اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-08

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍جون 2024بطرز سوال وجواب

سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیینؐمیں بنو نضیر کے قلعہ بند ہونے کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب آنحضرت ﷺ بنونضیر کے ایک قلعے کی طرف روانہ ہوئے تو آپؐنے اپنے پیچھے مدینہ کی آبادی میں ابن مکتومؓکوامام الصلوٰۃ مقرر فرمایا اور خود صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکل کر بنونضیر کی بستی کامحاصرہ کر لیا اور بنونضیر اس زمانہ کے طریقِ جنگ کے مطابق قلعہ بند ہو گئے۔ غالباً اسی موقعہ پر عبداللہ بن اُبَی بن سَلُول اور دوسرے منافقین مدینہ نے بنونضیر کے رؤساء کو یہ کہلا بھیجا کہ تم مسلمانوں سے ہرگز نہ دبنا، ہم تمہارا ساتھ دیں گے اورتمہاری طرف سے لڑیں گے لیکن جب عملاًجنگ شروع ہوئی تو بنونضیر کی توقعات کے خلاف ان منافقین کویہ جرأت نہ ہوئی کہ کھلم کھلا آنحضرت ﷺکے خلاف میدان میں آئیں اور نہ بنو قریظہ کویہ ہمت پڑی کہ مسلمانوں کے خلاف میدان میں آ کر بنونضیر کی برملا مدد کریں۔ گو دل میں وہ ان کے ساتھ تھے اور درپردہ ان کی امداد بھی کرتے تھے جس کا مسلمانوں کو علم ہوگیا تھا۔ بہرحال بنونضیر کھلے میدان میں مسلمانوں کے مقابل پرنہیں نکلے اورقلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے، لیکن چونکہ ان کے قلعے اس زمانہ کے لحاظ سے بہت مضبوط تھے اس لئے ان کو اطمینان تھا کہ مسلمان ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے اور آخر خود تنگ آ کر محاصرہ چھوڑ جائیںگے۔ اوراس میں شک نہیں کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت ایسے قلعوں کافتح کرنا واقعی ایک بہت مشکل اور پراز مشقت کام تھا اور ایک بڑا طویل محاصرہ چاہتا تھا۔
سوال: بنو نضیر کا محا صرہ کتنے دن تک رہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہ محاصرہ چھ دن اور ایک روایت کے مطابق پندرہ دن تک رہا۔ اس کے علاوہ بیس اور تئیس دنوں کے اقوال بھی مروی ہیں۔ یہ بھی لوگ کہتے ہیں کہ بیس دن یا تئیس دن بھی رہا۔
سوال: دوران محاصرہ رسول کریم ﷺنے چند درخت کاٹنے اور جلانے کا حکم کیوں دیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: دورانِ محاصرہ رسول اللہ ﷺنے چند درخت کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا۔ چونکہ یہود قلعوں کی فصیلوں سے تیر اور پتھر برسا رہے تھے اور یہ درخت ان کے لیے دفاعی حیثیت رکھتے تھے اوران کی کمین گاہ کا کام دے رہے تھے یعنی کہ یہ درخت چھپنے کی جگہ بن رہے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ابولیلیٰ مَازِنِی اور عبداللہ بن سلام کو وہ درخت جلانے کی ذمہ داری سونپی۔
سوال:رسول کریم ﷺنےکس قسم کے درخت جلانے کا حکم دیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: گھٹیا قسم کی کھجوروں کو جلایا گیا۔ اس کی تفصیل مَیں آگے بیان کروں گا۔ بہرحال روایت میں لکھا ہے کہ حضرت ابولیلیٰ کہنے لگے کہ یہ درخت ان کا قیمتی سرمایہ ہیں یہ جلانے سے انہیں زیادہ رنج ہو گا۔ یہودیوں کو اس کا رنج ہو گا کیونکہ یہ ان کا سرمایہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا: اللہ ان کے اموال کو نبی کریم ﷺکے لیے مال غنیمت بنائے گا۔ عبداللہ بن سلام کے اس فقرے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عجوہ کھجور کے درخت جو کارآمد درخت تھے وہ نہیں جلائے گئے تھے دوسرےدرخت جلائے گئے تھے۔
سوال:حضرت بشیر احمد صاحبؓنے اس کی تفصیل میں کیا بیان فرمایا ہے؟
جواب:مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں : آنحضرت ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ بنونضیر کے ان کھجوروں کے درختوں میں سے جو قلعوں کے باہر تھے بعض درخت کاٹ دئے جائیں۔ یہ درخت جوکاٹے گئے لِیْنَہ قسم کی کھجور کے درخت تھے۔ جو ایک ادنیٰ قسم کی کھجور تھی جس کا پھل عموماً انسانوں کے کھانے کے کام نہیں آتا تھا اور اس حکم میں منشاء یہ تھا کہ تاان درختوں کوکٹتا دیکھ کر بنونضیر مرعوب ہو جائیں اور اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیں اوراس طرح چند درختوں کے نقصان سے بہت سی انسانی جانوں کا نقصان اور ملک کا فتنہ وفساد رک جائے۔
