سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 160 کی تلاوت فرمائی:فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ۔
سوال:حضور انور نے شوریٰ کے نظام کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جماعت میں مجلس شوریٰ کا ادارہ نظام جماعت اور نظام خلافت کے کاموں کی مدد کے لئے انتہائی اہم ادارہ ہے اور حضرت عمر ؓکا یہ قول اس سلسلہ میں بڑا اہم ہے کہ لَاخِلَافَۃَ اِلَّابِالْمَشْوَرَۃکہ بغیر مشورے کے خلافت نہیں ہے اور یہ قول قرآن کریم کی ہدایت اور آنحضرت ﷺکے اُسوہ کے عین مطابق ہے۔ آپ ﷺصحابہ سے ہر اہم کام میں مشورہ لیا کرتے تھے۔قرآن مجید میںمشورہ لینے کا حکم تو ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ جو اکثریت رائے کا مشورہ ہو اُسے قبول بھی کرنا ہے۔ اس لئے وضاحت فرما دی کہ مشورہ کے بعد مشورہ کے مطابق یا اُسے رد ّکرتے ہوئے، اقلیت کا فیصلہ مانتے ہوئے یا اکثریت کا فیصلہ مانتے ہوئے جب ایک فیصلہ کر لوکیونکہ بعض دفعہ حالات کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے مشورہ ردّ بھی کرنا پڑتا ہے۔ تو پھر یہ ڈرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا نہ ہو جائے، ویسا نہ ہو جائے۔ پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا اس پر عمل کرو۔
سوال:مشورہ کن لوگوں سے کرنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شَاوِرُوْا الْفُقَہَآءَ وَالْعَابِدِیْن کہ سمجھدار اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرو۔
سوال:جب حضور انور شوریٰ کے کسی فیصلہ کی منظوری فرما دیتے ہیں تو نمائندگان کا کا کیا فرض ہونا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یاد رکھیں کہ جب مجلس شوریٰ کسی رائے پر پہنچ جاتی ہے اور خلیفۂ وقت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کو جماعتوں میں عملدر آمد کرنے کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔ تو یہ نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جوطریق وضع کرکے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ یا بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہدیداران کی سستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔
سوال:شوریٰ کے نمائندگان اور عہدیداران اپنی ذمہ داریاں کس طرح نبھانے کی ضرورت ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: شوریٰ کے نمائندگان اور عہدیداران کو چاہےکہ جماعت کی نظر میں آپ جماعت کا ایک بہترین حصہ ہیں جن کے سپرد جماعت کی خدمت کا کام کیا گیا ہے۔ اور آپ لوگوں سے یہ امید اور توقع کی جاتی ہے کہ آپ کا معیار ہر لحاظ سے بہت اونچا ہو گا اور ہونا چاہئے۔ چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو، عبادت کرنے کی طرف توجہ دینے کے بارے میں ہو، یا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو یا خلیفہ وقت سے تعلق اور اطاعت کے بار ے میں ہو۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جماعت کو تقویٰ اختیار کرنے کے متعلق کیا بیان فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تَتَّقُوْااللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًاوَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (الانفال:30) {وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ} (الحدید:29) یعنی اے ایمان والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خداتعالیٰ تم میں او ر تمھارے غیر وں میں فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قویٰ اور حواس میں آجائے گا۔ تمہاری عقل میں بھی نور ہو گااور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔
سوال:جماعت میں شوریٰ کے نمائندہ کس طرح چنتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جماعت میں یہ طریق رائج ہے کہ ایسے لوگ جو بظاہر نظام جماعت کے پابند بھی ہوں، مالی قربانی کرنے والے بھی ہوں، عبادتیں کرنے والے بھی ہوں وہ مرکزی شوریٰ کے لئے اپنے میں سے نمائندے چنتے ہیں جو مجلس شوریٰ میں بیٹھ کر تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے مشورے دیتے ہیں یاد ینے چاہئیں۔
سوال:جب شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے کیافرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک ر وایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِکی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اگرچہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری اُ مّت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے۔ پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشد وہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔
سوال:جو بھی شوریٰ نمائندہ یا عہدیدار ہو اسے کیسا ہونا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ جو دو تین دن شوریٰ کے لئے آتے ہیں اور آئے ہیں، ان میں صرف یہی نہیں کہ ان دنوں میں ہی یہیں نمازیں پڑھنی ہیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ ہر نمائندے کو، ہر عہدیدار کو، باقاعدہ نماز باجماعت کا عادی ہونا چاہئے۔ خود اپنے جائزے لیں، اپنا محاسبہ کریں، دین کی سر بلندی کی خاطر آپ کے سپرد بعض ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔ اگران میں دین کے بنیادی ستون کی طرف ہی توجہ نہیں ہے تو خدمت کیا کریں گے اور مشورے کیا دیں گے۔ جو دل عبادتوں سے خالی ہیں ان کے مشورے بھی تقویٰ کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔
سوال:اگر نمائندگان شوریٰ اور تمام عہدیداران اور تمام خدمت گزار اپنے اندر تقویٰ قائم کریں تو کیا ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اگر نمائندگان شوریٰ اور تمام عہدیداران اور تمام خدمت گزار اپنے اندر تقویٰ کی حالت پیدا کر لیں تو جماعت کے تقویٰ کے معیار بھی خود بخود بڑھنے شروع ہو جائیں گے انشاء اللہ اور پھر ہر فیصلہ جو کیا جائے گا اور ہر فیصلہ جس کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی جائے گی، اس پر عملدرآمد بھی ہو گا اور اس میں برکت بھی پڑے گی۔ اور یہ شکوے بھی انشاء اللہ ختم ہو جائیں گے کہ اتنی کوششوں کے باوجود بھی ہمارے پروگراموں کے نتائج سامنے نہیں آئے۔
سوال:حضور انور نے جماعت کو شوریٰ کے بابرکت ایام میں کس طرف توجہ دلائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو اجاگر کریں، اس کو سمجھیں اور خدا سے مدد مانگتے ہوئے شوریٰ کے دنوں میں اپنے اجلاس کے اوقات میں بھی اور فارغ اوقات میں بھی دعاؤں میں گزاریں۔ اور جب اپنی جماعت میں جائیں تو وہاں بھی آپ میں اس تبدیلی کا اثر مستقل نظر آتا ہو۔ یاد رکھیں کہ ہوشیاری، چالاکی یا علم سے نہ احمدیت کا غلبہ ہونا ہے، نہ کوئی انقلاب آنا ہے۔ اگر دنیا میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی ہے تو وہ دعاؤں سے اور تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے ہونی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہو گی۔
ض ژ ض