اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-29

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ19؍جولائی 2024بطرز سوال وجواب

سوال:جب نبی کریمﷺ نے بنو مصطلق پر حملہ کیا تو وہ غافل تھے اس تعلق سے حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓاس واقعے کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اس غزوے کے متعلق صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے بنو مصطلق پر ایسے وقت میں حملہ کیا کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ ا گر غورسے دیکھا جائے تو یہ روایت مؤرخین کی روایت کے خلاف نہیں ہے۔
سوال:جب اسلامی لشکر بنو مصطلق کے قریب پہنچا تو ان کی کیفیت کیا تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب اسلامی لشکر بنومصطلق کے قریب پہنچا تو کیونکہ ان کو معلوم نہیں تھا کہ مسلمان بالکل قریب آگئے ہیں گوکہ انہیں اسلامی لشکر کی آمد آمد کی اطلاع ضرور ہوچکی تھی۔ وہ اطمینان کے ساتھ ایک بےترتیبی کی حالت میں پڑے تھے، اسی حالت کی طرف بخاری کی روایت میں اشارہ ہے۔ مگرجب انہیں اسلامی لشکر کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنی مستقل سابقہ تیاری کے مطابق فوراً صف بند ہوکر جنگ کے لیے تیار ہوگئے اور یہ وہ حالت ہے جس کا ذکر مؤرخین نے کیا ہے۔
سوال:غزوہ بنو مصطلق میں مسلمانوں کو کیا مال غنیمت حاصل ہوا؟
جواب:حضور انورنے فرمایا:مالِ غنیمت میں حاصل ہونے والے اونٹوں کی تعداد دو ہزار تھی، بکریوں کی تعداد پانچ ہزار تھی، اور قیدیوں کی تعداد دو سَو گھرانوں پر مشتمل تھی۔ بعض مؤرخین نے قیدیوں کی تعداد سات سَو سے زائد بھی بیان کی ہے۔
سوال:آنحضرت ﷺنے غزوہ بنو مصطلق کے قیدیوں کا نگران کس کو مقرر فرمایا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرتﷺ نے حضرت بریدہؓکو ان قیدیوں کا نگران مقرر فرمایا تھا۔
سوال:خُمس کسے کہتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرتﷺ نے سارے مالِ غنیمت میں سےخُمس نکالا۔ خُمس خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق مالِ غنیمت میں سے وہ پانچواں حصّہ ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور رسول کے قریبی رشتےداروں اور مشترک اسلامی ضروریات کے لیے الگ کیا جاتا ہے۔
سوال:رسول کریم غزوہ بنو مصطلق کیلئے کتنے روز مدینہ سے باہر رہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہﷺ اس غزوے سے مظفر ومنصور واپس تشریف لائے اور کُل اٹھائیس روز آپؐمدینے سے باہر رہے۔
سوال:رسول کریم ﷺکی جویریہ ؓسے شادی کے بارے میں کیاذکر ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنو مصطلق قبیلے کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان میں قبیلے کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی برّہ بھی تھیں، جن کا نام تبدیل کرکے آنحضرتﷺ نے جویریہ رکھ دیا تھا۔ قیدیوں کی تقسیم کے دوران جویریہؓ ایک انصاری صحابی ثابت بن قیسؓکی سپردگی میں آئی تھیں۔ برّہ نے ثابت بن قیس سے مکاتبت کے طریق پر سمجھوتہ کیا تھا (مکاتبت کہتے ہیں کہ کوئی لونڈی یا غلام اپنےمالک سے یہ معاہدہ کرلے کہ وہ اگر اپنے مالک کو اس قدر رقم، جو رقم یہاں مقرر تھی وہ نَو اوقیہ سونا تھا، جو تین سَو ساٹھ درہم بنتے ہیں، فدیے کے طور پر اداکردے تو آزاد سمجھا جائے گا۔) اس سمجھوتے کے بعد برّہ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور سارے حالات بتائے اور یہ جتلاکر کہ مَیں بنو مصطلق کے سردار کی لڑکی ہوں فدیے کی ادائیگی میں آپؐکی اعانت چاہی۔
