اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-17

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ12؍مئی 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے جلسہ سالانہ جاپان 2006ء کےموقع پر احباب جماعت کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لئے اپنے جائزے لینے ہوں گے کہ کس حد تک ہم ان ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں، کس حد تک ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو خدا کا خالص بندہ بنانے والی ہو، کس حد تک ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغام کو جو حضرت محمد مصطفی ﷺکا ہی حقیقی پیغام ہے اس علاقے کے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جاپان میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کی کب توجہ پیدا ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو 1902ء میں اس ملک میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی طرف توجہ پیداہوئی تو آپؑنے فرمایا کہ اگر خدا چاہے گا تو اس ملک میں طالبِ اسلام پیدا کر دے گا۔ پھر آپؑنے اس ملک میں اسلام کی خوبیوں پر مشتمل لٹریچر شائع کرکے پھیلانے کی خواہش کا بھی اظہار فرمایا۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جاپان میں احمدیت کو پھیلانے کی غرض سے کب مبلغ بھجوائے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:1935ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں مبلغ بھجوائے۔ اپنے وسائل کے لحاظ سے انہوں نے خوب کام کیا۔ 1959ء میں یہاں پہلے احمدی بھی ہوئے اور ماشاء اللہ خوب ایمان و اخلاص میں ترقی بھی کی۔
سوال: جاپان میں کس طرح احمدیت پھیلنے کے امکانات ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس خواہش کو سامنے رکھے کہ اس قوم تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے تو یقینا یہاں احمدیت کے پھیلنے کے امکانات ہیں ۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور ذکر کرنے والوں کے لئے کیا ضروری قرار دیا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ۔ یقینا مَیں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔
سوال: کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی ضرورت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو نہ ہماری نمازوں کی ضرورت ہے اور نہ ہماری عبادتوں کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہےقُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لاَ دُعَآؤُکُمْکہ ان سے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا نہ ہو۔ یعنی یہ تمہاری دعا اور استغفار تمہارے فائدے کے لئے ہیں۔ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ پس ایک احمدی
کے لئے اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
سوال: صحابہ کس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: صحابہ نماز کے علاوہ کسی عمل کو بھی ترک کرنا کفر نہ سمجھتے تھے۔ یعنی نماز چھوڑنا ان کے نزدیک کفر کے برابر تھا۔ پس یہ معیار ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
سوال: انسان کی پیدائش کی اصل غرض کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الٰہی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کرکے بیکار کر لیتا ہے۔ یعنی فطرت جو اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس کو دنیاداری کے دھندوں میں ڈال دیتا ہے، دوسری مصروفیات میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ دوسری چیزیں اس کے لئے زیادہ فوقیت رکھتی ہیں۔بیرونی تعلقات سے تبدیل کرکے بیکار کر لیتا ہے تو خداتعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہےقُلْ مَایَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لاَ دُعَآؤُکُمْ۔
سوال: اللہ تعالیٰ کا قرب کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے اپنی نسلوں کی بقا کے لئے نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کرنے کا بھی حکم ہے۔ فرماتا ہےاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّأَنْفُسِکُمْ کہ اپنے مال اس راہ میں خرچ کرتے رہویہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر رہے گا۔ اسی طرح اور بے شمار جگہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے حکم کے ساتھ مالی قربانیوں کا ذکرفرمایا ہےاور آج کل کے زمانے میں جب انسان کی اپنی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں۔ قسم ہا قسم کی ایجادات کی وجہ سے انسانی ترجیحات اور خواہشات بھی مختلف ہو چکی ہیں۔ ان حالات میں مالی قربانیا ں یقینا بہت اہمیت کی حامل ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے ساتھ مالی قربانیوں کی اس زمانے میں ویسے بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یقینا یہ نفسوں کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے اس طرف بھی توجہ دیں۔ یہ قربانیاں آپ کی اور آپ کی نسلوں کی دنیا و آخرت سنوارنے کی ضمانت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ مختلف پیرایوں میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ پھرآنحضرت ﷺنے بھی مختلف جگہوں پر مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک سوال کرنے والے کے یہ پوچھنے پر کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لیجائے اور آگ سے دور کر دے۔ آپؐنے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور نمبر2یہ کہ نماز پڑھ اور زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر۔ یعنی رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کرو۔
سوال: مالی قربانی کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہمیشہ ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ مالی قربانی اس کے اپنے فائدے کے لئے ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَنْفِقُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَاتُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃ ا ور اللہ کے راستے میں جان مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ پس اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ترجیحات بدل گئی ہیں یا بدل رہی ہیں۔ جانی اور مالی قربانیوں کی بہت اہمیت ہے۔
سوال: بیان میں تقویٰ طہارت اور نیک نتیجہ کیسے پیدا ہوگا؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :بیان میں جب تک روحانیت اور تقویٰ و طہارت اور سچا جوش نہ ہو اس کا کچھ نیک نتیجہ مرتب نہیں ہوتاہے۔ وہ بیان جو کہ بغیر روحانیت اور خلوص کے ہے وہ اس پرنالے کے پانی کی مانند ہے جو موقع بے موقع جوش سے پڑ اجاتا ہے اور جس پرپڑتا ہے اسے بجائے پاک و صاف کرنے کے پلید کر دیتا ہے۔انسان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہئے پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ۔ یعنی اے مومنو! پہلے اپنی جان کی فکرکرو۔ اگر تم اپنے وجود کو مفید ثابت کرنا چاہو تو پہلے خود پاکیزہ وجود بن جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ باتیں ہی باتیں ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کچھ اثر دکھائی نہ دے۔ ایسے شخص کی مثال اس طرح سے ہے کہ کوئی شخص ہے جو سخت تاریکی میں بیٹھا ہے اب اگر یہ بھی تاریکی ہی لے گیا تو سوائے اس کے کہ کسی پر گر پڑے اور کیا ہو گا۔ اسے چراغ بن کر جانا چاہئے تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے روشنی پائیں ۔ ٭٭٭