اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-31

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ13؍ستمبر 2024بطرز سوال وجواب

سوال: رسول کریم ﷺنے خندق کی کھدائی میں کس طرح حصہ لیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺنے خود بھی کھدائی میں حصہ لیا اور مٹی اپنی پیٹھ پر اُٹھائی یہا ں تک کہ آپؐکی پشت اور پیٹ غبار آلود ہو جاتے۔
سوال: حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ کو جب مٹی لانے کیلئے ٹوکریاں نہ ملتیںتو آپ کیا کرتے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو جب ٹوکریاں نہ ملتیں تو جلدی میں اپنے کپڑوں میں مٹی منتقل کرتے تھے۔
سوال: جنگ خندق میں صحابہ اپنے غم اور محنت کی تکلف کو کس طرح بھول گئے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: خندق کی کھدائی میں آپؐکی شرکت اور آپؐکی دعاؤں کی برکت سے صحابہ اپنے غم اور محنت کی کلفت کو بھول ہی جاتے تھے۔
سوال: آنحضرت ﷺکی ازواج مطہرات کا خندق کے موقع پر کیا نمونہ تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی ازواج مطہرات بھی خطرے کی اس گھڑی میں مردانہ وار نبی اکرم ﷺکے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
سوال: جب قریش مکہ کے نکلنے کی خبر رسول کریم ﷺکو پہنچی تو آپ نے کس کے مشورہ سے خندق کے کھودے جانے کا حکم دیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول کریم ﷺنے خندق کی خدائی کا حکم حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے دیا جو کہ عجمی طریق جنگ سے واقف تھے۔
سوال: خندق کی گہرائی کے متعلق حضور انور نے کیا بیان کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول کریم ﷺنے خود اپنی نگرانی میں موقع پر نشان لگا کر تقسیم کار کے اصول کے ماتحت خندق کودس دس ہاتھ یعنی پندرہ پندرہ فٹ کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہر ٹکڑا دس دس صحابیوں کے سپرد فرمایا۔
سوال: جب پارٹیوں کی تقسیم میں اختلاف ہوا کہ حضرت سلمان فارسی کس گروہ میں شامل ہوں تو رسول کریم ﷺنے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ان پارٹیوں کی تقسیم میں یہ خوشگوار اختلاف رونما ہوا کہ سلمان فارسیؓکس گروہ میں شامل ہوں آیا وہ مہاجر سمجھے جائیں یا باوجود اس کے کہ وہ اسلام کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں آئے ہوئے تھے انصار میں شامل ہوں۔آخر یہ اختلاف آنحضرت ﷺکے سامنے پیش ہوا اور آپؐنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سلمانؓدونوں میں سے نہیں ہیں بلکہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ میرے اہل بیت میں شمار کیے جائیں۔ اُس وقت سے سلمانؓکو یہ شرف حاصل ہو گیا کہ وہ گویا آنحضرت ﷺکے گھر کے آدمی سمجھے جانے لگے۔
سوال: خندق کی کھدائی کا کام کس طرح کا تھا؟
جواب: حضور انورنے فرمایا:خندق کی تجویز پختہ ہونے کے بعد صحابہ ؓکی جماعت مزدوروں کے لباس میں ملبوس ہو کر میدان کارزار میں نکل آئی۔کھدائی کا کام آسان نہیں تھا اور پھر موسم بھی سردی کا تھا جس کی وجہ سے ان ایام میں صحابہؓ نے سخت تکالیف اُٹھائیں اور چونکہ دوسرے کاروبار بالکل بند ہو گئے تھے اس لیےان دنوں میں بھوک اور فاقہ کشی کی مصیبت بھی برداشت کرنی پڑی۔صحابہؓ کے پاس نوکر اور غلام بھی نہ تھے اس لیے سب صحابہ کو خود اپنے ہاتھ سے کام کرنا پڑتا تھا۔
سوال: خندق کی کھدائی کے دوران چٹان کے واقعہ کا حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ تنگی اور شدت کی حالت میں خندق کھودتے کھودتے ایک جگہ سے ایک پتھر نکلا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔ آخر تنگ آ کر صحابہ ؓآپؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک پتھر ہے جو ٹوٹنے میں نہیں آتا۔ آپؐفورا ًوہاں تشریف لے گئے اور ایک کدال لے کر اللہ کا نام لیتے ہوئے اس پتھر پر ماری۔لوہے کے لگنے سے پتھر میں سے ایک شعلہ نکلا جس پر آپؐنے زور کے ساتھ اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ مجھے مملکت شام کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم !