اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-19

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ14؍اپریل 2006 بطرز سوال وجواب

سوال:نماز کو کس طرح پڑھنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:نماز ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مومن مومن نہیں کہلا سکتا۔ اور پھر یہ کہ نماز پڑھنی کس طرح ہے۔ سنوار کر ادا کرنی ہے۔ نماز کو جلدی جلدی اس لئے ادا نہیں کرنا کہ مَیں نے اس کے بعد اپنے دنیاوی جھمیلوں کو نمٹانا ہے۔ نماز سنوار کر پڑھنے میں بہت سے لوازمات شامل ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے اپنی جسمانی صفائی کا خیال رکھا جائے اور سستی اور کسل کو دور کیا جائے۔ اس لئے ہمیں حکم ہے کہ وضو کرکے نماز پڑھیں۔
سوال:وضو کرنے کا کیا طریق قرآن کریم میں بیان ہوا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہیٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُوْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ (المائدۃ:7) کہ اے مومنو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منہ بھی اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ بھی دھو لیا کرو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں بھی دھو لیا کرو۔
سوال: وضو کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جب مسلمان اور مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا منہ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی وہ تمام بدیاں دھل جاتی ہیں جن کا ارتکاب اس کی آنکھوں نے کیا ہو۔ پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کی وہ تمام غلطیاں دُھل جاتی ہیں۔ جو اس کے دونوں ہاتھوں نے کی ہوں۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک اور صاف ہو کر نکلتا ہے۔ پھر جب وہ پاؤں دھوتا ہے تو اس کی وہ تمام غلطیاں پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دھل جاتی ہیں جس کا اس کے پاؤں نے ارتکاب کیا ہو۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک اور صاف ہوکر نکلتا ہے۔
سوال: نماز وقت مقررہ پر ادا کرنے کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:نماز کو سنوار کر ادا کرنے کے سلسلے میں ایک اہم بات وقت پر نماز پڑھنا ہے۔ یہ وقت پر نماز پڑھنے کا احساس اور عادت ہی اس وصف کو نمایاں کرنے والی ہو گی کہ یہ انسان یا مومن بندہ نماز سنوار کر پڑھنے کی عادت اور خواہش رکھتا ہے اور اس کو عادت بھی ہے۔نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایاہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (النّسآء:104) یعنی نماز یقینا مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے اور یہ نمازوں کے اوقات پانچ مقرر کئے گئے ہیں اور بر وقت نماز کی ایک اہمیت ہے۔
سوال:نماز میں سنوار اور نکھار کب پیدا ہو گا ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: نماز میں سنوار اور نکھار تب پیدا ہو گا جب نمازیں باجماعت ادا کی جا رہی ہوں گی کیونکہ ایک مومن پر نماز باجماعت فرض ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ نماز کو قائم کرو، اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو۔ آنحضرت ﷺنے ان شرائط کو قائم کرنے کی جو سنت ہمارے سامنے قائم فرمائی وہ مسجد میں جاکر نماز باجماعت ادا کرنے کی ہے۔ ہمیں نماز باجماعت کی ادائیگی کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ ﷺفرماتے ہیں کہ باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔
سوال: نماز باجماعت کی کس قدر اہمیت ہے ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ایک دفعہ ایک نابینا آپؐکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے راستے کی ٹھوکروں کی وجہ سے مسجدمیں آنے میں دِقّت ہے۔ کیامیں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں ؟ پہلے تو آپؐنے اجازت دے دی۔ پھر فرمایا تمہیں اذان کی آواز آ جاتی ہے؟ اس نے عرض کی جی آواز تو آ جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر نماز کا حق یہ ہے کہ تم مسجدمیں آ کر نماز ادا کیا کرو۔
سوال: نماز کو سنوار کر پڑھنے سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔ نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔ اس دین میں ہزاروںلاکھوں اولیاء اللہ، راستباز، ابدال، قطب گزرے ہیں۔ انہوں نے یہ مدارج اور مراتب حاصل کئے؟اسی نماز کے ذریعے سے۔ خود آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں : قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کیلئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے ہیں۔ پس کشا کش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔
سوال: باجماعت نماز کی اہمیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہ غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔ پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عیدگاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔
سوال: استغفار کے حقیقی اصلی معنے کیا ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقے کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفَرَ سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے ہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہو ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے الگ نہیں ہوا۔ بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قویٰ اندرونی اور بیرونی کا پیداکرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔ یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا۔ اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقص کو خدا کی قیومیت کے ذریعے بگڑنے سے بچاوے۔
سوال: حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام نے تقویٰ کی اہمیت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پرقدم مارو گے۔ سواپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خداتعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقینا یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔
نیز فرمایا:تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔ وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔ تقویٰ ایک ایسی جڑ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ ہیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔ انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔
ض ژ ض