سوال:اللہ تعالیٰ نے جن اور انس کو کس لئے پیدا کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (ا لذّاریات: 57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:مَیں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔ پس اس آیت کی رو سے اصل مدّعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہوجانا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے۔ کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا۔ بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قویٰ اس کو عنایت کئے اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدّعا ٹھہرا رکھا ہے، خواہ کوئی انسان اس مدّعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدّعا بلاشبہ خدا کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ انسانوں کی اصلاح کیلئے کیا انتظام فرماتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہر انسان پر اللہ تعالیٰ وحی کر کے رہنمائی نہیں کرتا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت رکھی ہوتی ہے اور وہ انبیاء کے ذریعہ اصلاح ہے جو وہ مختلف لوگوں میں بھیجتا رہا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں اور قویٰ کے لحاظ سے اس قابل ہو گیا ہے کہ روحانیت کے اعلیٰ ترین معیاروں کو حاصل کر سکے تو آخری شریعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺکو مبعوث فرمایا اور دین مکمل کرنے اور اپنی نعمتوں کے انتہا تک پہنچنے کا اعلان فرمایا اور یہ اعلان فرمایا کہ اب قیامت تک یہی دین ہے جو قائم رہنے والا دین ہے۔ اگر اس کے ساتھ چمٹے رہو گے تو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے فائدے اٹھاتے رہو گے۔
سوال:ایک احمدی کو احمدیت قبول کرنے کے بعداپنی زندگی کس طرح گزارنی چاہئے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ایک احمدی کو احمدیت قبول کرنے کے بعد ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارنی چاہئے کہ کہیں کسی حکم کی نافرمانی نہ ہو جائے۔
سوال:حضور انور نے حیا کے متلعق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ اب آج کل کی دنیا میں، معاشرے میں، ہر جگہ ہر ملک میں بہت زیادہ کھل ہو گئی ہے۔ عورت مرد کو حدود کا احساس مٹ گیا ہے۔Mix Gatherings ہوتی ہیں یا مغرب کی نقل میں بدن پوری طرح ڈھکا ہوا نہیں ہوتا، یہ ساری اس زمانے کی ایسی بے ہودگیاں ہیں جو ہر ملک میں ہر معاشرے میں راہ پا رہی ہیں۔ یہی حیا کی کمی آہستہ آہستہ پھرمکمل طور پر انسان کے دل سے، پکے مسلمان کے دل سے، حیا کا احساس ختم کر دیتی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے ایک چھوٹے سے حکم کو چھوڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ حجاب ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور پھربڑے حکموں سے بھی دوری ہوتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھی دوری بھی ہو جاتی ہے۔ اور پھر انسان اسی طرح آخر کار اپنے مقصد پیدائش کو بھلا بیٹھتا ہے۔ اس لئے اس زمانے میں خاص طور پر نوجوان نسل کو بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ ہر وقت دل میں یہ احساس رکھنا چاہئے کہ ہم اس شخص کی جماعت میں شمار ہوتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق بندے کو خدا کے قریب کرنے کاذریعہ بن کر آیا تھا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقی بیعت کا کیا مفہوم بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:یاد رکھو نری بیعت سے کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہوتا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادا نہ کرے اور اس وقت تک یہ بیعت، بیعت نہیں نری رسم ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔ یعنی تقویٰ اختیار کرو، قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کرو اور پھر عمل کرو۔ کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نر ے اقوال اور باتوں سے کبھی خوش نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضاکے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جاوے۔ اور اس کے نواہی سے بچتے رہو۔ اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہوتا ہے۔ سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بناتا ہے کرتا کچھ نہیں۔ اور اس کے مقابلہ میں حقیقی مسلمان عمل کر کے دکھاتا ہے، باتیں نہیں بناتا۔ پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ میرے لئے عبادت کر رہا ہے اور میرے لئے میری مخلوق پر شفقت کر رہا ہے تو اُس وقت اپنے فرشتے اُس پر نازل کرتا ہے اور سچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اُس کا وعدہ ہے فرقان رکھ دیتا ہے۔
سوال:جماعت احمدیہ دشمنوں کے ظلم پر کیا نمونہ قائم کرتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہم ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں لیتے اور ایسے ظلموں پر ہم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں اور ہمیشہ جھکتے رہیں گے۔ ہر انڈونیشین اس بات کا گواہ ہے کہ ابتلاء اور امتحان انکے جذبۂ ایمان میں کوئی لغزش نہیں لا سکے بلکہ ایمان میں مضبوطی کا باعث بنے ہیں۔
سوال:حضور انور نے انڈونیشین بہن بھائیوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مَیں اپنے انڈونیشین بہن بھائیوں سے کہتا ہوں کہ اپنی قوم کے احمدیوں کو تسلی دیں کہ صبر کریں اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ احمدیت کا ایک طُرّہ امتیاز ہے کہ وہ کبھی ظلم کا بدلہ لینے کیلئے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو ایسی سختی کے، ظلم کے موقعوں پر خدا کے آگے جھکتے ہیں۔ اُس خدا کے آگے جس نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔ اُس خدا کے آگے جس نے کہا کہ میرے سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔ پس اس سے مدد مانگیں، انشاء اللہ وہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا، کبھی ضائع نہیں کرے گا، کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یاد رکھیں آپ اکیلے نہیں ساری دنیا کی جماعت احمدیہ کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ عارضی ابتلاء ہے انشاء اللہ گزر جائے گا۔ یہ ابتلاء جو آیا ہے یہ جماعت کی ترقی کیلئے آیا ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دشمنان احمدیت کو کیا چیلنج کیا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: اے نادانو! اور اندھو!مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو مَیں ضائع ہو جاؤں گا۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلّت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔ یقینا یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔ مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں۔ مَیں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔ مَیں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔ کیا خدا مجھے چھوڑدے گا؟ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا؟ کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔ مَیں اس کے ساتھ، وہ میرے ساتھ ہے۔ کوئی چیز ہمارا پیوند توڑ نہیں سکتی۔ اور مجھے اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو، اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔ کسی ابتلا سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں۔ اگرچہ ایک ابتلا نہیں کروڑہا ابتلا ہو۔ ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔
ض ژ ض