اس وقت شام کے سرخ محلات میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔اس ضرب سے وہ پتھر کسی قدر شکستہ ہو گیا۔ دوسری دفعہ آپؐنے پھر اللہ کا نام لے کر کدال چلائی اور پھر ایک شعلہ نکلا جس پر آپؐنے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس دفعہ مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی ہیں اور مدائن کے سفید محلات مجھے نظر آرہے ہیں۔ اس دفعہ پتھر کسی قدر زیادہ شکستہ ہو گیا۔ تیسری دفعہ آپؐنے پھر کدال ماری جس کے نتیجے میں پھر ایک شعلہ نکلا اور آپؐنے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا:اب مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم صنعاءکے دروازے مجھے اس وقت دکھائے جا رہے ہیں۔
اس دفعہ وہ پتھر بالکل شکستہ ہو کر اپنی جگہ سے گر گیا۔ آنحضرت ﷺکے یہ نظارے عالم کشف سے تعلق رکھتے تھے۔گویا اس تنگی کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے آپؐکو مسلمانوں کی آئندہ فتوحات اور فراخیوں کے مناظر دکھا کر صحابہؓ میں امید و شگفتگی کی روح پیدا فرمائی۔ منافقین مدینہ نے ان وعدوں کو سن کر مسلمانوں پر پھبتیاں اُڑائیں کہ گھرسے باہر قدم رکھنے کی طاقت نہیں اور قیصر و کسریٰ کی مملکتوں کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ مگر خداکے یہ وعدے اپنے اپنے وقت پر یعنی کچھ تو آنحضرت ﷺکے آخری ایام میں اور زیادہ تر آپؐکے خلفاء کے زمانے میں پورے ہو کر مسلمانوں کے ازدیاد ایمان و امتنان کا باعث ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓنے بھی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صحابہ کے پوچھنے پر آپؐنے فرمایا کہ تینوں دفعہ خدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھایا۔پس تم خدا کے وعدوں پر یقین رکھو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
سوال: خندق کی کھدائی کے دوران کھانے کا کون سا معجزہ پیان ہوا ہے؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا ہے کہ اس موقع پر ایک مخلص صحابی جابر بن عبداللہؓ نے آپؐکے چہرہ پر بھوک کی وجہ سے کمزوری اور نقاہت کے آثار دیکھ کرآپؐسے اپنے گھر جانے کی اجازت لی اور گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کےلیے کچھ ہے ؟اُس نے کہا ہاں کچھ جَو کا آٹا ہے اور ایک بکری ہے۔حضرت جابرؓنے بکری کو ذبح کیا اور آٹے کو گوندھا اوراپنی بیوی سے کہا کہ تم کھانا تیار کرو میں رسول اللہؐ کی خدمت میں جا کر عرض کرتا ہوں کہ تشریف لے آئیں۔آپؓکی بیوی نے کہا دیکھنا مجھے ذلیل نہ کرنا کھانا تھوڑا ہے رسول اللہؐ کے ساتھ زیادہ لوگ نہ آئیں۔
حضرت جابرؓنے آہستگی کے ساتھ آنحضرت ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! میرے پاس کچھ گوشت اور جَو کا آٹا ہے جن کے پکا نے کے لیے میں اپنی بیوی سے کہہ آیا ہوں۔ آپؐاپنے چند اصحاب کے ساتھ تشریف لے چلیں اور کھانا تناول فرمائیں۔ آپؐنے فرمایا کھانا کتنا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس اس قدر ہے۔آپؐنے فرمایا :بہت ہے۔ پھر آپؐنے اپنے ارد گرد نگاہ ڈال کر بلند آواز سے فرمایا:اے انصار و مہاجرین کی جماعت! چلو جابرنے ہماری دعوت کی ہے۔ اس آواز پر کوئی ایک ہزار فاقہ مست صحابی آپؐکے ساتھ ہولیے۔آپؐنے جابرؓسے فرمایا کہ تم جلدی جاؤ اور اپنی بیوی سے کہہ دو کہ جب تک میں نہ آلوں ہنڈیا کو چولہے پر سے نہ اُتارے اور نہ ہی روٹیاں پکانا شروع کرے۔ جابرؓنے جلدی سے جا کر اپنی بیوی کو اطلاع دی اور وہ بیچاری سخت گھبرائی کہ اب کیا ہوگا۔مگرآنحضرت ﷺنے وہاں پہنچتے ہی بڑے اطمینان کے ساتھ ہنڈیا اور آٹے کے برتن پر دعا فرمائی اور پھر فرمایا اب روٹیاں پکانا شروع کر دو۔اس کے بعد آپؐنے کھانا تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔ جابرؓروایت کرتے ہیں کہ مجھے اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی کھانے سے سب لوگ سیر ہو کر اُٹھ گئے اور ابھی ہماری ہنڈیا اُسی طرح اُبل رہی تھی اور آٹا اُسی طرح پک رہا تھا۔
ض ژ ض