اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-15

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ05؍جولائی 2024بطرز سوال وجواب

سوال:غزوہ بدر الموعد کب ہوا اور اس غزوہ کو اور کس نام سے یاد کیا جاتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: غزوہ بدر الموعد ہے جو۴؍ہجری میں ہوا۔ اس غزوے کوبدر الثانیہ اور بدرالصغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔
سوال:غزوہ بدر الموعد ہونے کا کیا سبب ہوا؟
جواب:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں :4؍ہجری میں جب شوال کے مہینے کا آخر آیا تو آنحضرتﷺ ڈیڑھ ہزار صحابہ کی جمعیت کے ساتھ مدینے سے باہر نکلے۔ اس غزوے کا سبب یہ ہے کہ ابو سفیان بن حرب جب غزوۂ احد سے واپس پلٹا تو اس نے کہا تھا کہ آئندہ سال ہماری اور تمہاری ملاقات بدرا لصفراء کے مقام پر ہوگی،ہم وہاں جنگ کریں گے۔آنحضورﷺ نے حضرت عمرؓکو اسے جواب دینے کا ارشاد فرمایا تھا کہ کہو ہاں! ان شاء اللہ۔ ایک روایت کے مطابق آپؐنے خود جواباً ان شاء اللہ فرمایا تھا۔
سوال:بدر کس کو کہا جاتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بدر مکّہ اور مدینے کے درمیان ایک مشہور کنواں ہے جومدینے کے جنوب مغرب میں ایک سَو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سوال:مسلمانوں کا اس غزوہ کے لئے روانہ ہوتے ہوئے تجارتی مال ساتھ رکھنا کیا بتاتاہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: بظاہر تو مسلمان ابوسفیان سے جنگ کے لیے نکلے تھے مگر مسلمانوں کا تجارتی مال ساتھ رکھنا بتاتا ہے کہ انہیں خداتعالیٰ کے فضل سے یہ یقین تھا کہ یا تو ابوسفیان اس جنگ کے لیے آئے گا ہی نہیں یا اگر آیا بھی تو خداتعالیٰ مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گا۔
سوال:جب جنگ کا وقت قریب آگیا تو ابوسفیان کی کیا حالت ہوئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ابوسفیان نے جنگ کا یہ اعلان کردیا تھا مگر اب جوں جوں وقت نزدیک آرہا تھا ابوسفیان جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا تھا۔ مگر ظاہر یہ کر رہا تھا کہ جیسے وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ مدینے پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہو۔ اس مقصد کے لیے اُس نے نُعیم نامی ایک شخص کو بیس اونٹوں کا لالچ دے کر مدینے بھی بھجوایا جس نے ابوسفیان کی تیاریٔ جنگ کے متعلق مسلمانوں کو بہت مبالغہ آمیز کہانیاں سنا کر جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی۔
سوال:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓنے ابوسفیان کی بے بسی کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ باوجود احد کی فتح اور اتنی بڑی جمعیت کے ساتھ ہونے کے ابو سفیان بن حرب کا دل خائف تھا اور اسلام کی تباہی کے درپے ہونے کے باوجود وہ چاہتا تھا کہ جب تک بہت زیادہ جمیعت اس کے ساتھ نہ ہوجائے وہ مسلمانوں کے سامنے نہ ہو۔
سوال:جب ابوسفیان کے لشکر کی خبر رسول کریم ﷺکو پہنچی تو آپ ﷺنے اپنے پیچھے مدینہ میں کس کو امیر مقرر فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضورﷺ کو جب ابوسفیان کے لشکر کی تیاری کی خبر ملی تو آپؐنے اپنے پیچھے حضرت عبداللہؓ بن عبداللہ بن ابی بن سُلول جو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے تھے مگر بڑےپکے مسلمان اورجاںنثارصحابی تھے انہیں مدینے کا امیر مقرر فرمایا۔ایک روایت کے مطابق آپؐ نے حضرت عبداللہ بن رواحہؓکو امیر مقرر فرمایا تھا۔ آپؐنے اپنا جھنڈا حضرت علیؓ کو عطا فرمایا۔ مسلمان اپنے تجارتی مال کے ساتھ بدر کی جانب نکلے۔
