سوال:ڈنمارک کے اخبار میں جولغو اور بیہودہ خاکے بنائے گئے اس سے دنیا میں کیا ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ڈنمارک کے اخبار میں جولغو اور بیہودہ خاکے بنائے گئے تھے اور پھر دوسری دنیامیں بھی بنائے تھے، ان کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک انتہائی غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی ہوئی ہے۔ ہڑتالیں ہو رہی ہیں، جلوس نکالے جا رہے ہیں۔
سوال:ڈنمارک کے خفیہ ادارے کے ایک ذمہ دار افسر نے کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کوپن ہیگن کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے۔ انکے رپورٹر ہیں ڈاکٹر جاوید کنول صاحب، وہ کہتے ہیں کہ ’’ڈنمارک کے خفیہ ادارے کے ایک ذمہ دار افسر نے اپنا نام اور عہدہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے جنگ اخبار کو بتایا کہ ستمبر 2005ء میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا جس میں قادیانیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی، اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ایک ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں‘‘۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے، ہم نے انہیں خاص طور پر تو نہیں بتایا مگر ہمارا دعویٰ یہی ہے کہ جماعت احمدیہ ہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کی علمبردار ہے۔ ان کے نبی مرزاغلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔ ٹھیک ہے لیکن شرائط کے ساتھ منسوخ قرار دے دیا ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامی احکامات(نعوذ باللہ) تبدیل کر دئیے ہیں ۔ یہ سر اسر اتہام اور الزام ہے۔ ’اس لئے‘ (آگے ذرا دیکھیں اس کی شرارت) کہ محمد ﷺکی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہو چکاہے۔
سوال:حضور انور نے اس کے جواب میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ـپہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الزام لگایا ہے کہ جماعت کا ستمبر میں جلسہ ہوا۔ جماعت احمدیہ کا گزشتہ سال کا جلسہ ستمبر میں تو وہاں ہوا ہی نہیں تھا۔ میرے جانے کی وجہ سے سکنڈے نیوین ممالک کا اکٹھا جلسہ ہوا تھا اور وہ سویڈن میں ہوا تھا۔ اور ایم ٹی اے پر ساروں نے دیکھا کہ کیا ہم نے باتیں کیں اور کیا نہیں کیں۔ ڈنمارک میں میرے جانے پر ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) ہوئی تھی جس میں کچھ اخباری نمائندے، پریس کے نمائندے بھی تھے اور دوسرے پڑھے لکھے دوست بھی اس میں تھے۔ سرکاری افسران بھی تھے، ایک وزیر صاحبہ بھی آئی ہوئی تھیں اور وہاں قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم کا ذکر ہوا تھا۔ اور جو کچھ بھی وہاں کہا گیا تھا وہ صاف تھا، کھلا تھا۔ کوئی چھپ کے بات نہیں ہوئی تھی اور اخباروں نے وہاں شائع بھی کیا تھا بلکہ تھوڑا سا انکے ٹی وی پروگرام میں بھی آیا تھا۔ اور کوئی علیحدہ ملاقات نہیں تھی اور وہی جو ریسیپشن میں میری تقریر تھی میرے خیال میں ایم ٹی اے نے بھی دکھا دی ہے۔ نہیں دکھائی تو اب دکھا دیں۔ بہرحال یہ ٹھیک ہے کہ شاید وہاں تقریرمیں ہی ان لکھنے والے صاحب کی طرح لوگوں کاذکر ہوا ہو کہ یہ چند لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کرنے والے ہیں ورنہ مسلمان اکثریت اس طرح کے جہاد اور دہشت گردی کو ناپسند کرتی ہے۔ بہرحال ہماری طرف منسوب کرکے بہت بڑا جھوٹ بولا گیا ہے۔ شاید کوئی جھوٹا ترین شخص بھی یہ بات کہتے ہوئے کچھ سوچے کیونکہ آج کل تو ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے۔ اور ان صاحب کے بقول اردو انگریزی اور ڈینش میں ویڈیو ٹیپ بھی موجود ہیں۔ تو اگر سچے ہیں تو یہ ٹیپیں دکھا دیں، ہمیں بھی دکھا دیں۔
سوال:کس چیز کی محبت نے بانئی اسلام کے دفاع کیلئے آمادہ کیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عشق رسول ﷺان لوگوں سے لاکھوں کروڑوں حصے زیادہ ہے جو ہم پر اس قسم کے اتہام اور الزام لگاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ہمارے دلوں میں آنحضرت ﷺکی اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے ہے جس کی تصویرکشی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی ہے۔ جس کو خوبصورت کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ہمیں دکھایا ہے۔ کوئی بھی احمدی کبھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام آنحضرت ﷺسے زیادہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تو آنحضرت ﷺکے عشق میں یہ حال تھاکہ حسّان بن ثابتؓکا یہ شعر پڑھ کر آپؑکی آنکھیں آنسو بہایا کرتی تھیں۔ وہ شعر یہ ہے کہ:
کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیْکَ النَّاظِر
مَنْ شَآئَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِر
تُوتو میری آنکھ کی پتلی تھا جو تیرے وفات پا جانے کے بعد اندھی ہو گئی۔ اب تیرے بعد جو چاہے مرے، مجھے تو صرف تیری موت کا خوف تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ کاش یہ شعر مَیں نے کہا ہوتا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بانئ اسلام کی شان میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ہمارے نبی ﷺاظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی ﷺکے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐنے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپؑکے ظہور سے وہ تاریکی نُور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے، آپؐفوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کاجامہ نہ پہن لیا۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جن کی نظیر دنیاکے کسی حصے میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت ﷺکے نصیب نہیں ہوئی۔ یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت ﷺکی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانے میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا۔ اور پھر آپؐنے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی آداب سکھلائے ۔ جو وحشی قوم تھی اور جانوروں کی طرح زندگی گزارنے والے تھے ان کو انسانی آداب سکھلائے۔
سوال:آنحضرت ﷺکے مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ اعلیٰ درجہ کانور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔ وہ ملا ئک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں بھی نہیں تھا، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھاصرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی ﷺہیں۔ سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی وجسمانی ہیں جوخداتعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہےاور پھر انسان کامل بر طبق آیت اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّواالْا َمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا(النساء 59:)اس ساری امانت کو جناب الٰہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔
سوال:ہمارے مذہب کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔ مگر جولوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کرہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ہیں ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پرجو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔
سوال:ہمارے نبی ﷺاور آپؐکے بزرگ صحابہ نے لڑائیاں کیوں کیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس بارے میں حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ہمارےنبی ﷺ اور آپؐکے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملے سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے۔ اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔ مگر اب کون مخالفوں میں سے دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے۔ او رمسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے اور مساجد میں بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے ۔
…٭…٭…٭…