اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-10

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ05؍مئی 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلا وت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 206 کی تلاوت فرمائی وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰ صَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ۔
سوال:ہر احمدی کے دل میں کیا احساس ہونا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہر احمدی کواس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ہر وقت اس کے دل میں یہ احساس رہے کہ اب وہ احمدی ہو گیا ہے اور اگر اس میں کوئی پاک تبدیلی نظر نہ آئی تو اس کا احمدی ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔
سوال:قرآن کریم کی آیت وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰ صَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ میں اللہ تعالیٰ نے کس طرف توجہ دلائی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ توجہ دلائی ہے کہ عاجزی سے گڑگڑاتے ہوئے اور اللہ کا خوف دل میں قائم رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہواور صبح شام اس کی پناہ مانگو، اس سے مدد مطلب کرو کہ وہ تمہیں صحیح راستے پرچلائے۔ اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو تم غافلوں میں شمار ہو گے۔ اور جیسا کہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو دم غافل سو دم کافر۔ تو اسلام قبول کرنے کے بعد، آنحضرت ﷺکے عاشق صادق کی جماعت میں داخل ہونے کے بعد پھر یہ غفلتیں !! بڑی فکر مندی کی بات ہے۔
سوال: ہمیں اپنی زندگی کس طرح گزارنی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہمیں صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول ر ہنے اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے دن ڈرتے ڈرتے بسر ہونے چاہئیں یعنی یہ فکر ہوکہ اللہ ہماری کسی زیادتی کی وجہ سے ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور جب یہ فکر ہو گی تو یقینا اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں رہے گا اور اس کی یاد بھی دل میں رہے گی۔ اس کا ذکر بھی زبان پر رہے گا اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی رہے گی۔ اس کی مخلوق سے اچھے تعلقات رکھنے کی طرف توجہ بھی رہے گی۔ نظام جماعت سے تعلق بھی رہے گا۔ خلافت سے وفا کا تعلق بھی رہے گا۔ تو یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوں گی۔
سوال: ہر احمدی کے دل کا اطمینان کس سے ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہر احمدی کو ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس کے دل کا اطمینان اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی ضمانت بھی دی ہے۔ دنیا میں بہت ساری چیزیں بیچنے والے، مارکیٹ کرنے والے، دنیاوی چیزیں بنانے والے بڑے بڑے اشتہار دیتے ہیں کہ ہماری فلاں چیز خریدو تو 100فیصدی سکون یا Satisfactionمل جائے گی، تسلی ہوگی، لیکن کبھی ہوتی نہیں۔ جتنا بڑا چاہے کوئی دعویٰ کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دیتا ہے کہ میرا ذکر کرنے والوں کو، حقیقی طور پر میرا ذکر کرنے والوں کو، ان حکموں پر عمل کرنے والوں کومَیں اطمینان قلب دوں گا۔ دل کو چین اور سکون ملے گا۔ جیسا کہ فرمایا اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد:29) یعنی سمجھ لو کہ اللہ کی یاد سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اہمیت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے‘‘۔ فرمایا ’’پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الٰہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہو گا۔ ہاں اسکے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ کی حقیقت اور فلاسفی کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ :جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپکو اس کے سامنے یقین کرتا ہے اِس سے اُسکے دل پر ایک خوف عظمت الٰہی کا پیدا ہوتا ہے۔ وہ خوف اُسکو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے۔
سوال: حضور انور نے جلسہ سالانا نیوزی لینڈ میں کیا چیزیں نوٹ کیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: بعض بنیادی چیزیں ہیں جو مَیں نے نوٹ کی ہیں۔ جماعت کے متعلق، اسلام کے متعلق جن کو بنیادی چیزیں پتہ نہیں ہیں ان کو سیکھنی چاہئیں۔ بعض احمدی ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیوں احمدی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ کیا ہے۔ آنحضرت ﷺنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ۃ والسلام کے بارے میں کیا پیشگوئیاں فرمائی تھیں۔ کیا کیاپوری ہو گئیں اور اس طرح کے مختلف سوال ہیں۔ اور جب تک ہمارے سارے طبقے بشمول عورتیںان کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے تو مکمل کامیابیاں نہیں ہو سکتیں۔ گاؤں کی رہنے والی عورتوں کو عموماً اس بارے میں علم نہیں ہوتا کہ ہم احمدی کیوں ہیں ؟ اور اس وجہ سے پھر وہ اپنی اگلی نسلوں کو بھی نہیں سنبھال سکتیں۔ نہ تبلیغ کر سکتی ہیں۔ گاؤں میں رہنے والوں کی مثال تو مَیں نے فجی کی دی ہے یہ میرا وہاں کا جائزہ تھا۔ یہاں نسبتاً پڑھی لکھی عورتیں آئی ہیں لیکن یہاں آ کر حالات بہتر ہونے کی وجہ سے ان عورتوں کی دلچسپیاں نہ بدل جائیں۔ ایمان میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو۔ اور پھر یہ ہے کہ اپنے دینی علم میں اضافہ کرنے کی کوشش ہو۔ پس عورتوں کو بھی دینی علم سیکھنے کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔ خاص طور پر ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ طبقے میں دینی علم سکھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اور پھر ایک مہم کی صورت میں ہر مرد، عورت، جوان، بوڑھا احمدیت کا پیغام پہنچانے کی کوشش میں لگ جائے اس سے جہاں آپ کی اپنی حالت بہتر ہو گی، اپنی تربیت کی طرف توجہ پیدا ہو گی وہاں تبلیغ کے لئے بھی نئے نئے راستے کھلتے جائیں گے۔ وہاں بعض خاندانوں کے یہ مسائل بھی حل ہوں گے جو احمدی بچوں کے دوسرے مذاہب میں رشتے کی وجہ سے، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ پھر علم ہونے کی وجہ سے اور اس علم کو پھیلانے کی وجہ سے خلاف تعلیم رشتوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں رہے گا۔ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قربانی کے معیار بھی بڑھ رہے ہوں گے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں اللہ کا قرب پانے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیداکرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اس ضمن میں اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کے بارے میںکیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خداتعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جوہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔ ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقّت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ (الاحقاف:16) میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں۔ اور اکثر بیوی کی وجہ سے ۔