سوال:ابوسفیان نے جنگ سے دور ہٹنے کیلئے کیا چال چلی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مسلمان تو حسبِ وعدہ جنگ کے لیے میدان میں پہنچ چکے تھے مگر دوسری جانب ابوسفیان نے سردارانِ قریش سے کہا کہ ہم نے نُعیم کو اس کام کے لیے بھیج دیا ہے وہ مسلمانوں کو روانگی سے قبل ہی پست ہمت کردے گا۔ وہ انتہائی کوشش کر رہاہے، لیکن ہم ایک یا دو راتوں کے لیے نکلیں گے پھر ہم واپس آجائیں گے۔ اگر مسلمان جنگ کے لیے نہ نکلے تو ہم کہہ دیں گے کہ مسلمان جنگ کے لیے نہیں آئے اور یوں ہم فاتح ٹھہریں گے اور اگر مسلمان جنگ کے لیے نکلے تو بھی ہم واپس لوٹ آئیں گے اور کہہ دیں گے کہ یہ سال ہمارے لیے خشک سالی کا سال ہے، جنگ کے لیے شادابی کا سال مناسب ہوگا۔
سوال:جب مکہ سے 22کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ابوسفیان اور لشکر قریش کی ہمت جواب دینے لگی تو ابوسفیان نے مسلمان لشکر سے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قریش نے ابوسفیان کا مشورہ پسند کیا اور اس کی قیادت میں دو ہزار کا لشکر روانہ ہوگیا۔ مکّے سے صرف بائیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ابوسفیان اور لشکرِ کفار کی ہمت جواب دینے لگی اور اُنہیں مسلمانوں سے لڑائی کی جرأت نہ ہوئی۔ چنانچہ ابوسفیان نے لشکر میں واپسی کا اعلان کیا اور کہا کہ تمہارے لیے شادابی اور ہریالی کا سال جنگ کے لیے زیادہ مناسب رہے گا۔ اس وقت خشک سالی ہے لہٰذا مَیں واپس جا رہا ہوں تم بھی واپس چلے چلو۔
سوال:حضور انور نے غزوہ دومۃ الجندل کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:دوسرا غزوہ دومۃ الجندل ہے۔ یہ ۲۵؍ربیع الاوّل ۵؍ہجری میں ہوا۔ یہ مقام مدینے سے ۴۵۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ قدیم دَور میں یہ سفر پندرہ سے سترہ دنوں میں مکمل ہوتا تھا۔ اس جگہ بہت بڑی تجارتی منڈی لگا کرتی تھی۔ یہ پہلی مہم تھی جو مدینے سے دُور رومی سلطنت کے صوبہ شام کی سرحدوں کے نزدیک وقوع پذیر ہونے والی تھی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں سے باربار شکست کھانے اور مسلمانوں کےبڑھتے ہوئے رعب کو محسوس کرتے ہوئے دشمنانِ دین کسی ایسے موقعے کی تلاش میں تھے کہ مسلمانوں اور اسلام کو جڑھ سے ہی ختم کردیا جائے۔ اس پر عمل کرنے کے لیےمدینے کے انتہائی شمال میں شام کی سرحد کے نزدیک دومۃ الجندل کے گرد قبائل نے اسلامی ریاست کو چیلنج کرنے کے لیے ایک بڑا لشکر تیار کرنا شروع کیا۔
سوال:آنحضرت ﷺکتنی مسافت طے کر نے کے بعد دومۃ الجندل پہنچے؟
جواب:حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں : آپؐپندرہ سولہ دن کی طویل مسافت طے کرنے کے بعددومۃ الجندل پہنچے تو وہاں جاکر معلوم ہوا کہ یہ لوگ مسلمانوں کی خبر پاکر ادھر اُدھر منتقل ہوگئے تھے۔
سوال:غزوہ دومۃ الجندل ہونے کی کیا غرض تھی؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں : یہ غزوہ اس رنگ میں پہلا غزوہ تھا کہ اس کی غرض یا کم از کم بڑی غرض ملک میں امن کا قیام تھا۔اہلِ دومہ کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہ تھا۔ وہ مدینے سے اتنی دُور تھے کہ ان کی طرف سے بظاہر یہ اندیشہ کسی حقیقی خطرے کا موجب نہیں ہوسکتا تھا۔
سوال:دومۃ الجندل سے رسول کریم ﷺ کی واپسی اور اس غزوہ کے ثمرات و نتائج کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: دومۃ الجندل سے واپسی کے متعلق لکھا ہے کہ آنحضورﷺ وہاں تین دن قیام کے بعد تمام لشکر کے ہمراہ مدینے کی طرف روانہ ہوکر20؍ربیع الثانی کو واپس مدینے تشریف لے آئے۔ یہ غزوہ اپنے ثمرات اور نتائج کے حوالے سے بہت مفید رہا ۔اس غزوے کے ذریعے مسلمانوں کو سارے علاقے کا علم ہوگیا اور یہ بھی ایک مقصد تھا کہ سارے علاقے کا پتا چل جائے۔ اس غزوے کا ایک مقصد عربوں کی نفسیاتی مرعوبیت کو دُور کرنا بھی تھا کہ وہ کبھی سلطنتِ روم سے جنگ نہیں کرسکتے۔
…٭…٭…٭…