سوال:یہود کی بے بسی اور ان کی خود جلاوطنی کی درخواست کرنے کے بارہ میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مسلمانوں نے اس قبیلے کے یہود کے درخت جلا کر انہیں مزید گھبراہٹ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب بھر دیا۔ ان کے حوصلے ٹوٹ گئے اور وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے۔انہوں نے رسول اللہ ﷺکو کہلا بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکلنے کوتیار ہیں۔ آپ ہمیں پرامن جلا وطنی کا موقع دیں۔ آپ ﷺنے ان کی یہ درخواست منظور فرمائی اور حکم دیا کہ مدینہ سے نکل جاؤ۔ تمہاری جانیں محفوظ رہیں گی۔ تمہارے اونٹ جو سامان اٹھا سکیں وہ بھی لے جاؤ سوائے اسلحہ کے۔
سوال:یہود کی جلاوطنی کی کیفیت کے بارے حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:یہود کی جلاوطنی کی کیفیت کے بارے میںلکھا ہے کہ یہود نے جلاوطنی کے وقت اپنے اونٹوں پر عورتوں اور بچوں کے علاوہ اپنا وہ سامان بھی لاد لیا جو اونٹ لے جا سکتے تھے۔ صرف ہتھیار چھوڑ دیے۔ ان کے ساتھ کل ملا کر چھ سو اونٹ تھے۔ ہر شخص خود اپنا مکان گرا کر اس کی لکڑی جیسے دروازے اور کھڑکیاں وغیرہ تک نکال کر اونٹوں پر لاد کر لے گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مکانوں کے ستون اور چھتیں تک توڑ ڈالیں۔ کواڑ، تختے جو دروازے تھے یہاں تک کہ ان کی چولیں چوگاٹھیںتک نکال لیں اور محض حسد اور جلن میں اپنے مکانوں کی دیواریں تک منہدم کر دیں تا کہ وہ اس قابل نہ رہیں کہ ان کے جلا وطن ہونے کے بعد ان مکانوں کو مسلمان آباد کر سکیں۔
سوال:بنو نضیر کے ساتھ انصار کے بیٹوں کے جانے کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:بنونضیر کے یہود کے ساتھ انصار کے بیٹوں کے جانے کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ بنونضیر میں سے کچھ لوگ مدینہ سے نکل کر شام کے علاقے أذرِعَات کی طرف چلے گئے۔ ان یہود میں کچھ انصاری مسلمانوں کے بیٹے بھی تھے جن کی وجہ یہ تھی کہ اگر کسی انصاری عورت کی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی تو اسلام لانے سے پہلے ان میں یہ دستور تھا کہ وہ عورت یہ منت مان لیا کرتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو وہ اس کو یہودی بنا دے گی۔ چنانچہ ایسے کئی لوگ تھے جو انصار کے بیٹے تھے مگر وہ یہودی بنا دیے گئے تھے۔ جب بنونضیر کے لوگ جلا وطن ہونے لگے تو ان لڑکوں کے باپوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے یہ وحی نازل فرمائی۔ سیرت الحلبیہ میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ لَآ إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ(البقرہ: 257) کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔
سوال:بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قبیلہ بنونضیر کے کوچ کرنے کے بعد ان کا اسلحہ، باغات، زمینیں اور مکانات رسول اللہ ﷺنے اپنے قبضہ میں لے لیے۔ ہتھیاروں میں پچاس خَود، پچاسی زرہیں اور تین سو چالیس تلواریں تھیں۔ یہ مسلمانوں کو ملنے والا پہلا مالِ فَے تھا۔ مالِ فَے وہ ہوتا ہے جو کفار سے جنگ کے بغیر حاصل ہو جائے۔ اس مال میں سے مالِ غنیمت کی طرح خمس نہیں نکالا جاتا بلکہ سارے کا سارا مال رسول اللہ ﷺکے اختیار میں ہوتا تھا تا کہ آپ ﷺجہاں چاہیں اسے صرف فرمائیں۔ بنونضیر سے لڑائی کی نوبت ہی نہیں آئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا رعب و دبدبہ ان کے دلوں پر طاری کر دیا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کے مال کا وارث بنا دیا۔ یہ مالِ فَے تھا۔ آپ ﷺنے ان کے تمام سازو سامان کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا تا کہ وہ اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کریں۔
…٭…٭…٭…