اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-12

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ02؍اگست 2024بطرز سوال وجواب

سوال:حضور انور نے کارنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مَیں کارکنان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے جلسہ سے پہلے بھی، جلسہ کے دوران بھی اور جلسہ کے بعد بھی ان انتظامات کے کرنے اور سمیٹنے میں اپنا کردار ادا کیا اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت، عورتیں، مرد، بچے ان سب کی یہ ایسی خوبی ہے جس کی غیر بھی تعریف کرتے ہیں اور یہ خاموش تبلیغ ہوتی ہے۔
سوال: حضور انور نے ٹریفک کے انتظامات کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ٹریفک کا انتظام بھی بہت اچھا تھا۔ ہمسائے بھی خوش رہے۔ ہر سال ان کی طرف سے شکایات آتی ہیں اس سال شکایات نہیں آئیں بلکہ ان کے خیال میں شاید گذشتہ سال سے حاضری کم تھی جو اتنے آرام سے ٹریفک چلتی رہی حالانکہ حاضری گذشتہ سال سے دو ہزار زیادہ تھی اور جب ان کو یہ بتایا گیا تو اس بات پہ بڑے حیران تھے۔ ماشاء اللہ بہت اچھا انتظام تھا۔ اس علاقے کے ہمارے ایک کونسلر ہیں، جو احمدی ہیں، مربی بھی ہیں، انہوں نے سب ہمسایوں سے تعلقات اور ٹریفک پلاننگ میں بڑا اچھا کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے۔
سوال:فرنچ گیاناسے اسماعیل بیلن صاحب نے جلسے کے تاثرات کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب : حضور انور نے فرمایا: فرنچ گیانا سے اسماعیل بیلن صاحب جو جلسہ میں شامل ہوئے ان کا جماعت سے پرانا تعلق ہے لیکن بیعت نہیں کی ہوئی تھی۔ ان کو جلسہ کے دوران بیعت کی بھی توفیق مل گئی۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی تقریب جہاں دنیا کی تمام بڑی زبانیں اور نسلیں جمع ہوں کبھی نہیں دیکھی۔ اس جلسہ میں شامل ہو کر خاکسار کا ایمان یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ یہ سچی جماعت ہے اور یہ محمد ﷺکی جماعت ہے۔ اگر ہم نے ہمارے نبی ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہتے ہوئے مسیح موعود ؑ کو امام الزمان نہ مانا تو ہم گمراہ ہو جائیں گے۔
سوال:جاپان سے آئے ہوئے بدھ مت کے چیف پریسٹ یوشیدا صاحب اپنے تاثرات کا کن الفاظ میں ذکر کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جاپان سے آئے ہوئے بدھ مت کے چیف پریسٹ یوشیدا صاحب کہتے ہیں ہم نے جلسہ کے تمام سیشنز میں شرکت کی۔ میری اہلیہ خواتین کی مارکی میں بھی گئی۔ ہم نے نمائشیں بھی دیکھیں اور کچھ دیر کے لیے بازار کی طرف بھی گئے۔ ہر جگہ ایک بات مثالی تھی کہ خدمت کرنے والے رضاکار مستعد اور چوکس نظر آتے۔ پہلے دن سے لے کر آخری دن کے آخری لمحات تک کارکنان کا جوش و جذبہ ویسا ہی قائم و دائم تھا۔ جلسہ میں شامل ہونے والے احمدی احباب بھی نہایت مہمان نواز اور ملنسار تھے۔دنیا کے سو سے زائد ممالک کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوں تو کئی چیزیں مختلف نظر آتی ہیں، کئی مسائل آ سکتے ہیں مگر یہاں ہر ایک کے اخلاق اور رویّے ایک جیسے نظر آئے۔
سوال:چِلّی سے آنے والے ایک مہمان عمر گیبور (Gaibur) صاحب جو چِلّی کی نیشنل حکومت میں ڈائریکٹر آف ورشپ نے اپنے کیا تاثرات بیان فرمائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:چِلّی سے آنے والے ایک مہمان تھے عمر گیبور (Gaibur) صاحب جو چِلّی کی نیشنل حکومت میں ڈائریکٹر آف ورشپ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں میرے فرائض میں شامل ہے کہ چِلّی کی حکومت کو ملک میں قائم تمام مذہبی تنظیموں کی رجسٹریشن اور دیگر معاملات میں راہنمائی کروں۔ کہتے ہیں میں نے جماعت احمدیہ کے بارے میں ملک میں قائم مسلم تنظیموں سے رائے دریافت کی تو سب نے منفی تاثرات بیان کیے جن کا خلاصہ یہی تھا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ کہتے ہیں جلسہ میں آپ کے خلیفہ سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعدمیں آپ کی جماعت کے افرادسے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا اور اپنے زیرِ اثر لوگوں کے سامنے اپنے ذاتی تجربات ظاہر کروں گا کہ احمدی نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ بہترین اور مثالی مسلمان ہیں۔
