سوال:نبی اکرمﷺ نے جنگِ احزاب سے قبل ابوسفیان کے ایک خط کے جواب میںکیا تحریر فرمایا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نبی اکرمﷺ نے جنگِ احزاب سے قبل ابوسفیان کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا:سنو! انجام کار خدا ہمیں کامیاب کرے گا اور اے بنو غالب کے احمق! یاد رکھو کہ ایک دن آئے گا کہ تمہارے لات، عُزّیٰ، اِساف، نائلہ اور ہُبل ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے اور اس دن مَیں تمہیں یہ سب یاد دلاؤں گا۔
سوال: خندق کھودنے کے فیصلہ کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:خندق کھودنے کا فیصلہ صرف حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورہ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً نبی کریم ﷺکو یہ طریق بتایا تھا۔
سوال: غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب کب ہوئی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب پانچ ہجری بمطابق فروری اور مارچ 627ء میں ہوئی تھی۔
سوال:جنگ خندق یاجنگ احزاب نام رکھنے کی کیا وجہ تسمیہ بیان ہوئی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس جنگ کی وجہ تسمیہ کہ جنگ کا یہ نام کس طرح رکھا گیا۔ اس جنگ کو جنگِ خندق بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب کے دستورکے، رواج کے خلاف پہلی مرتبہ مسلمانوں نے خندق کھود کر دفاعی جنگ لڑی تھی اور اس کو جنگِ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کو یہ نام دیا ہے۔ احزاب حِزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں۔ چونکہ اس جنگ میں عرب کی مختلف جماعتیں اور گروہ اکٹھے مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے اس لیے اس جنگ کو جنگِ احزاب کہا گیا ہے۔
سوال: بنو فَزَارَہ کس کی سرداری میں رسول کریم ﷺسے لڑائی کرنے پر آمادہ ہوگئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بنو فَزَارَہ اپنے سردار عُیَینہ کی سربراہی میں رسول اللہ ﷺسے لڑائی کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے اور عیینہ نے اپنے دوست قبیلے بنو اسد کو دعوت دی، چنانچہ بنو اسد کے سردار طُلَیْحَہ اَسَدِی نے بھی یہ دعوت قبول کر لی اور بنو مُرَّة اور بنو اشجع قبائل نے بھی اس جنگ کی افرادی قوت میں خاصہ اضافہ کیا۔ یہ سارے وہ قبائل تھے جو اپنی بہادری میں پورے عرب میں ایک نام رکھتے تھے۔
سوال: حضور انور نے قریش اور دیگر قبائل کا اس جنگ کیلئے روانہ ہونا اور انکی تعداد کے بارے میں کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:قریش اور دیگر قبائل کا اس جنگ کے لیے روانہ ہونا اور ان کی تعدادکے بارے میں لکھا ہے کہ قریش مکہ چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ ان کی قیادت ابوسفیان کر رہا تھا۔ سواروں کی کمان خالد بن ولید کر رہا تھا۔ انہوں نے دارالندوہ میں جھنڈا باندھا جو قریش کی مجلس شوریٰ کی جگہ تھی اور اس کو عثمان بن طلحہ نے اٹھایا۔ انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور اپنے ساتھ تین سو گھوڑے لیے اور ان کے ساتھ پندرہ سو اونٹ تھے۔ بنوسلیم کے سات سو افراد قریش کے ساتھ آ ملے۔ ان کی قیادت اب سفیان بن عبد شمس کر رہا تھا۔ بنو اسد طلیحہ بن خویلد کی قیادت میں روانہ ہوئے اور بنو فزارہ کے ایک ہزار افراد نکلے جن کی قیادت عیینہ بن حِصن کر رہا تھا۔ بنو اشجع کے چار سو افراد نکلے اور ان کا قائد مسعود بن رُخَیلہ تھا۔ بنو مُرَّہ کے چار سو آدمی روانہ ہوئے اور ان کی قیادت حارث بن عوف مُرِّی کر رہا تھا۔ بنو غطفان کی طرف سے چھ ہزار فوجیوں کا وعدہ تھا اور یہود کی طرف سے دو ہزار سے زائد کی ریزرو فوج تھی جو اس بڑے لشکر کے پیچھے ایک آخری ضرب لگانے کے لیے تیار کھڑی ہو گی اور یوں مختلف قبائل کے لوگ جو اس جنگ میں شریک ہوئے ان کی تعداد کم سے کم دس ہزار اور بعض روایات کے مطابق چوبیس ہزار کے قریب تھی۔ ان سب کی قیادت ابوسفیان بن حرب کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت تک کی تاریخِ عرب کی سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔
سوال: جنگ خندق میں کفار کے لشکر کی تعداد کتنی تھی؟
جواب:حضرت بشیر احمد صاحبؓایم اے نے فرمایا: کفار کے اس عظیم الشان لشکر کا اندازہ دس ہزار نفوس سے لے کر پندرہ ہزار بلکہ بعض روایات کی رُو سے چوبیس ہزار تک لگایا گیا ہے۔اگر دس ہزار کے اندازے کوہی صحیح تسلیم کیا جاوے توپھر بھی اس زمانہ کے لحاظ سے یہ تعداد اتنی بڑی تھی کہ غالباً اس سے پہلے عرب کی قبائلی جنگوں میں اتنی بڑی تعداد کبھی کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئی ہو گی …سارے لشکر کا قائداعظم یعنی سپہ سالار ابوسفیان بن حَرْب تھا…سامان خورونوش اورسامانِ جنگ بھی ہرطرح کافی وشافی تھا۔ اس طرح یہ لشکر شوال پانچ ہجری مطابق فروری ومارچ 627ءمیں مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔
سوال: حضرت مصلح موعود نے کفار کے لشکر کی تعداد کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا۔ یقیناً چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اَور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہوگا۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا۔ اِس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی چڑھائی نہیں تھی۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل ہوں) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے۔ اس کے برخلاف دشمن کی فوج بیس اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے۔ جوان اور لڑنے کے قابل تھے کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ مگر جب دور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ کفار کے لشکر میں بیس ہزار یا پچیس ہزار، جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط، جوان اور تجربہ کار سپاہی تھے۔ لیکن مدینہ کے کُل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار سمجھنی چاہیےاور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد بیس ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہیے۔
سوال: حضور انور نے پاکستان کے احمدیوں کیلئے کیا دعا کی تحریک فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آجکل پاکستان کے احمدیوں کو خاص طور پر دعاؤں میں یاد رکھیں۔پاکستانی احمدی خود بھی دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔ صدقات کی طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے اور مخالفین کے شر سے ان کو بچائے اور شریروں کے شر ان لوگوں پر الٹائے۔ عمومی طور پر دنیا کی بہتری کے لیے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی فتنہ و فساد سے بچائے۔