اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-26

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ16؍اگست 2024بطرز سوال وجواب

سوال: رسول کریم ﷺنے نقیع مقام کے کنویں کھودنے اور نقیع مقام کو چراغ گاہ بنانے کا حکم حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعہ کو کیوں دیااور اسکی نگرانی کی ذمہ داری کس کے سپرد کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:بنومصطلق سے واپسی پر جب آنحضرت ﷺنَقِیْع مقام سے گزرے تو بہت کشادگی، گھاس اور بہت سے تالاب دیکھے۔ آپؐنے اس کے پانی کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! جب گرمیاں آتی ہیں تو پانی کم ہو جاتا ہے۔ تالابوں کا پانی نیچے چلا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺنے حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعہ کو حکم دیا کہ وہ کنواں کھودیں اور نقیع کو چراگاہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت بِلال بن حارِث مُزَنِی کو اس پر نگران مقرر کیا۔
سوال: اس چراگاہ میں آنے کی اجازت کن کی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہ سرکاری چراگاہ جو بنائی گئی تھی اس میں آنے کی ان غریبوں کو صرف اجازت دی، باقیوں کے لیے جو امراء تھے انہیں کہا اپنی اپنی علیحدہ بناؤ یہاں صرف سرکاری جانور ہی چرا کریں گے۔ یہ چراگاہ حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمرؓاور حضرت عثمانؓکے دَورِخلافت تک برقرار رہی اور بعد ازاں گھوڑوں اور اونٹوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے جگہ تبدیل ہو گئی۔
سوال: رسول اللہ ﷺصحابہ کو چاک و چوبند اور تازہ دم رکھنے کیلئے کیا کیا کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺصحابہ کو چاک و چوبند اور تازہ دم رکھنے کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔ آپ ان کے مابین وقتاً فوقتاً کھیل کے ایسے مقابلے کراتے رہتے جن میں شجاعت، جوانمردی، ایمانی اور جہادی تربیت کا پہلو غالب تھا۔ اس قسم کی کھیلوں سے ان کے عزم، حوصلے، ولولے اور بہادری میں بڑا اضافہ ہوتا تھا۔ گویا کہ کھیلوں کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ غزوۂ بنو مصطلق سے واپسی پر جب آپ ﷺنقیع پہنچے تو اسی روز آپ نے صحابہ کے مابین گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ کا مقابلہ بھی کروایا۔ آپ کی اونٹنی قَصْوَاء سب اونٹوں سے آگے نکل گئی۔ اس پر حضرت بلال بن رَبَاحؓسوار تھے اور آپؐکا گھوڑا سب گھوڑوں سے آگے نکل گیا۔ آپ کے پاس دو گھوڑے تھے ایک کو لِزَازْ جبکہ دوسرے کو ظَرِب کہا جاتا تھا۔ اس روز ظَرب نے مقابلے میں شرکت کی اس پر حضرت ابواُسَید سَاعِدِی سوار تھے اور وہ بھی پہلے نمبر پہ آیا۔
سوال:رسول کریم ﷺکا حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ کے مقابلہ کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسی جگہ آنحضرت ﷺکا حضرت عائشہؓ کے ساتھ دَوڑ کے مقابلے کا بھی ذکرملتا ہے۔ کتاب اِمْتَاعُ الْاَسْمَاع میں ہے کہ اس غزوہ یعنی بنو مصطلق کے سفر میں آنحضرت ﷺنے حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور آپ ﷺنے بھی قَبَا سمیٹی اور دوڑ لگائی تو آپ حضرت عائشہؓ سے آگے نکل گئے پھر ان سے فرمایا: یہ اس دفعہ کا بدلہ ہے جب تم مجھ سے آگے نکل گئی تھی۔
سوال: بنو مصطلق سے واپسی پر منافقین کی طرف سے کون کا واقعہ کھڑا کیا گیا اور وہ ام المومنین حضرت عائشہؓ پر ایک جھوٹی تہمت لگائی؟
جواب: بنو مصطلق سے واپسی پر منافقین کی طرف سے ایک اور فتنہ کھڑا کیا گیا اور وہ ام المومنین حضرت عائشہؓ پر ایک جھوٹی تہمت کا واقعہ ہے جس کو واقعۂ افک بھی کہا جاتا ہے۔
