اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-19

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ09؍اگست 2024بطرز سوال وجواب

سوال: جنگ مریسیع کے اختتام پر کس بات پر مسلمانوں میں خانہ جنگی کی نوبت آ پہنچی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: واقعہ یوں ہوا کہ حضرت عمرؓ کا ایک نوکر جہجاہ نامی مریسیع کے ایک چشمے پر پانی لینے گیا تو اتفاقاً اسی وقت ایک دوسرا شخص سنان نامی بھی، جو انصار کے حلیفوں میں سے تھا وہاں پانی لینے پہنچا۔یہ دونوں شخص جاہل اور عامی لوگوں میں سے تھے۔ چشمے پر یہ دونوں شخص آپس میں لڑ پڑے۔ جہجاہ نے سنان کو ایک ضرب لگا دی، سنان نے زور زور سے چِلّانا شروع کردیا کہ اے انصار کے گروہ! میری مدد کے لیے آؤ۔ جب جہجاہ نے یہ دیکھا تو اس نے بھی مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔ جن انصار و مہاجرین کے کانوں میں یہ آواز پہنچی وہ تلواریں لے کر چشمے کی جانب لپکے اور دیکھتے دیکھتے وہاں اچھا خاصا مجمع ہوگیا۔ قریب تھا کہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ایسے میںبعض سمجھدار لوگوں نے مہاجرین اور انصار کو الگ الگ کرواکر صلح صفائی کروادی۔ آنحضورﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اسے جاہلیت کا مظاہرہ قرار دیا اور ناراضی کا اظہار فرمایا۔
سوال:جب منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سُلول کوانصار اور مہاجرین کے جھگڑےکی اطلاع پہنچی تو اس نے کیا کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سُلول کو اس واقعے کی اطلاع پہنچی تو اس نے اس فتنے کو پھر جگانا چاہا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آنحضورﷺ اور مسلمانوں کے خلاف خوب اُکسایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ جب ہم مدینے جائیں گے تو عزت والا شخص یا گروہ ذلیل شخص یا گروہ کو شہر سے باہر نکال دے گا۔
سوال: عبداللہ بن ابی کی حرتیں دیکھ کر انکے بیٹے نے آنحضورﷺ سے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ!آپ مجھے حکم دیں تو مَیں فی الفور عبداللہ بن ابی کا سر آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔
سوال: جب زید بن ارقم نے یہ الفاظ سنے تو اس نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: زید بن ارقمؓ نے یہ الفاظ سنے تو فوراً اپنے چچا کے ذریعے اس بات کی اطلاع آنحضور ﷺ کو پہنچائی۔
سوال: حضرت عمرؓنے جب عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت رسول کریم ﷺسے مانگی تو رسول کریم ﷺ نے کیا ارشادفرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عمرؓ نے یہ الفاظ سنے تو غصّے سے بھر گئے اور رسول اللہﷺ سے عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی۔ مگرحضورِ اکرمﷺ نے نرمی کا ارشاد فرمایااور عبداللہ اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قسم کھائی کہ ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ آنحضورﷺ نے اُسی وقت کُوچ کا حکم دیا اور مسلمان لشکر روانہ ہوگیا۔ اس موقعے پر اُسید بن حضیرؓ نے آنحضور ﷺ سے فوری بے وقت کُوچ کے متعلق دریافت کیا تو آپؐسنے فرمایا کہ تم نے عبداللہ بن ابی کے الفاظ نہیں سنے۔ اُسید نے کہا کہ ہاں یا رسول اللہﷺ ! آپ چاہیں تو مدینے پہنچ کر عبداللہ بن ابی کو شہر بدر کرسکتے ہیں۔
سوال: جنگِ مریسیع کے اختتام پرمہاجرین اور انصار کے بیچ میں جنگ کی نوبت آپہنچی تو کیا ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قریب تھا کہ کمزور مسلمانوں میں خانہ جنگی تک نوبت پہنچ جاتی۔ مگر آنحضرت ﷺ کی موقع شناسی اور مقناطیسی اثر نے اس کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو بچا لیا۔