اس کی کہانی سے آنحضرتﷺ متاثر ہوئے اور غالباً یہ خیال کرکے کہ وہ ایک مشہور قبیلے کے سردار کی لڑکی ہے شاید اس تعلق سے تبلیغ میں آسانیاں پیدا ہوجائیں آپؐنے ارادہ فرمایا کہ اس سے شادی فرمالیں۔ برّہ کی رضامندی پر آپؐنے فدیے کی ادائیگی فرماکر ان سے شادی کرلی۔
سوال:جویریہؓ کس طرح اپنی قوم کے لئے نہایت مبارک وجود ثابت ہوئیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: صحابہؓ نے جب یہ دیکھا تو اس بات کو پسند نہ کیا کہ رسول اللہﷺ کے سسرال والوں کو اپنے ہاتھ میں قید رکھیں لہٰذا ایک سَو گھرانے یعنی سینکڑوں قیدی بلا ادائیگی فدیہ یک لخت آزاد کردیے گئے۔ اسی لیے حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ جویریہ اپنی قوم کے لیے نہایت مبارک وجود ثابت ہوئی ہے۔
سوال:رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سُلول نے اپنے قبیلے والوں کو رسول کریم ﷺکی بابت کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:عبداللہ بن ابی نے قریش اور رسول اللہﷺ کے خلاف اپنے قبیلے والوں کو بہکانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہا کہ مدینے واپس پہنچ کر سب سے زیادہ معزز شخص سب سے زیادہ ذلیل شخص کو شہر سے نکال دے گا۔
سوال:اس موقعے پر زید بن ارقم نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سُلول کو ٹوکتے ہوئے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: زید بن ارقمؓنے اس موقعے پر غیرت کا مظاہرہ کیا اور عبداللہ بن ابی کو ٹوکا اور کہا کہ تُوہی اپنی قوم میں سب سے زیادہ ذلیل ہے۔
سوال:غزوہ بنو مصطلق میں ایک صحابی کو غلطی سے کس نے شہید کر دیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس غزوے میں ایک صحابی شہید ہوئے تھے اور وہ بھی غلطی سے، ایک مسلمان نے انہیں کافر سمجھ کر غلطی سے شہید کردیا تھا۔
سوال:حضرت ھِشام بن صُبَابہؓ کی شہادت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ میں ایک صحابی حضرت ھِشام بن صُبَابہؓ شہید ہوئے تھے۔ان کے واقعہ میں لکھا ہے کہ یہ صرف ایک صحابی شہید ہوئے اور یہ بھی غلطی سے ایک مسلمان کے ہاتھ ہی شہید ہوئے تھے۔ ان کا نام حضرت ھِشَام بن صُبَابہؓ تھا۔ انہیں ایک انصاری صحابی حضرت اوسؓنے مشرکین میں سے سمجھا اور غلطی سے شہید کر دیا۔ھِشامؓحضرت عُبَادہ بن صَامِتؓکے قبیلہ میں سے تھے۔
سوال:اس جنگ میں کس طرح فرشتوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تائید فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس جنگ کے دوران فرشتوں کے ذریعہ تائیدکا بھی ذکر ملتا ہے۔اُمّ المؤمنینؐحضرت جویریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے ہم مُرَیْسِیع پر تھے۔ میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے اتنا بڑا لشکر آ گیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی سکت ہم میں نہیں اور میں خود اتنے زیادہ لوگ، ہتھیار اور گھوڑے دیکھ رہی تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتی۔ حضرت جویریہؓ کہتی ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺنے مجھ سے شادی کرلی اور ہم واپس آ گئے تو میں مسلمانوں کو دیکھنے لگی۔ وہ مجھے پہلے کی طرح زیادہ تعداد میں نظر نہیں آئے جو جنگ کے دوران نظر آ رہے تھے۔ تو میں نے جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رعب تھا جو وہ مشرکین کے دلوں میں ڈالتا ہے۔
…٭…٭…٭…