سوال:منافقین نے واقعہ افک جیسا ناپاک پراپیگنڈا گڑ کر کس پر حملہ کرنا چاہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:واقعۂ افک میں صرف ایک پاک دامن اور نہایت درجہ متقی اورپرہیز گار عورت کی عصمت پر ہی حملہ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ بڑی غرض بالواسطہ مقدس بانیٔ اسلام کی عزت کو برباد کرنا اور اسلامی سوسائٹی پر ایک خطرناک زلزلہ وارد کرنا تھی۔
سوال: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر کن دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی ہے؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:ایک ادنیٰ تدبیر سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ ایک رسول کریم ﷺسے اور ایک حضرت ابوبکرؓ سے کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واقعہ افک کے ضمن میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ و استغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔ ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (النور:23) تب حضرت ابوبکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔
سوال: منافقین نے واقعہ افک کے گندے اور کمینے پراپیگنڈاسے کس طرح صحابہ کرامؓالجھ کر ٹھوکر کھا گئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: منافقین نے اس گندے اور کمینے پراپیگنڈا کو اس طرح پر چرچا دیا تھا کہ بعض سادہ لوح مگر سچے مسلمان بھی ان کے دام تزویر میں الجھ کر ٹھوکر کھا گئے۔ان لوگوں میں حَسَّان بن ثابِت شاعر اور حَمْنَہ بنت جَحْش ہمشیرہ زینب بنت جحش اور مِسْطَح بن اُثَاثَہ کانام خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہؓ پر الزام لگانے کے سبب کاکیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:ہمیں دیکھنا چاہیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگایا گیا تو
اس کی اصل غرض کیا تھی؟اس کا سبب یہ تونہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے کوئی تعلق ہو، نہ قضا سے، نہ عہدوں سے، نہ اموال کی تقسیم سے، نہ لڑائیوں سے، نہ مخالف اقوا م پرچڑھائیوں سے، نہ حکومت سے،نہ اقتصادیات سے، اس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست بغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ نعوذ باللہ یہ الزام سچا ہو جس کو کوئی مومن ایک لمحہ کےلیے بھی تسلیم نہیں کر سکتا خصوصاً اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پرسے اِس گندے خیال کو رد کیا ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عائشہؓپر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لیے لگایا گیا ہو۔ایک ادنیٰ تدبیر سے بھی معلوم ہو سکتا ہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ ایک رسول کریم ﷺسے اور ایک حضرت ابوبکرؓ سے کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔
سوال: کیا صحابہ ؓیقینی طور پر سمجھتے تھے کہ رسول کریم ﷺکے بعد حضرت ابوبکر ؓآپؐکا خلیفہ بننے کے اہل ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حدیثوں میں صریح طور پر ذکر آتا ہے کہ صحابہ ؓآپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺکے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکرؓکا ہی مقام ہے۔ رسول کریم ﷺنے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے کہا: اے عائشہؓ! میں چاہتا تھا کہ ابوبکرؓکو اپنے بعد نامزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سِوا اَور کسی پر راضی نہیں ہونگے اس لیے میں کچھ نہیں کہتا۔غرض صحابہؓ یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد ان میں اگر کسی کا درجہ ہے تو ابوبکرؓکا ہے اور وہی آپؐکا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔
سوال:حضرت مصلح موعودؓافک کا حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے ساتھ تعلق کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓواقعہ افک کا حضرت ابوبکرؓکی خلافت کے ساتھ تعلق بیان کرتےہیں :سورہ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسوا کیا جائے اور رسول کریم ﷺسے ان کے جو تعلقات ہیں ان میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میں ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم ﷺکی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہو سکیں کیونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم ﷺکے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اٹھتی ہے تو وہ ابوبکرؓ ہی ہے اور اگر ابوبکرؓ کے ذریعہ سے خلافت قائم ہوگئی تو عبداللہ بن ابی ابن سلول کی بادشاہی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے معاً بعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں۔ وہ تو نورِ الٰہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔اس لیے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اس کا ضائع ہونا نورِنبوت اور نورِ الوہیت کا ضائع ہونا ہے۔پس وہ اس نور کو ضرور قائم کرے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک نہیں بلکہ متعدّد لوگوں کو خلافت پر قائم کرکے اس نُور کے زمانہ کو لمبا کر دے گا۔ تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگاؤ نہ تم خلافت کومٹاسکتے ہو نہ ابوبکرؓکو خلافت سے محروم کرسکتے ہو کیونکہ خلافت ایک نور ہے جو نور اللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹاسکتا ہے۔
سوال:واقعہ افک میں شامل ہونے والوں کی سزا کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:واقعہ اِفک میں شامل ہونے والوں کی سزا کے بارے میںآتا ہے۔ سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ آپ ﷺنے دو مَردوں اور ایک عورت کے متعلق قذف کی سزا کا حکم دیا جنہوں نے فحشاء کے بارے میں بات کی تھی۔ وہ حضرت حسّان بن ثابت اور مِسْطح بن اُثَاثہ تھے۔ نُفَیلی کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جو ایک عورت ہے وہ عورت حَمْنَہ بنت جحش تھی۔