سوال:غزوہ بنو مصطلق کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آج غزوہ بنو مصطلق یا غزوہ مریسیع کا ذکر کروں گا۔اس کے متعلق سیرت نگاروں کا اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک یہ 6؍ ہجری میں ہواجبکہ بعض نے5؍ہجری یا4؍ہجری بیان کیا ہے لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓکی تحقیق کے مطابق اس کی تاریخ شعبان ۵؍ہجری ہے۔یہ غزوہ قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ بنو مصطلق کے ساتھ ہوا اس لیے اس کو غزوہ بنو مصطلق کہا جاتا ہے اور یہ قبیلہ مریسیع نام کے ایک کنویں کے پاس رہتا تھا اس لیے اس غزوہ کا دوسرا نام غزوہ مریسیع بھی ہے۔
سوال:بنو مصطلق کس کے حلیف تھےاور انہوں نے کیا حلف لیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بنو مصطلق قریش کے حلیف تھے اور انہوں نے یہ حلف لیا تھا کہ ہم لوگ ایک جان ہو کر قریش کے ساتھ رہیں گےاور اسی معاہدے کے تحت بنو مصطلق غزوہ اُحد میں کفار قریش کے لشکر میں شامل تھے۔
سوال:غزوہ بنو مصطلق کا کیا سبب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ کا ایک سبب یہ تھا کہ بنو مصطلق اسلام دشمنی میں بے باک ہو گئے تھے۔ انہیں کفار قریش کی مکمل تائید اور حمایت حاصل تھی۔ غزوہ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کی وجہ سے اب یہ کھل کر مسلمانوں سے مقابلے پر اتر آئے تھے اور ان کی سرکشی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ مکہ مکرمہ سے جانے والے مرکزی راستے پربنو مصطلق کا کنٹرول تھا۔ یہ لوگ مکہ میں مسلمانوں کا عمل دخل روکنے کےلیے مضبوط رکاوٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔تیسر ا اہم سبب یہ تھا کہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے اپنی قوم اور اہل عرب کو آنحضرت ﷺکے ساتھ جنگ کے لیے تیار کیااور مدینہ سے ۹۶؍میل کے ایک مقام پر لشکر کو جمع کرنا شرع کردیا۔
سوال:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے غزوہ بنو مصطلق کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنےسیرت خاتم النبیینؐمیں اس کے بارے لکھا ہے کہ قریش کی مخالفت دن بدن زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی جاتی تھی۔وہ اپنی ریشہ دوانی سے عرب کے بہت سے قبائل کو اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کھڑا کر چکے تھے لیکن اب ان کی عداوت نے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ حجاز کے وہ قبائل جو مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے وہ بھی قریش کی فتنہ انگیزی سے مسلمانوں کے خلاف اُٹھنا شروع ہوگئے۔اس معاملے میں قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ بنومصطلق نے پہل کی اورمدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی۔ ان کے رئیس حارث بن ابی ضرار نے اس علاقے کے دوسرے قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ آنحضرت ﷺکو جب اس کی اطلاع ملی تو آپؐنے احتیاطاً ایک صحابی بریدہ بن الحصیبؓکو دریافت حالات کے لیے بنو مصطلق روانہ فرمایا اور تاکید فرمائی کہ بہت جلد واپس آکرحقیقۃ الامر سے آپؐکو اطلاع دیں۔ انہوں نے واپس آکر بتایا کہ نہایت زورو شور سے مدینہ پر حملے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔آپؐنے مسلمانوں کو بلایا اور دشمن کے بارے میں خبر دی۔اسلامی لشکر جلد از جلد تیار ہو کر روانہ ہو گیا۔
