اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-05

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ26؍جولائی 2024بطرز سوال وجواب

سوال:سلام کو رواج دینے کیلئےہمیںکیا کرنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ سلام کو رواج دینے کے لیے تم چاہے کسی کو جانتے ہو یا نہیں جانتے اس کو سلام کرو۔
سوال:حضور انور نے سلامتی کی دعا کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ پاکیزہ اور بابرکت دعا سکھائی ہے اس کی طرف ان دنوں میں بہت توجہ دیں تا کہ ہم ہر طرف سلامتی اور پیار اور محبت پھیلانے والے بن جائیں اور یہ ماحول خالصۃ للہ پیار اور محبت اور بھائی چارے کا ماحول بن جائے۔
سوال:جلسہ پر آنے والوں کو کس بات کی فکر ہونی چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جلسے پر آنے والوں کو کسی بھی قسم کی سہولت میسر آنے سے زیادہ اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ کس طرح ہم اس ماحول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سوال:حضور انور نے کارکنان کو کس طرف توجہ دلائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مَیں تمام کارکنان کو اس طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ جو بھی ڈیوٹیاں ان کے سپرد ہیں وہ انہیں اچھے رنگ میں انجام دینے کی کوشش کریں ۔ بہترین رنگ میں انجام دینے کی کوشش کریں۔ جلسہ کے مہمانوں کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان سمجھ کر خدمت کریں ۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر نیک مقصد کے لیے آنے والے مہمان سمجھ کر خدمت کریں۔ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ مہمان کی طرف سے آپ کے خیال میں اگر کوئی زیادتی بھی ہو جاتی ہے تو اس سے صرفِ نظر کریں ۔ یہی ہماری روایت ہے۔ یہی اعلیٰ اخلاق ہیں۔ یہی خدا اور اس کے رسولؐکا حکم ہے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں ۔ اب یہ مہمان نوازی اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کا ہر ملک میں ایک خاص وصف بن چکا ہے۔
سوال:نیز حضور انور نے ہر شعبہ کے کارکنان کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہر شعبہ کے جو کارکنان ہیں ان کو اپنے مہمانوں کا اچھی طرح خیال رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے وہ ٹریفک کی ڈیوٹی ہے یا پارکنگ کی ڈیوٹی ہے یا کھانا کھلانے کی ڈیوٹی ہے یا ڈسپلن کی ڈیوٹی ہے یا گیٹ پر چیکنگ کی ڈیوٹی ہے یا ہائی جین اور صفائی کی ڈیوٹی ہے یا پانی سپلائی کی ڈیوٹی ہے کوئی بھی ڈیوٹی ہے کوشش کریں کہ حتی الوسع مہمان کی سہولت کا انتظام ہو اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ پہنچے۔
سوال:حقیقی مومن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حقیقی مومن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ غصہ کو دبانے والے ہوتے ہیں اور زیادتی کرنے والے یا جن پر زیادتی ہو رہی ہو دونوں کو میں یہ کہتا ہوں کہ جلسہ کے ماحول کے تقدس کو سامنے رکھیں اور مہمان بھی صَرفِ نظر سے اور عفو سے اور درگزر سے کام لیں۔
سوال:مہمان کا دل کس طرح کا ہوتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرمایا کرتے تھے کہ مہمان کا دل تو آئینہ کی طرح ہوتا ہے، جذباتی ہوتے ہیں ۔ ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ ذرا سی بات پر ہلکی سی ٹھوکر سے وہ شیشے کی طرح ٹوٹ جاتا ہے۔
سوال:حضور انور نے مہمانوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپ لوگ ایک نیک مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان بن کر یہاں آئے ہیں ۔ دنیاوی اعزاز اور دنیاوی خدمت کے بجائے ان اعلیٰ اخلاق میں مزید ترقی کرنے کو اپنے پیش نظر رکھیں جو ایک حقیقی مسلمان کا طرۂ امتیاز ہے اور جس کو حاصل کرنے کے لیے آپ لوگ یہاں آئے ہیں اور اسی مقصد کے لیے آنا چاہیے۔ پس آپ اپنے آپ کو کبھی دنیاوی مسافروں اور مہمانوں کے زُمرے میں لانے کی کوشش نہ کریں ۔ اگر اس بات کو آپ سمجھ جائیں گے تو میزبانوں کی کمزوریوں اور کمیوں سے بھی آپ صَرف نظر کرتے رہیں گے ورنہ بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ شکوہ پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں جگہ کے لوگوں کا بہتر انتظام تھا۔ فلاں لوگوں کو زیادہ سہولت میسر کی گئی تھی۔ فلاں کے ساتھ بہتر سلوک ہوا۔ فلاں کے ساتھ کم سلوک ہوا۔ تو اس طرح پھر اس قسم کے شکوے پیدا نہیں ہوں گے۔بعض دفعہ اندازے کی غلطی سے بعض کمزوریاں رہ جاتی ہیں تو ان کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ اگر ہر ایک کے دل میں یہ خیال ہو، ہر آنے والے احمدی مسلمان کے دل میں یہ خیال ہو کہ ہمارا مقصد صرف اور صرف روحانی مائدہ حاصل کرنا ہے نہ کہ کسی بھی قسم کی دنیاوی سہولتوں کو حاصل کرنا ہے تو پھر دونوں میزبان اور مہمان محبت اور پیار سے یہ دن گزاریں گے۔
سوال:جو للّٰہی سفر اختیار کرنے والے ہوتے ہیں ان کی توجہ کس طرف ہوتی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جو للّٰہی سفر اختیار کرنے والے ہوتے ہیں اُن کو اِن دنیاوی ضروریات اور آراموں کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے اور یہی ان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے کہ یہاں رہ کر زیادہ سے زیادہ روحانی مائدے سے فائدہ اٹھائیں ۔
سوال:اگر وسعت حوصلہ پیدا ہو جائے تو کیا ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اگر وسعتِ حوصلہ پیدا ہو جائے تو تمام بدمزگیاں اور جھگڑے ختم ہوجائیں۔
سوال:مہمان اورڈیوٹی دینے والوں کا کیا فرض ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مہمانوں اور ڈیوٹی دینے والوں، کا فرض ہے کہ وسعتِ حوصلہ دکھائیں۔ چیکنگ کرنے والوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آنے والے مہمانوں کے لیے جس حد تک سہولت مہیا کر سکتے ہیں وہ مہیا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے اگر انتظامیہ کو زیادہ کارکن بھی لگانے پڑیں تو لگانے چاہئیں خاص طور پر رش کے وقتوں میں۔
سوال:سب سے بڑھ کر ہماری سکیورٹی کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سب سے بڑھ کرسکیورٹی ہماری یہی ہے کہ اپنے دائیں بائیں نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ ہر ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہے۔یہ سب سے بڑی سیکیورٹی ہوتی ہے۔ اگر یہ ہو جائے تو پھر کسی مخالف کو، دشمن کو کسی بھی قسم کا شر پھیلانے کا موقع نہیں ملتا۔
سوال:ہمارے پاس سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سب سے بڑا ہتھیار ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی پناہ ہے اور اس پناہ کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں اور ذکرِ الٰہی کی طرف ہمیں زور دینا چاہیے۔ اس طرف خاص طور پر ان تین دنوں میں زور دیں ۔
…٭…٭…٭…