سوال:خطبہ کے شروع میں حضور انور نے کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَاتُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ وَاَحْسِنُوا۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(البقرہ: 196)
سوال:احباب جماعت کو مالی قربانی کی طرف کیوں توجہ دلائی جاتی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی سنت پر عمل کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً جماعت کو مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی سست ہو رہا ہے تو اس کو اس طرف توجہ پیدا ہو جائے اور جو نئے آنے والے ہیں اور نوجوان ہیں ان کو مالی قربانیوں کا احساس ہو جائے، اس کی اہمیت کا احساس پیدا ہو جائے کہ مالی قربانی بھی ایک انتہائی ضروری چیز ہے اور وہ اپنی اصلاح کے لئے اور اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بن جائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَنْفُقُوْا خَیْرًا لِّأَ نْفُسِکُمْ(التغابن:17) کہ اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو یہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہو گا۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کرنے والوں کو کیا خوشخبری دی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قرآن کریم میں مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بارے میں بے شمار ارشادات ہیں اور یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو پورا اجر دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اجر ہے اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہو گے۔ اس لئے ہمیشہ اپنے مال کا بہترین ٹکڑا اس کی راہ میں خرچ کرو۔
سوال: صحابہ کس طرح مالی قربانی کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صحابہ نے قربانیاں دیں وہ قربانیاں اپنے اوپر تنگی وارد کرکے ہی دی گئی تھیں۔ ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنے اوپر تنگی وارد کی اور قربانیاں دیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استعدادیں زیادہ تھیں انہوں نے اس کے مطابق قربانی دی، دوسرے ان کو اللہ تعالیٰ کے اپنے ساتھ اس سلوک کا بھی علم تھا، ان کو پتہ تھا کہ مَیں آج اپنے گھر کا سارا سامان بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دوں گا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی دماغی صلاحیت دی ہے اور تجارت میں اتنا تجربہ ہے کہ اس سے زیادہ مال دوبارہ پیدا کر لوں گا اور توکل بھی تھا، یقین بھی تھا اور یقینا اس میں اعلیٰ ایمانی حالت کا دخل بھی تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا جائزہ لیتے ہوئے گھر کا نصف مال پیش کر دیا اور اسی طرح باقی صحابہ ؓ نے اپنی استعدادوں کے مطابق قربانیاں کیں اور کرتے چلے گئے۔
سوال:ہمیں کس سوچ سے مالی قربانی کرنی چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اللہ کی خاطر کی گئی قربانیوں کو اللہ کا فضل سمجھ کر کریں نہ کہ یہ خیال ہو کہ ہم جماعت پر یا خداتعالیٰ پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھ پر احسان کسی نے کیا کرنا ہے۔ مَیں تو ان قربانیوں کو جو تم کر رہے ہوتے ہو کئی گنا بڑھا کر تمہیں دیتا ہوں، تمہیں واپس لوٹا رہا ہوتا ہوں۔ پس یہ سودا تمہارے فائدے کے لئے ہے جیسا کہ فرماتا ہے{مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ ٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ} (البقرۃ :246) کہ کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لئے اس کو کئی گنا بڑھائے۔
سوال: کیا اللہ تعالیٰ کا قرض مانگنے سے کیا مراد ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے۔ ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔ یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔
سوال: جو مالی کشائش کے بعد دل میں کنجوسی محسوس کرتے ہیں ان کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یاد رکھنا چاہئے کہ سب چندے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہیں۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے مال کا سولہواں حصہ دے رہے ہیں تو یہ ان دینے والوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ میں تمہارے مالوں کو سات سو گنا یااس سے بھی زیادہ بڑھا کر واپس دیتا ہوں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کو جو اپنے مال کا اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے رہے ہو یہ تمہارے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے۔ اس میں ایک مومن کو یہ بھی ہدایت ہے، یہ بھی فرما دیا کہ مال ہمیشہ جائز ذریعے سے کماؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اچھا مال تبھی پیش کر سکتے ہو جب جائز ذریعہ سے کمایا ہو۔ اللہ تعالیٰ کو ناجائز منافع سے کمایا ہوا مال بھی پسند نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سود سے کمایا ہوا مال بھی پسند نہیں ہے بلکہ سختی سے اس کی مناہی ہے۔ رشوت کا پیسہ بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا ہے۔
سوال:آنحضرت ﷺکے زمانہ میں مالی قربانی کا معیار تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کے زمانے میں غریب اپنی طاقت کے لحاظ سے خرچ کرتا تھا اور امیر اپنی وسعت کے لحاظ سے خرچ کرتا تھا۔ غریب صحابہ بھی بے چین رہتے تھے کہ کاش ہمارے پاس بھی مال ہو تو ہم بھی خرچ کریں۔ جب جہاد کے لئے جانے کے لئے، باوجود ان کی خواہش کے، مالی تنگی اور سامان کی کمی کی وجہ سے ان کو پیچھے رہنا پڑتا تھا تو ان کی آنکھیں آنسو بہاتی تھیں اور ان کے دل بے چین ہوتے تھے۔ اور یہ اتنی سچی بے چینی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کا حال جاننے والا ہے اس نے بھی یہ گواہی دی کہ یہ بے چین دل اور آنسو بہاتی آنکھیں بناوٹ نہیں تھیں بلکہ حقیقت میں ان کی یہ کیفیت ہوتی تھی۔
سوال:رسول کریم ﷺنےاپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماءؓ بنت ابوبکر کو مالی قربانی کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت نبی کریم ﷺنے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماءؓ بنت ابوبکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کرخرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم کو گن گن کر ہی دے گا۔ اپنی تھیلی کا منہ بند کرکے(یعنی کنجوسی سے) نہ بیٹھ جانا ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔ یعنی نہ تو پیسہ آئے گا اور نہ نکلنے کی نوبت آئے گی۔ جتنی طاقت ہو، استعداد ہو اتناخرچ کرنا چاہئے۔
سوال:زکوۃ کی ادائیگی کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: زکوٰۃ کی ادائیگی کے بارے میں بعض سوال ہوتے ہیں۔ یہ بنیادی حکم ہے۔ جن پر زکوٰۃ واجب ہے ان کو ضرور ادا کرنی چاہئے اور اس میں بھی کافی گنجائش ہے۔ بعض لوگوں کی رقمیں کئی کئی سال بنکوں میں پڑی رہتی ہیں اور ایک سال کے بعد بھی اگر رقم جمع ہے تو اس پہ بھی زکوٰۃ دینی چاہئے۔ پھر عورتوں کے زیورات ہیں ان پر زکوٰۃ دینی چاہئے۔ جو کم از کم شرح ہے اس کے مطابق ان زیورات پہ زکوٰۃ ہونی چاہئے۔ پھر بعض زمینداروں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان کو اپنی زکوٰۃ اداکرنی چاہئے۔ تو یہ ایک بنیاد ی حکم ہے اس پر بہرحال توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سوال: آنحضرت ﷺنے کس طرح اپنے صحابہ کو مالی قربانیوں کی ترغیب دلائی ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والااللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہے گا۔
ض ژ ض ض ژ ض