سوال:آپؐکی غزوہ مصطلق سے روانگی کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپؐکی روانگی کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق آپؐنے حضرت زید بن حارثہؓ کو مدینہ میں نائب مقرر کیا۔ابن ہشام نے حضرت ابوذر غفاریؓکا نام بیان کیا ہے۔ اسی طرح حضرت نمیلۃ بن عبداللہ ؓکا نام بھی بیان کیا جاتا ہے۔بہرحال لشکر روانہ ہوا۔ اسلامی لشکر ۷۰۰؍ افراد پر مشتمل تھا۔
سوال:رسول کریمﷺنے بنو مصطلق کی طرف کب کوچ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ نے 2؍شعبان 5؍ہجری کو پیر کے دن مدینہ منورہ سے بنو مصطلق کی طرف کُوچ کیا۔
سوال:غزوہ بنو مصطلق میں مسلمانوں کے پاس کتنے گھوڑے تھے اور کن کن مہاجرین کے پاس تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: غزوہ بنو مصطلق میں مسلمانوں کے پاس کل تیس گھوڑے تھے جن میں سے مہاجرین کےپاس دس گھوڑے تھے اور حضور ﷺ کے دو گھوڑے تھے۔ جن مہاجرین کے پاس گھوڑے تھے ان میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ، حضرت مقداد بن عمرؓ شامل تھے۔انصار صحابہ کےبیس گُھڑ سواروں میں سے پندرہ کے نام ملتے ہیں۔ان میں حضرت سعد بن معاذؓ، حضرت سید بن عزیرؓ، حضرت قتادہ بن نعمانؓحضرت عویم بن ساعدۃ حضرت سعد بن زیداشھلی، حضرت حارث بن حزمہؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو قتادہ ؓ، حضرت ابی بن کعبؓ،حضرت حباب بن منذرؓ، حضرت زیاد بن لبیدؓ، حضرت فرواہ بن عمرؓ، حضرت معاذ بن رافعؓ تھے۔
سوال:بنومصطلق کو جب مسلمانوں کی آمد اور اپنے جاسوس کے مارے جانے کی خبر پہنچی تو ان پر کیا اثر ہوا؟
جواب:ـحضور انور نے فرمایا:بنومصطلق کو جب مسلمانوں کی آمد اور اپنے جاسوس کے مارے جانے کی خبر پہنچی تو وہ بہت خائف ہو ئے کیونکہ اُن کا اصل منشاءیہ تھا کہ کسی طرح مدینہ پر اچانک حملہ کرنے کا موقع مل جائے مگرآنحضرت ﷺکی بیدار مغزی کی وجہ سے اب ان کو لینے کے دینے پڑ گئےتھے۔
سوال:غزوہ بنو مصطلق کیلئے منافقین کیوں نکلے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ کے ساتھ بہت سے منافقین بھی نکلے وہ اس سے قبل اس طرح کسی غزوہ کےلیے نہیں نکلے تھے۔اُن کی غرض جہاد کی نہیں تھی بلکہ وہ مال غنیمت کےلیے نکلےتھےکہ اگر جیت ہوئی تو ہمیں مال غنیمت ملے گا۔
سوال:حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓنے غزوہ بنو مصطلق کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓنے اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ جب آنحضرت ﷺمریسیع پہنچے تو آپؐنے ڈیرا ڈالنے کا حکم دیا اورصف آرائی اور جھنڈوں کی تقسیم کے بعدآپؐکے حکم کے مطابق حضرت عمر ؓنے بنو مصطلق میں یہ اعلان کیا کہ اگر اب بھی وہ اسلام کی عداوت سے باز آ جائیں اور آنحضرت ﷺ کی حکومت کو تسلیم کر لیں تو ان کوامن دیا جائے گااور مسلمان واپس لوٹ جائیں گے مگر انہوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور جنگ کے واسطے تیار ہو گئے۔ حتی ٰکہ سب سے پہلا تیر جو اس جنگ میں چلایا گیا وہ انہی کے آدمی نے چلایا تھا۔جب آنحضرت ﷺنے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپؐنے بھی صحابہ کو لڑنے کا حکم دیا۔تھوڑی دیر فریقین کے درمیان خوب تیزتِیراندازی ہوئی جس کے بعد آنحضرت ﷺنے صحابہ کو یکلخت دھاواکر دینے کا حکم دیا اور اس اچانک دھاوے کے نتیجے میں کفار کے پاؤں اُکھڑ گئے مگرمسلمانوں نے ایسی ہوشیاری کے ساتھ ان کا گھیرا ڈالا کہ ساری کی ساری قوم محصورہو کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی۔صرف دس کفار اور ایک مسلمان کے قتل پر اس جنگ کا جوایک خطرناک صورت اختیار کر سکتی تھی خاتمہ ہو گیا۔
…٭…٭…٭…