سوال:حضور انور نے عالم اسلام کی حالت کا کیا نقشہ بیان فرمایا؟
جواب:حضورانورنےفرمایا:آجسےتقریباًپندرہ سولہ سال پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی حالت کانقشہ کھینچا تھا کہ اپنوں اور غیروں نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا ہے، یا اُس وقت پہنچا رہے تھے اور جو اَب تک پہنچا رہے ہیں۔ اور خاص طور پر عرب دنیا کی جو حالت ہے اور جس میں مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور مغرب کے بعض ممالک اپنی گرفت میں رکھنے کے لئے ان عرب ممالک کی جو حالت بنا رہے ہیں یا جواُس وقت بنارہے تھے، ابھی تک وہی حالت چل رہی ہے۔ اس کا نقشہ جیسا کہ مَیں نے کہا آپ نے اپنے خطبات میں کھینچا تھا اور کئی خطبات اس بارے میں ارشاد فرمائے تھے جس میں مسلمانوں کو بھی اس خوفناک حالت سے باہر نکلنے کے مشورے دئیے تھے اور جماعت کو بھی توجہ دلائی تھی کہ عالم اسلام کے لئے دعا کریں کیونکہ بہت ہی خوفناک حالات اسلامی دنیا اور خاص طور پر عرب دنیا کے نظر آ رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کو جو مشورے آپ نے دئیے تھے اُن پر تو ظاہر ہے ہمیشہ کی طرح اسلامی دنیا کے لیڈروں نے نہ توجہ دینی تھی اور نہ دی۔ اور جو تجزیہ آپ نے کیا تھا اور جو نتائج اخذ کئے تھے عین اسی کے مطابق ہم نے نتائج دیکھے۔
سوال:ایٹمی توانائی کے خلاف جو پابندیاں امریکہ ایران کے خلاف لگانا چاہتا ہے اگر ایران نے نہ مانی تو کیا ہوگا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آج کل امریکہ ایران کے خلاف، اس کی ایٹمی توانائی کے خلاف جو پابندیاں لگانا چاہتا ہے اگر ایران نے بات نہ مانی تو ایسے حالات پیدا کر دئیے جائیں گے کہ عوام کو ایرانی رہنماؤں سے علیحدہ کیا جائے، ان کے اندر ایسی صورت حال اور بے چینی پیدا کی جائے کہ اندر سے عوام اٹھ کھڑے ہوں اور پھر یہ ہے کہ ساتھ بیرونی پابندیاں بھی لگانی شروع کی جائیں گی۔
سوال:کیا عراق میں سول وار کا خطرہ ہے اس بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اخباروں میں ہر جگہ یہ شور ہے کہ عراق میں سول وار (Civil War) کا خطرہ ہے۔ کل پھر ایک بڑا خوفناک ہوائی حملہ ہوا ہے، انہوں نے یہ حملہ ریگستان میں کیا ہے، کہتے یہی ہیں کہ یہاں کچھ لوگ چھپے ہوئے تھے، اور کچھ اسلحہ کے ڈپو تھے ان کو تباہ کرنا ضروری تھا۔
سوال:ہمیں امت مسلمہ کی انتہائی تکلیف دہ حالت کو دیکھ کر کیا کرنا چاہئے ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک احمدی کا دل دکھتا ہے کیونکہ مسلمان کہلانے والوں، آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کی یہ حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس لئے ہمیں انتہائی درد سے مسلم اُمّہ کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں آپس کی دشمنیوں سے بھی بچائے اور بیرونی دشمنوں سے بھی بچائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی لیڈر شپ اور رہنمائی کو ہوش مند ہاتھوں میں دے جن کے اپنے ذاتی مفاد نہ ہوں۔
سوال:ایک امریکن نے ملک کی حکومت کا اپنی کتاب میں کیا نقشہ کھینچا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس نے حکومت کا مختصر طور پر نقشہ کھینچا ہے کہ کہ کس طرح مختلف کمپنیوں کے ذریعے سے یہ تیسری دنیا کے ممالک کو اپنے قابومیں کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے انہیں اپنے زیر نگیں کر لیتے ہیں۔ اس کے مطابق اگر مختلف مالی اداروں کے ذریعے سے ان غریب ممالک کو یا ترقی پذیر ممالک کو انڈسٹری وغیرہ لگانے کے لئے کوئی امداد دی جاتی ہے یا کوئی پروجیکٹ شروع کیا جاتا ہے تو اگر سو ڈالر کی امداد دی جاتی ہے تو حقیقتاً صرف تین ڈالر اس قوم کے مفاد میں استعمال ہو رہے ہوتے ہیں جسے امداد دی جاتی ہے اور باقی صرف احسان ہوتا ہے۔ عرب ممالک اور ایران وغیرہ کی ہمارے نزدیک ایک خاص اہمیت ہے یعنی امریکہ یا مغربی ممالک کے نزدیک، اس لئے ان کو اپنے زیر نگیں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔عراق کے تیل کے ذخائر جہاں ہیں ان کی اہمیت کے علاوہ اس کے دو دریاؤں دجلہ اور فرات کی وجہ سے جو پانی کے وسائل ہیں ان کی بھی اہمیت ہے۔ کہتا ہے اس وجہ سے خطے کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے مطابق، بعض اندازے جو لگائے گئے ہیں، عراق میں سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل کے ذخائر ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت ہے اس لئے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سوال:خلیج کے بحران کے خطبات میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؓ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:خلیج کے بحران کے خطبات میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ممالک ہوش میں آئیں اور ان طاقتوں سے کہیں کہ ہم ان ممالک کو جو آپس میں لڑنے والے ہیں خود ہی سنبھال لیں گے تم دخل نہ دو۔ لیکن یہ مسلمان ممالک بھی ان کے مدد گار بنے رہے۔ اور ابھی تک بنے ہوئے ہیں۔ اب بھی اگر یہ مسلمان ملک مل کر کہیں کہ ہم مل کر امن قائم کروا دیں گے اگر مغربی طاقتیں نکل جائیں، تو شاید عراق میں کوئی امن کی صورت پیدا ہو جائے اور باقی ان ملکوں میں بھی امن کی صورت پیدا ہو جائے۔ افغانستان کا بھی یہی حال ہے۔ ایران بھی ان ملکوں کے خطرناک عزائم کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔ لیکن اگر یہ لوگ یہاں سے نکل جائیں اور یہ بھی آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں اور اس حدیث پر عمل کرنے والے ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنے والے ہوں کہ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ۔ وَاتَّقُوااللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (الحجرات:11) کہ مومن تو بھائی بھائی ہوتے ہیں پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ تو شاید بچ جائے۔
سوال:ایک احمدی کو امت مسلمہ کو کس طرح سمجھانا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہر احمدی کو دعا کے ساتھ ساتھ مسلمان اُمّت کو سمجھانا چاہئے کہ اُمّت کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے آپس میں ایک ہونے کی کوشش کرو۔ جو بھی زرخیز ذہن کے رہنما ہیں وہ مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ مختلف وقتوں میں جو کوششیں ہوتی رہیں کہ مسلم اُمّہ ایک ہو جائے اور مسلمان ممالک کا خیال رکھے۔
سوال:عرب دنیا میں آج کل کیوں اعتراض ہورہے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:عرب دنیامیں آج کل اسلام پر پادریوں کے ذریعے سے بھی بڑے اعتراض ہو رہے ہیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے آنے کا کیا مقصد بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : خداتعالیٰ نے یہی سنت رکھی ہے کہ اصلاح کے واسطے نبیوں کو مامور کرکے بھیجاہے، انبیاء علیہم السلام جب آتے ہیں تو بظاہر دنیا میں ایک فساد عظیم نظرآتا ہے۔ بھائی بھائی سے باپ بیٹے سے جدا ہو جاتا ہے۔ ہزاروں ہزار جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کے وقت طوفان سے ان کے مخالفوں کو تباہ کر دیا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے وقت اور دوسرے کئی عذاب وارد ہوئے اور فرعون کے لشکرکو غرق کیا گیا۔غرض خوب یاد رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیاہے۔ نرے کلمات اور چرب زبانیں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں۔ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہئے۔ پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا۔
ض ژ ض