اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-03

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ23؍اگست 2024بطرز سوال وجواب

سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے مقصد کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہوا ہے اس وقت آپ کی بیعت کے مقصد کو پورا کرنے والا ہو گا جب اپنے تقویٰ کے معیار بڑھائے گا۔
سوال: کارکنان کو کس جذبہ سے کام کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کارکنان اس جذبہ سے کام کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بلانے پر آئے ہوئے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے اور جو چاہے حالات ہوجائیں ہم نے اپنے اخلاق کے معیار بلند رکھنے ہیں اور خدمت کرتے چلے جانا ہے۔
سوال: کس طرح جلسہ پر آنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اگر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر اخلاق کے اعلیٰ نمونے دکھانے کی کوشش نہیں ہو رہی، اگر بندوں کے حقوق ادا نہیں ہو رہے تو پھر جلسہ پر آنے کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود عود علیہ السلام نے اپنی جماعت میں کن لوگوں کو شمار کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت میں شمار ہی اسے کیا ہے جس میں حقیقی تقویٰ اور طہارت پیدا ہو اور اپنی حالتوں کو درست کرتے ہوئے اپنی نیکیوں کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ جمع ہونے والے آپس میں تعارف بڑھائیں یعنی آپس میں محبت اور پیار اور تعارف کو بڑھائیں۔
سوال: اسلام کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں۔
سوال: ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا کب فائدہ حاصل ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت تبھی فائدہ دے گی جب ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ صرف کھوکھلے نعروں پر انحصار نہیں کرنے والے ہوں گے۔
سوال: اگر شاملین اور کارکنان بھرپور تعاون کریں تو اس سے کیا ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اگر سب شاملین تعاون کریں اور کارکنان بھی اپنی مقدور بھر کوشش کریں کہ ہم نے ہر لحاظ سے انتظامات کو اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے لحاظ سے بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہے تو برکت پڑتی ہے۔
سوال: مہمانوں کو کس مقصد کو مدنظر رکھنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مہمان اس مقصد کو سامنے رکھیں جو جلسہ کا مقصد ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہر تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے ان تین دنوں میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےبیعت کی غرض کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول ﷺ کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو۔
سوال: حضور انور نے احباب جماعت کو کن خصوصی دعائوں کی تحریک فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جماعت کا ہر فرد، ہر بڑا دو سو دفعہ یہ درود شریف پڑھے:سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّد…اور ساتھ ہی سو دفعہ استغفار بھی کریں۔اسی طرح سو دفعہ رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ کا ورد بھی کریں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں کن کے حق میں پوری ہونگی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں صرف انہی کے حق میں پوری ہوں گی جو اس مقصد کو سمجھ رہے ہوں گے۔ اس غرض کو سمجھ رہے ہوں گے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کا اجرا فرمایا تھا۔
سوال: نعمتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خلل نہ بنیں اس تعلق سے حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمیشہ یاد رکھیں کہ دنیاوی نعمتیں ایک احمدی کو تقویٰ سے دُور ہٹانے والی نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے دُور ہٹانے والی نہ ہوں۔ عبادتوں کو بھلانے والی نہ ہوں۔ اعلیٰ اخلاقی قدروں کو ہم سے چھیننے والی نہ ہوں۔ یہ کاروبار، یہ دنیاوی نعمتیں جو خدا تعالیٰ نے
ہمیں دی ہیں، یہاں آ کے بہت سارے لوگوں کے حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں بلکہ سب کے ہی بہتر ہیں اس کی نسبت جو پاکستان میں حالات تھے یا جو پہلے آپ کے حالات تھے باوجود آجکل یہاں مہنگائی کے اور معاشی حالات خراب ہونے کے پھر بھی آپ کے حالات ان حالات سے معاشی لحاظ سے، دنیاوی لحاظ سے زیادہ بہتر ہیں جو آپ کے پاکستان میں تھے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کرتے ہوئے اس کی محبت اور اس کے رسولؐ کی محبت کو دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے جلسہ منعقد کیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جیسا کہ فرمایا یہ تو آپؑنے ایک حیلہ نکالا ہے۔ یہ ایک ذریعہ ہے، یہ ایک بہانا ہے تا کہ جلد سے جلد تقویٰ میں ترقی ہو۔ یہ تو آپؑنے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تربیت کا ایک ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ صرف یہی نہیں کہ جو جلسہ میں شامل ہو اس نے ہی اپنے معیار اونچے کر لیے۔
سوال: اللہ تعالیٰ کے کامل بندے کون ہوتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے۔ لَا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (النور آیت 38)۔جب دل خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔ اسی طرح پر جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