اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-03

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍اپریل 2006 بطرز سوال وجواب

سوال: نظام خلافت کی برکت سے آپ کب فائدہ اٹھا سکیں گے؟
جواب:خلافت کی برکت سے آپ تبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب حقیقی معنوں میں مکمل طور پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺکے نمائندے اور عاشق صادق کی تعلیم پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔
سوال:صودا جزائر فجی دنیا کے کون سے کنارےپر ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا یہ شکر و احسان ہے کہ آج مجھے دنیا کے اس خطے اور ملک سے بھی براہ راست خطبہ دینے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ دنیا کا یہ حصہ دنیا کا آخری کنارہ کہلاتا ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کون سے نظارے ہمیں برائے راست دکھا رہا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کا ایک اَور طرح سے نظارہ کروا رہا ہے۔ ایک تو وہ نظارے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھائے اور دکھا رہا ہے کہ د نیا کے کناروں تک آپ کی تبلیغ اور آپ کا پیغام ہم ایم ٹی اے کے ذریعہ سے پہنچتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور 2005ء کے جلسہ قادیان اور اس سال کے شروع میں دو خطبات جمعہ اور ایک خطبہ عیدالاضحی بھی قادیان سے براہ راست نشر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہاں سے خطبات دینے کی توفیق دی جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے کناروں تک پہنچے۔ اور آج جیسا کہ مَیں نے کہا فجی کے اس شہر سے جو(فجی کا ہی) ایک دوسرا شہر ہے اور دنیا کا آخری کنارہ ہے یہ خطبہ دے رہا ہوں۔ تو ایک لحاظ سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے آخری کنارے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام دنیا کے باقی حصوں میں پہنچانے کا سامان اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ کوشش جو ہم براہ راست خطبہ نشر کرنے کے لئے کر رہے ہیں، کامیاب بھی ہو اور یوں ہم اس پیشگوئی کو اس طرح بھی پورا ہوتے دیکھیں کہ پہلے یہ پیغام دنیا کے ان کناروں تک پہنچا اور اب دنیا کے کنارے سے پھر تمام دنیا میں پھیل رہاہے۔
سوال: کس طرح کے نظارے اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے لوگوں کو دکھا رہا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کا ایک اَور طرح سے نظارہ کروا رہا ہے۔ د نیا کے کناروں تک آپ کی تبلیغ اور آپ کا پیغام ہم ایم ٹی اے کے ذریعہ سے پہنچتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور 2005ء کے جلسہ قادیان اور اس سال کے شروع میں دو خطبات جمعہ اور ایک خطبہ عیدالاضحی بھی قادیان سے براہ راست نشر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہاں سے خطبات دینے کی توفیق دی جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے کناروں تک پہنچے۔ اور آج جیسا کہ مَیں نے کہا فجی کے اس شہر سے جو(فجی کا ہی) ایک دوسرا شہر ہے اور دنیا کا آخری کنارہ ہے یہ خطبہ دے رہا ہوں۔ تو ایک لحاظ سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے آخری کنارے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام دنیا کے باقی حصوں میں پہنچانے کا سامان اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ کوشش جو ہم براہ راست خطبہ نشر کرنے کے لئے کر رہے ہیں، کامیاب بھی ہو اور یوں ہم اس پیشگوئی کو اس طرح بھی پورا ہوتے دیکھیں کہ پہلے یہ پیغام دنیا کے ان کناروں تک پہنچا اور اب دنیا کے کنارے سے پھر تمام دنیا میں پھیل رہاہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کون سے نظارے ہمیں برائے راست دکھا رہا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کا ایک اَور طرح سے نظارہ کروا رہا ہے۔ ایک تو وہ نظارے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھائے اور دکھا رہا ہے کہ د نیا کے کناروں تک آپ کی تبلیغ اور آپ کا پیغام ہم ایم ٹی اے کے ذریعہ سے پہنچتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور 2005ء کے جلسہ قادیان اور اس سال کے شروع میں دو خطبات جمعہ اور ایک خطبہ عیدالاضحی بھی قادیان سے براہ راست نشر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہاں سے خطبات دینے کی توفیق دی جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے کناروں تک پہنچے۔ اور آج جیسا کہ مَیں نے کہا فجی کے اس شہر سے جو(فجی کا ہی) ایک دوسرا شہر ہے اور دنیا کا آخری کنارہ ہے یہ خطبہ دے رہا ہوں۔ تو ایک لحاظ سے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے آخری کنارے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام دنیا کے باقی حصوں میں پہنچانے کا سامان اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ کوشش جو ہم براہ راست خطبہ نشر کرنے کے لئے کر رہے ہیں، کامیاب بھی ہو اور یوں ہم اس پیشگوئی کو اس طرح بھی پورا ہوتے دیکھیں کہ پہلے یہ پیغام دنیا کے ان کناروں تک پہنچا اور اب دنیا کے کنارے سے پھر تمام دنیا میں پھیل رہاہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز کی اہمیت کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔ وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے یعنی کہ جھکا رہتا ہے، روتا ہے۔ جو انسان دعائیں مانگتا ہے وہ امن میں رہتا ہے جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح پر نماز میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ یعنی اپنے آپ کو عاجز کرکے رونا اور گڑ گڑانا۔ خدا کے حضور گڑاگڑنے والااپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو ربّ ہے اس کی مہربانی اور شفقت اور پیار کی گود میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔یاد رکھو اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا۔ یعنی اس شخص نے اپنے ایمان کا مزا نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔ جس کو نماز میں مزا نہیں آیا۔ نماز پڑھتے ہوئے مزا آنا چاہئے تبھی ایمان کا مزا ہے۔ نہیں تو ایمان کے بھی زبانی دعوے ہیں۔ نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی دانہ کھاتے ہوئے ٹھونگیں مارتی ہے، ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا۔ اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ اور حضور الٰہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں۔ نماز میں دعا مانگو، نماز کو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔فاتحہ، فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ مومن کو مومن اور کافر کو کافر بنا دیتی ہے۔ فرق پیدا کر دیتی ہے۔ انسان کے دل میں اس سے ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے جو شروع ہوتی ہے اس کو سورۃفاتحہ کہتے ہیں یہ ضروری ہے ہر انسان کے لئے کہ ایک ایسا سوالی ہو جو کسی سے سوال کرنے میں بالکل پیچھے پڑنے والا سوالی ہوجائے۔ اور ایسی شکل بنائے جس کو بہت زیادہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔اور جیسے ایک فقیر اور سائل نہایت عاجزی سے کبھی اپنی شکل سے اور کبھی آواز سے دوسرے کو رحم دلاتا ہے۔ اس طرح سے چاہئے کہ پوری تضرع اور ابتہال کے ساتھ یعنی منت سے گڑ گڑا کر، زاری کرکے روئے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض حال کرے۔ پس جب تک نماز میں تضرع سے کام نہ لے جب تک نمازمیں روئے نہیں اور دعا کے لئے نماز کو ذریعہ قرار نہ دے، نماز میں لذت کہاں ۔
سوال: حضور انور نے قطع تعلق سے اجتناب کے متعلق کیا حدیث بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جوتجھے نہیں دیتا اسے بھی دے۔ جو تمہارے سے تعلق توڑتا ہے اس سے بھی تعلق قائم کرو جو تمہیں نہیں دیتا اس کو بھی دو، کوئی کسی قسم کا تمہارا حق ادا نہیں کرتا تب بھی اس کا حق ادا کرو۔ جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تُو درگزر کرے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے حق کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب:اللہ تعالیٰ کے حق کے بارے میں آپؑنے فرمایا کہ اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور بے غرض ہو کر عبادت کی جائے۔ یہ نہیں کہ جب کسی مشکل میں یا مصیبت میں گرفتار ہو گئے یا پڑ گئے تو اللہ کو یاد کرنا شروع کر دیا اور جب آسائش کے، آسانی کے دن آئے، ہر قسم کی فکروں سے آزاد ہو گئے تو دنیا میں ڈوب گئے اور خدا کو بھول گئے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ اس بات کا خیال ہی نہ رہے کہ ہمارا ایک خدا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور سب نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے۔ پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ رکھیں اور عبادت کا جوبہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے وہ پنجوقتہ نمازیں ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے {اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ}(طٰہٰ:15) یقینا مَیں ہی اللہ ہوں، میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔ پس اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا کہ میری عبادت اور میرا ذکر نماز کو قائم کرنے سے ہی ہو گا۔ اور نماز کو قائم کرنا یہ ہے کہ باقاعدہ پانچ وقت نماز پڑھی جائے اور مردوں کے لئے حکم ہے کہ باجماعت نماز پڑھی جائے۔ عورتیں تو نماز گھر میں پڑھ سکتی ہیں۔ یاد رکھیں نماز کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے اس قدر فرمائی ہے کہ فرمایا کہ نماز چھوڑنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ پس ہر احمدی کو اپنی نمازوں کی بہت زیادہ حفاظت کرنی چاہئے۔ جو بھی حالات ہوں، نمازوں کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔ اگر آپ نماز پڑھنے والے ہوں گے تو خداتعالیٰ سے آپ کا براہ راست تعلق پیدا ہو گا نہ آپ کو کسی اور وظیفہ کی ضرورت ہے، نہ کسی اور ورد کی ضرورت ہے، نہ کسی پیر فقیر کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ نماز کو ہی اپنا وظیفہ اور ورد بنا لیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔
ززز