سوال: عبداللہ بن ابی نے اپنےناپاک الفاظ کس موقع پرواپس لئے؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ یہ سارا واقعہ بیان کرکے فرماتے ہیں کہ جب لشکرِ اسلامی مدینے کے قریب پہنچا تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کا رستہ روک لیا اور کہا کہ مَیں تمہیں مدینے کے اندر داخل نہیں ہونے دوں گا تاوقتیکہ تم وہ الفاظ واپس نہ لو جو تم نے آنحضرت ﷺ کے خلاف استعمال کیے ہیں۔ جس منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خدا کا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہو اسی منہ سے تمہیں یہ بات کہنی ہوگی کہ خدا کا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔ عبداللہ بن ابی بن سُلول حیران اور خوف زدہ ہوگیا اور کہنے لگااے میرے بیٹے! مَیں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں محمد(ﷺ) معزز ہیں اور مَیں ذلیل ہوں۔ نَوجوان عبداللہ نے اس بات پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا۔
سوال:رسول کریم ﷺ کی اونٹنی کے گم جانے کے متعلق کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس سفر کے دوران حضور ﷺ کی اونٹنی بھی گُم گئی تھی۔ منافقین میں سے ایک شخص اس پر خوشیاں منانے لگا اور ایک مجلس میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تو غیب کی بڑی بڑی خبریں مل جاتی ہیں تو کیا اِس اونٹنی کا علم نہیں ہوسکتا۔ مجلس میں موجود لوگوں نے اس کی منافقانہ باتیں سنیں تو اسے خود سے الگ کردیا۔ وہ شخص رسول اللہﷺ کی مجلس میں پہنچا تو آپؐنے فرمایا کہ اس واقعے پر ایک شخص خوشیاں منارہا ہے،غیب کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے اور اس نے مجھے اس اونٹنی کے متعلق بتا دیا ہے وہ سامنے اس گھاٹی میں ہے۔اس پر وہ منافق شخص حیران اور ششدر رہ گیااور بہت نادم ہوا اس نے اپنے ساتھیوں کی مجلس میں کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ کے معاملے میں شک تھا مگر آج سارے شک دُور ہوگئے اور گویا مَیں آج ہی مسلمان ہوا ہوں۔
سوال: حضورانور نے بنگلہ دیش ، پاکستان اور فلسطین کے حالات کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حکومت کے خلاف وہاں فساد ہوا تھا، حکومت تو ختم ہوگئی مگر فساد جاری ہے، کل سے تھوڑی سی بہتری آئی ہے۔ ان حالات سے جماعت مخالف گروہ نے فائدہ اٹھاکر احمدیوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے۔ ہماری بعض مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی، اور انہیں جلایا گیا۔ جامعہ احمدیہ اور جماعتی عمارات کو نقصان پہنچایا گیا۔ وہاں توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور سامان جلایا گیا ہے۔ کئی احمدی زخمی ہوئے ہیں ان کے گھروں کو جلایا گیا ہے، نقصان پہنچایا گیا ہے۔ بعض گھروں کو مکمل جلادینے کی اطلاعات ہیں۔ بالکل لاقانونیت ہے۔ احمدیوں کو اُس علاقے میں جلسے کے دوران دو دفعہ نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اُن کے ایمان میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان میں مضبوط ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہم یہ سب برداشت کریں گے۔اللہ تعالیٰ رحم اور فضل فرمائے اور احمدیوں کو اپنی امان میں رکھے۔ مخالفین کی پکڑ فرمائے۔
اسی طرح پاکستان کے احمدیوں کے لیے بھی دعا کریں وہاں بھی پھر سخت حالات پیدا ہوگئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آج کل ملاں اور مفاد پرست لوگ احمدیوں کے خلاف مزید سرگرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے نام پر یہ لوگ ظلم کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کے بھی جلد سامان فرمائے۔
فلسطین کے مسلمانوں کے لیے بھی دعاکریں اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کی پکڑ کرے اور یہ ظلم ختم ہو۔
ض ژ ض