میں جو ایک بڑا مین جزیرہ ہے وہ فجی کہلاتا ہے، اس میں چار جماعتوں میں جانے کی توفیق ملی اور اس کے علاوہ دو جزیروں میںوانوالیُو اور تاوے یونی بھی میں گیا۔ مارو فجی میں ناندی کے قریب جگہ ہے یہاں بھی لجنہ ہال کا افتتاح تھا۔ فجی بھی ایک بہت خوبصورت ملک ہے اور قدرتی حسن اور خوبصورتی کے لحاظ اس کا مقابلہ نہیں ہے۔ لمباسہ ان کا ایک شہر ہے وہاں پہنچے جہاں سے پھر تقریباً 45-40منٹ کی ڈرائیو (Drive) پر ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ یہاں جماعت نے تین سال پہلے ایک ہائر سیکنڈری سکول قائم کیا تھا۔ ماشاء اللہ عمارت وغیرہ بڑی اچھی ہے اور طلباء کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے بالکل ریموٹ (Remote) علاقے میں دور دراز علاقے میں ہے۔ یہاں نئے ہوم اکنامکس بلاک کا بھی افتتاح کیا۔ اس دور دراز علاقے کے احمدیوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن کا فجی آنا مشکل تھا۔
سوال: حضور انور نے نیوزی لینڈ کے دورہ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نیوزی لینڈ کی جماعت اللہ کے فضل سے کافی بڑھ گئی ہے اور اکثریت فجین احمدیوں کی ہے۔ فجی سے لوگ مائیگریٹ (Migrate) کرکے یہاں نیو زی لینڈ آگئے ہیں۔ گو کہ یہاں ابھی تک مبلغ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں نے اپنے آپ کو سنبھالا ہوا ہے۔ اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔ یہاں بھی Reception تھی۔ یہاں بھی وہی اسلام کی تعلیم بیان کرنے کی توفیق ملی۔
سوال: حضور انور نے جاپان کے دورہ کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جاپان میں اللہ کے فضل سے جاپانی جو مقامی ہیں اس وقت 12-10ہیں، جنہوں نے رابطہ کیا تھا یا رابطے میں کچھ نہ کچھ رہتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے اور تربیتی امور پر توجہ دلانے اور اس طرح باقاعدہ باقی جماعت کو بھی تربیتی امور کی طرف توجہ دلانے کی توفیق ملی۔ جلسہ بھی ہوا۔ جاپانی احمدیوں میں ان دنوں میں جتنے دن میں وہاں رہا پہلے دن جو ان کا رویہ تھا وہ مَیں دیکھتا رہا ہوں ہر روز اس میں ایک تعلق اور وفا کی کیفیت بڑھتی رہی، تبدیلی محسوس ہوتی رہی۔ جاپان میں بھی کئی منسٹرز اور ایم پی وغیرہ ملنے کے لئے آئے تھے، Receptionمیں بھی آئے تھے۔ اچھا اثر لے کر گئے ہیں۔ ایک ممبر پارلیمنٹ نے تو مجھے کہا کہ ہمیں اسلام کے بارے میں زیادہ پتہ نہیں ہے اس لئے ہم جلد ہی مغرب کے معترضین کے زیراثر آ جاتے ہیں ہمیں اسلام کے بارے میں بتائیں۔ ان سے علیحدہ بھی کافی لمبی گفتگو ہوتی رہی۔ اللہ کرے کہ وہاں کی جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسلام کا پیغام پہنچانے کا حق ادا کرنے والی بنے۔
٭٭٭