سوال: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو واقعہ افک کا کب علم ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابن ہشام نے یہ بیان کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ اپنے والدین کے گھر گئیں تو اُس وقت انہیں تہمت کا علم نہ تھااور ام مسطح والا واقعہ بھی والدین کے گھر جانے کے بعد پیش آیا تھا۔ بہرحال یہ دونوں روایتیں ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے اجازت دے دی۔ ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے میرے ساتھ ایک خادم بھیجا۔ میں گھر میں داخل ہوئی اور مَیں نے اپنی والدہ اُمِّ رُوْمَان کو مکان کے نچلے حصہ میں اور حضرت ابوبکر ؓکو گھر کے بالا خانے میں پایا۔ وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ یہ بخاری کی روایت میں ہے۔ کہتی ہیں مَیں نے اپنی ماں سے کہا اے میری پیاری ماں! لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں! ماں نے ان کو کہا کہ اے میری پیاری بیٹی! خاطر جمع رکھو۔ حوصلہ رکھو۔ اللہ کی قسم !کم ہی ہوتا ہے کہ کبھی کوئی حسین و جمیل عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں ہوں مگر وہ اس کے خلاف بہت کچھ کہتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا مَیں نے کہا سبحان اللہ۔ کیا لوگ بھی ایسی باتیں کرنی شروع ہو گئے ہیں؟ میرے بارے میں وہ ایسی بات کہیں۔
سوال: حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاریؓ کی بیوی ام ایوب نے جب حضرت عائشہ پر تہمت کے بارے میں ذکر کیا تو آپؓنے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:علامہ ابن اسحاق کہتے ہیں حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاریؓکی بیوی ام ایوب نے ان سے کہا کہ اے ابو ایوب ! تم سنتے ہو کہ لوگ عائشہ کے حق میں کیا کہہ رہے ہیں؟ ابو ایوب نے کہا ہاں میں نے سنا ہے اور یہ سب جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب !کیا تم ایسا فعل کر سکتی ہو۔ ام ایوب نے کہا خدا کی قسم! میں ایسے فعل کی مرتکب نہیں ہو سکتی تو ابوایوب نے کہا پھر عائشہ تم سے کہیں زیادہ افضل اور بہترہے۔ وہ کب ایسے فعل کی مرتکب ہو سکتی ہے۔
سوال: حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والا کون تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگانے والا رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبَی بن سَلُول تھا۔
سوال: جب صحابہؓ نے خادمہ سے حضرت عائشہ ؓ کے اخلاق کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺکے صحابہ میں سے ایک نے اس خادمہ کو ڈانٹا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺسے سچ بیان کرو یہاں تک کہ ان لوگوں نے اس بارے میں اسے کرید کرید کر پوچھا۔ وہ کہنے لگی کہ اللہ ہی کی ذات پاک ہے۔ اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں نہیں جانتی مگر جتنا سنار خالص کندن سونے کے بارے میں جانتا ہے۔ میں نے تو ان کو ہمیشہ اچھا ہی پایا ہے۔
سوال: واقعۂ افک کے حوالے سے وحی کے نزول کے بعد پہلی بات جو آپؐنےحضرت عائشہ سے کہی وہ کیا تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:واقعۂ افک کے حوالے سے وحی کے نزول کے بعد پہلی بات جو آپؐنے کہی وہ یہ تھی کہ اے عائشہ! اللہ نے تجھے بَری کر دیا ہے۔
سوال: حضور انور نے بنگلہ دیش ، پاکستان، اور فلسطین کے احمدیوں کے لئے کیا دعا کی تحریک فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آج پھر میںدعا کی طرف یاددہانی کروانا چاہتا ہوں۔بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لیے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے حالات بھی جلد بہتر فرمائے۔پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے حالات بھی بہتر فرمائے۔فلسطین کے مظلوموں کے لیے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر بھی رحم فرمائے۔مسلمان ممالک کے لیے۔اللہ تعالیٰ ان کے لیڈروں کو عقل دے اور وہ عوام کے حق ادا کرنے والے بنیں۔ ظلم کرنے والے نہ بنیں کیونکہ ان کے ظلم کی وجہ سے ہی دشمنوں کو بھی جرأت پیدا ہوتی ہے کہ مسلمانوں پر ظلم کرتے چلے جائیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ یہ خود حق ادا نہیں کر رہے تو ہمارے سے کس طرح حق مانگ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلم اُمّہ پر رحم فرمائے۔