سوال:حضور انور نے آسٹریلیا کے دورہ کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین دن تک میرا آسٹریلیا کا دورہ انشاء اللہ اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ اس دورے میں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ میں شمولیت اور خطابات کی توفیق ملی، وہاں جماعت کے تقریباً تمام افراد سے انفرادی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور دوسرے پروگرام بھی ہوئے۔ اس براہ راست رابطے سے بہت کچھ دیکھنے، سمجھنے اور سننے کا موقع ملا۔ عمومی طور پر جماعت آسٹریلیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں کسی جماعت سے بھی پیچھے نہیں ہے۔ تاہم بعض کمیاں بھی ہوتی ہیں جن پر نظر رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کمزوریوں اور خامیوں کودور کیا جائے۔ کیونکہ ہمارے معیار اور ہماری نظر تو ہمیشہ اونچی رہتی ہے اور قدم ترقی کی طرف بڑھنے چاہئیں اور اُن معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جو معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے بیعت کرنے والوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔
سوال: آسٹریلیا میں احمدیوں کی بہت بڑی اکثریت کن لوگوں کی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:یہاں کے احمدیوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جو کہ مختلف وقتوں میں یہاں آتے رہے۔
سوال: حضور انور نے نوجوان اور غیر پاکستانی احمدیوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: لیکن نوجوانوں اور غیر
پاکستانی احمدیوں سے جو یہاں رہتے ہیں ان سے بھی مَیں کہتا ہوں کہ آپ نے بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کی ہے۔ آپ نے مسیح و مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مانا ہے، نہ کہ کسی اورکو۔اس لئے آپ کے سامنے جو نمونے ہونے چاہئیں، آپ کے سامنے ہر وقت جو تعلیم ہونی چاہئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کی تعلیم ہونی چاہئے اور آپؑکے نمونے ہونے چاہئیں۔ آپ نے یہ نہیں دیکھنا کہ فلاں بڑے یا فلاں پاکستانی احمدی کے نمونے کیا ہیں بلکہ آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے کیا توقعات وابستہ فرمائی ہیں۔ ورنہ یاد رکھیں خداتعالیٰ نے یہ نہیں کہنا کہ تمہیں اس لئے معاف کیا جاتا ہے کہ تم فلاں شخص کی وجہ سے ٹھوکر کھا گئے تھے۔ ہر ایک نے اپنا حساب دینا ہے۔ اس لئے یہ نہ دیکھیں کہ فلاں احمدی یا فلاں عہدیدار کیا کرتا ہے۔ یہ دیکھیں اور ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں کہ جس شخص کی بیعت میں ہم شامل ہوئے وہ خدا کی طرف سے ہے اور آنحضرت ﷺکا اس کی جماعت سے جڑا رہنے کا ارشادہے۔ اللہ کے خلیفہ سے جو مسیح و مہدی ہے آنحضرت ﷺکا اس سے تعلق جوڑنے کا ارشاد ہے۔ پس ہر احمدی چاہے وہ پاکستان کا رہنے والا ہے یعنی پاکستان سے یہاں آکر آباد ہوا ہے یا کسی دوسرے ملک سے۔ نوجوان ہے یا بوڑھا ہے، مرد ہے یا عورت ہے کہ اپنے اعمال کا وہ خود ذمہ دار ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کس ارشاد کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ آپ فرماتے ہیں :اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو، اپنے دلوں کو پاک کرو، اور اپنے مولیٰ کو راضی کرو۔دوستو! تم اس مسافر خانہ میں محض چند روز کے لئے ہو۔ اپنے اصلی گھروں کو یاد کرو۔ تم دیکھتے ہو کہ ہر سال کوئی نہ کوئی دوست تم سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی تم بھی کسی سال اپنے دوستوں کو داغ جدائی دے جاؤ گے۔ سو ہوشیار ہو جاؤ اور اس پُرآشوب زمانے کی زہر تم میں اثر نہ کرے۔ اپنی اخلاقی حالتوں کو بہت صاف کرو۔ کینہ اور بغض اور نخوت سے پاک ہو جاؤ۔ اور اخلاقی معجزات دنیا کو دکھلاؤ۔
سوال: کب نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لوامہ ہو جاتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:مَیں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امّارہ خداتعالیٰ کے نزدیک لوّامہ ہوجاتا ہے۔ اور ایسی قابل قدر تبدیلی پالیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا……یا اب جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خداتعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔
سوال: نفس امارہ اور لوامہ کیا ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ امارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہیں سکتا۔ جذبات پھر بے قابو ہو جاتے ہیں، جلدی غصے میں آ جاتا ہے اور برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور اندازے سے نکل جاتا ہے اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے۔ شیطان کے پنجے میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے۔ لیکن لوّامہ کی حالت میں اپنی خطاکاریوں پر نادم ہوتا ہے اور شرمسار ہو کر خدا کی طرف جھکتا ہے۔ مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمن کی طرف۔ پس اگر ہم اللہ سے رحم مانگتے ہوئے رحمن کی طرف جھکنے کی کوشش کرتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جس میں ایک نفس کی تیسری قسم بھی ہے جسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں وہ حاصل ہو گی۔ کہ جو کام بھی کرنا ہے اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرنا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ دل کا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ دل کو چین اور سکون ملتا ہے۔
سوال: اگر کوئی ہمیں برا بھلا کہے تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی کو برا بھلا کہہ دیا تو جس کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے وہ اس قدر غصے میں آ جاتا ہے کہ مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح اس نے ساری زندگی برائی کی نہ ہو۔ فرمایا کہ اگر ہر کوئی اپنی برائیوں پر نظر رکھے تو کسی کے کچھ کہنے پر کبھی غصے میں نہ آئے اور صبر اور برداشت سے کام لے اور جب ہر کوئی صبر اور برداشت سے کام لے گا تو بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل اور گلے شکوے پیدا ہی نہیں ہوں گے یا پیدا ہوتے ہی ختم ہو جائیں گے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کن لوگوں کی ایمانی حالت کے خطرہ کے متعلق فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیںمجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔ اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔ پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اعلیٰ اخلاق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:نبی اکرم ﷺنے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے، منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک کرتہ بھی دے دیا ہےاخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے یہ اصلاح نہیں ہوتی۔ زبان کی بداخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں۔ اس لئے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہئے۔ دیکھو کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔ پھر وہ شخص کیسا بے وقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قویٰ سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تربیت نہیں کرتا۔ ہرشخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہئے۔