سوال:ایک غیر احمدی مہمان سلیمان باہ صاحب نے اپنے کیا تاثرات بیان فرمائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آئس لینڈسے آئے ہوئے ایک غیر احمدی مہمان سلیمان باہ صاحب جو پیدائشی طور پر تو گیمبین ہیں کہتے ہیں جلسہ میں شامل ہو کر جماعت کے متعلق علم میں اضافہ ہوا۔ مختلف نمائشوں کی زیارت کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ جماعت دنیا بھر میں کیا کر رہی ہے۔جماعت کے علم کے حصول اور علم کو پھیلانے کی کاوشوں نے میرے پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس بات نے بھی مجھ پر گہرا اثر چھوڑا کہ تینتالیس ہزار افراد کی شمولیت کے باوجود پردے کا لحاظ رکھا گیا اور مرد اور عورتیں اپنی اپنی جگہ پر کام کر رہے تھے۔
سوال:تائیوان سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر کرسٹی چانگ صاحبہ نے اپنے کیا تاثرات بیان فرمائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:تائیوان سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر کرسٹی چانگ صاحبہ کہتی ہیں کہ ہمیں ایئر پورٹ سے بڑا ریسیو کیا گیا۔ بہت مہمان نوازی کا سلوک کیا گیا اور پھر ہمیں جلسہ میں شامل ہونے کا موقع ملا جہاں ہم نے دیکھا کہ ہزاروں رضا کار کام سرانجام دے رہے ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ کہتی ہیںمَیں نے دنیا کے بہت سے ممالک میں بہت بڑی بڑی کانفرنسز میں شرکت کی ہے لیکن اتنی بڑی کانفرنس کبھی نہیں دیکھی جس کا انتظام رضا کار انجام دے رہے ہوں۔
سوال:ایک مہمان لورینا ویلا (Lorena Villa Lobos) نے اپنے تاثرات کا کن الفاظ میں ذکر کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کوسٹاریکاسے آئی ہوئی ایک مہمان لورینا ویلا (Lorena Villa Lobos)کہتی ہیں کہ کوسٹا ریکا میں ان کا مسلم مذہبی تنظیموں سے واسطہ رہتا ہے مگر ان میں عورت کا کسی قسم کا کوئی کردار نظر نہیں آتا بلکہ صرف مرد ہی مذہب کی نمائندگی کرتے ہیں جو خاص مذہبی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں مگر جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ میں شرکت کرکے مجھے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ جماعت احمدیہ میں عورت کو مرد کے برابر مقام دیا جاتا ہے۔ دوسرے دن جب وہ عورتوں کے جلسہ گاہ میں گئیں تو عورتوں کا ڈسپلن اور صفائی کا معیار بہت بہتر نظر آیا۔ کہتی ہیںمجھے بتایا گیا کہ جماعت احمدیہ دنیا میں قیام امن، سلامتی اور انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے لیے کام کر رہی ہے تو مجھے شروع میں یہی محسوس ہوا کہ یہ سب کچھ صرف بیانات تک محدود ہے لیکن جلسہ میں شرکت کر کے اپنے تجربے سے دیکھا اور تصدیق کی کہ جماعت جو غیروں کو بیان دیتی ہے خود اس پر عمل بھی کرتی ہے۔
سوال:اٹلی کی یونیورسٹی آف فلورینس کے انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے پروفیسر روبرٹو کاتالونو نے اپنے کیا تاثرات بیان فرمائے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اٹلی کی یونیورسٹی آف فلورینس کے انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے پروفیسر روبرٹو کاتالونو (Roberto Catalano)ہیں۔ وہ جلسہ میںشامل ہوئے۔ کہتے ہیں مَیں اس تقریب سے حیران رہ گیا۔ یہ جلسہ دنیا بھر کی قوموں سے کئی ہزار نمائندوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے قابلِ ذکراتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔جلسہ میں ایک روحانی ماحول محسوس کیا جا سکتا ہے اور امام جماعت بھی جب کچھ بولتے ہیں تو سامعین کی مکمل خاموشی اور توجہ حیران کن ہوتی تھی۔ ایک گہرا روحانی ماحول قائم ہو جاتا تھا۔
ض ژ ض