سوال:کیا اسلام سختی اور قتل و غاری کا مذہب ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکی ذات پر غیر مسلموں کی طرف سے جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؐنعوذباللہ ایسا دین لے کر آئے جس میں سوائے سختی اور قتل وغارت گری کے کچھ اور ہے ہی نہیں اور اسلام میں مذہبی رواداری، برداشت اور آزادی کا تصور ہی نہیں ہے ۔
سوال:قرآن کریم میں اسلام کی کن خوبیوں کا ذکر ملتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایاـ:قرآن کریم میں متعدد جگہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا ذکر ملتا ہے جس میں غیر مسلموں سے حسن سلوک، ان کے حقوق کا خیال رکھنا، ان سے انصاف کرنا، ان کے دین پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا، دین کے بارے میں کوئی سختی نہ کرنا وغیرہ کے بہت سے احکامات اپنوں کے علاوہ غیرمسلموں کے لئے ہیں۔
سوال:کن وجوہات کی بناءپر غیر مذاہب اسلام پر حملے کر رہے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آج کل کی جہادی تنظیموں نے بغیر جائز وجوہات کے اور جائز اختیارات کے اپنے جنگجوانہ نعروں اور عمل سے غیرمذہب والوں کو یہ موقع دیا ہے اور ان میں اتنی جرأت پیدا ہو گئی ہے کہ انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے آنحضرت ﷺکی پاک ذات پر بیہودہ حملے کئے ہیں اور کرتے رہے ہیں جبکہ اس سراپا رحم اور محسن انسانیت اور عظیم محافظ حقوق انسانی کا تو یہ حال تھا کہ آپؐجنگ کی حالت میں بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جو دشمن کو سہولت نہ مہیا کرتا ہو۔
سوال:حضور انور نے آنحضرت ﷺکے اخلاق فاضلہ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپؐکی زندگی کا ہر عمل، ہر فعل، آپؐکی زندگی کا پل پل اور لمحہ لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپؐمجسم رحم تھے اور آپ کے سینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کر سکتا جو آپؐنے کئے، امن میں بھی اور جنگ میں بھی، گھر میں بھی اور باہر بھی، روز مرہ کے معمولات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سے کئے گئے معاہدات میں بھی۔ آپؐنے آزادی ضمیر، مذہب اور رواداری کے معیار قائم کرنے کی مثالیں قائم کر دیں۔ اور پھر جب عظیم فاتح کی حیثیت سے مکّہ میں داخل ہوئے تو جہاں مفتوح قوم سے معافی اور رحم کا سلوک کیا، وہاں مذہب کی آزادی کا بھی پورا حق دیااور قرآن کریم کے اس حکم کی اعلیٰ مثال قائم کر دی کہلَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن (البقرہ:257) کہ مذہب تمہارے دل کا معاملہ ہے، میری خواہش تو ہے کہ تم سچے مذہب کو مان لو اور اپنی دنیا وعاقبت سنوار لو، اپنی بخشش کے سامان کر لو، لیکن کوئی جبر نہیں۔
سوال:آنحضرت ﷺاور آپؐکے صحابہؓکو کیا کیا تکالیف دی گئیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپؐنے اور آپؐ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کتنے دکھ اور مصیبتیں برداشت کیں۔ دوپہر کے وقت تپتی ہوئی گرم ریت پر لٹائے گئے، گرم پتھر ان کے سینوں پر رکھے گئے۔ کوڑوں سے مارے گئے، عورتوں کی ٹانگیں چیر کر مارا گیا‘ قتل کیا گیا ‘ شہید کیا گیا۔ آپؐپر مختلف قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔ سجدے کی حالت میں بعض دفعہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپؐکی کمر پر رکھ دی گئی جس کے وزن سے آپؐاٹھ نہیں سکتے تھے۔ طائف کے سفر میں بچے آپؐپر پتھراؤ کرتے رہے، بیہودہ اور غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔ ان کے سردار ان کو ہلا شیری دیتے رہے، ان کو ابھارتے رہے۔ آپؐاتنے زخمی ہو گئے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہیں، اوپر سے بہتا ہوا خون جوتی میں بھی آ گیا۔ شعب ابی طالب کا واقعہ ہے۔ آپؐکو، آپؐکے خاندان کو، آپؐکے ماننے والوں کو کئی سال تک محصور کر دیا گیا۔ کھانے کو کچھ نہیں تھا، پینے کو کچھ نہیں تھا۔ بچے بھی بھوک پیاس سے بلک رہے تھے، کسی صحابی کو ان حالات میں اندھیرے میں زمین پر پڑی ہوئی کوئی نرم چیز پاؤں میں محسوس ہوئی تو اسی کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا کہ شاید کوئی کھانے کی چیز ہو۔ یہ حالت تھی بھوک کی اضطراری کیفیت۔ تو یہ حالات تھے۔ آخر جب ان حالات سے مجبو رہو کر ہجرت کرنی پڑی اور ہجرت کر کے مدینے میں آئے تو وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ آور ہوئے۔ مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کو آپؐکے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔
سوال:رسول کریم ﷺنے دشمن کے اس روّیہ پر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمارے نبی ﷺنے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیارقائم فرمائے۔ مکّہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔ آپؐکو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول و ضوابط کو آپؐنے نہیں توڑا۔ جو اخلاقی معیار آپؐکی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں توڑا۔
سوال:رسول کریم ﷺکا اپنے دشمنوں سے حسن و سلوک کےبارے میںحضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جنگ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔ اس پر حُبابؓبن منذر نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ منتخب کی ہے آیایہ کسی خدائی الہام کے ماتحت ہے۔ آپؐکو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ؟ یا یہ جگہ آپؐنے خود پسند کی ہے، آپ کا خیال ہے کہ فوجی تدبیر کے طور پر یہ جگہ اچھی ہے۔ تو آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث میرا خیال تھا کہ یہ جگہ بہتر ہے، اونچی جگہ ہے تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو لے کر چلیں اور پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیں۔ وہاں ایک حوض بنا لیں گے اور پھر جنگ کریں گے۔ اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے لیکن دشمن کو پا نی پینے کے لئے نہیں ملے گا۔ تو آپؐنے فرمایا ٹھیک ہے چلو تمہاری رائے مان لیتے ہیں۔چنانچہ صحابہ چل پڑے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔ تھوڑی دیر کے بعد قریش کے چند لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو صحابہ نے روکنے کی کوشش کی تو آپؐنے فرمایا :نہیں ان کو پانی لے لینے دو۔ تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت ﷺکے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔ لیکن آپؐنے اس سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو جو پانی کے تالاب، چشمے تک پانی لینے کے لئے آئے تھے اور جس پر آپؐکا تصرف تھا، آپ کے قبضے میں تھا، انہیں پانی لینے سے نہ روکا۔
سوال:آنحضرت ﷺکے انسانی اقدار قائم کرنے اور آپؐکی رواداری کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ کے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔ جب ان کو بتایا گیا کہ یہ ذمّیوں میں سے ہے تو دونوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺکے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ اس پر رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ اَلَیْسَتْ نَفْسًا کیا وہ انسان نہیں ہے۔
سوال:رسول کریم ﷺکی عفو اور درگزر کی حضور انور نے کون سی مثال بیان فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ ﷺسے جنگیں کرتا رہا۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم ﷺکے اعلان عفو اور امان کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر ایک دستے پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔ اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے سامنے اس وقت کوئی نہیں ٹھہر سکاتھا۔ اس لئے فتح مکہ کے بعد جان بچانے کیلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔ اس کی بیوی رسول اللہ ﷺسے اس کی معافی کی طالب ہوئی تو آپؐنے بڑی شفقت فرماتے ہوئے اسے معاف فرما دیااور پھر جب وہ اپنے خاوند کو لینے کیلئے جب گئی تو عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہیں آتا تھا کہ مَیں نے اتنے ظلم کئے ہوئے ہیں، اتنے مسلمان قتل کئے ہوئے ہیں، آخری دن تک میں لڑائی کرتا رہا تو مجھے کس طرح معاف کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال وہ کسی طرح یقین دلا کر اپنے خاوند عکرمہ کو واپس لے آئی۔ چنانچہ جب عکرمہ واپس آئے تو آنحضرت ﷺکے دربار میں حاضر ہوئے اور اس بات کی تصدیق چاہی تو اس کی آمد پر رسول اللہ ﷺنے اس سے احسان کا حیرت انگیز سلوک کیا۔ پہلے تو آپ دشمن قوم کے سردار کی عزت کی خاطر کھڑے ہو گئے کہ یہ دشمن قوم کا سردار ہے اس لئے اس کی عزت کرنی ہے۔ اس لئے کھڑے ہوگئے اور پھر عکرمہ کے پوچھنے پر فرمایا کہ واقعی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔
ض ژ ض