سوال:اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتِ الٰہی، عبادت، ذکرِ الٰہی سے گہرا تعلق، غارِ حرا میں عبادت و مجاہدہ، نماز سے عشق، اور امت کو خدا تعالیٰ کی یاد اور عبادت کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس خطبہ میں کس موضوع کا تسلسل جاری رکھا؟
جواب:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ خطبہ میں بیان کردہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتِ الٰہی کے موضوع کو مزید تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔
سوال:دعویٰ نبوت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتِ الٰہی کا کیا اظہار تھا؟
جواب:دعویٰ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی محبت میں غارِ حرا میں تنہائی اختیار کر کے عبادت، دعا اور راز و نیاز میں مشغول رہتے تھے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غارِ حرا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس قدر فنا تھے کہ مکہ کی شدید گرمیوں میں بھی غارِ حرا میں جا کر عبادت کرتے، تنہائی کو پسند کرتے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں لذت پاتے تھے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق اللہ تعالیٰ سے شدید تعلق کا انسان پر کیا اثر ہوتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ سے شدید تعلق پیدا ہونے پر انسان دنیا اور اہلِ دنیا سے بے رغبتی محسوس کرتا ہے، تنہائی اور خلوت کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں سکون اور لذت پاتا ہے۔
سوال:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق وحی کا آغاز کس طرح ہوا؟
جواب:وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔ بعد ازاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور پہلی وحی ’’اِقْرَاْ‘‘ نازل ہوئی۔
سوال:پہلی وحی نازل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟
جواب:آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کی حالت میں گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓ سے فرمایا: ’’مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔‘‘
سوال:حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح تسلی دی؟
جواب:حضرت خدیجہؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہرگز آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں مدد دیتے ہیں۔
سوال:ورقہ بن نوفل نے پہلی وحی سن کر کیا کہا؟
جواب:ورقہ بن نوفل نے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوتا تھا اور پیش گوئی کی کہ آپ کی قوم آپ کی مخالفت کرے گی اور آپ کو وطن سے نکال دے گی۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لیے سعی، مجاہدہ، دعا، عبادت اور قربانی ضروری ہے۔ بغیر کوشش اور مجاہدہ کے اعلیٰ روحانی مراتب حاصل نہیں ہو سکتے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صحابہ کرامؓ کے نمونہ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ صحابہؓ نے محض معمولی عبادت سے مراتب حاصل نہیں کیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانوں تک کی قربانی دی، تب اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا۔
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں خشوع و خضوع کی کیا کیفیت تھی؟
جواب:نماز میں آپؐاتنا روتے اور گریہ و زاری کرتے تھے کہ آپؐکے سینہ مبارک سے ہنڈیا کے ابلنے جیسی آواز آتی تھی۔
سوال:نماز کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی حال کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب:آپؐاتنی دیر قیام فرماتے کہ آپؐکے پاؤں اور پنڈلیاں سوج جاتیں، لیکن پھر بھی عبادت میں کمی نہ کرتے۔
سوال:جب صحابہؓ نے عبادت کی مشقت کے متعلق پوچھا تو آپؐنے کیا جواب دیا؟
جواب:آپؐنے فرمایا: ’’أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا‘‘یعنی کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
سوال:حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو کس طرح بیان فرمایا؟
جواب:آپؓنے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت محبت، شکرگزاری اور اخلاص کا کامل نمونہ تھی۔ آپؐہر عبادت کو اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے اور مزید عبادت کی توفیق پر بھی شکر ادا کرتے تھے۔
سوال:مرض الموت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز کے ساتھ کیا تعلق تھا؟
جواب:شدید بیماری اور کمزوری کے باوجود آپؐدو آدمیوں کے سہارے مسجد تشریف لائے اور نماز باجماعت میں شرکت فرمائی۔
سوال:حضرت مصلح موعودؓنے اس واقعہ سے کیا نتیجہ اخذ کیا؟
جواب:آپؓنے فرمایا کہ ذکرِ الٰہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی غذا تھا اور آپؐاس کے بغیر زندگی میں کوئی لطف محسوس نہیں کرتے تھے۔
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں کون سی عادت پیدا کرنا چاہتے تھے؟
جواب:آپؐچاہتے تھے کہ امت کے افراد ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور ان کی زبانیں ذکرِ الٰہی سے تر رہیں۔
سوال:حضرت مصلح موعودؓ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ایک بڑی کوشش کیا تھی؟
جواب:آپؓنے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کی کوشش یہ تھی کہ لوگوں کی زبانوں پر خدا تعالیٰ کا نام جاری ہو جائے۔
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کن مواقع پر ذکرِ الٰہی کی تعلیم دی؟
جواب:آپؐنے چھینک آنے، کھانا شروع کرنے، کھانا ختم کرنے، سونے، جاگنے، وضو کرنے، نمازوں کے بعد اور دیگر روزمرہ اعمال میں ذکرِ الٰہی کی تعلیم دی۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ کی کیا تشریح فرمائی؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب اللہ تعالیٰ کے لیے تھیں اور آپؐکی ذات میں غیر اللہ کی آمیزش باقی نہیں رہی تھی۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق حقیقی عبادت کیا ہے؟
جواب:حقیقی عبادت وہ ہے جس میں انسان اپنی خواہشات، نفس، مخلوق اور دنیاوی اسباب کو شریک نہ کرے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کرے۔
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی چیزوں میں اپنی پسند کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؐنے فرمایا:’’مجھے دنیا میں عورتیں اور خوشبو پسند کی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔‘‘
سوال:حضرت مصلح موعودؓ نے نماز کی خصوصیت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؓنے فرمایا کہ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ مسلمانوں کو دن میں پانچ مرتبہ عبادت کے لیے بلایا جاتا ہے جس سے روحانیت زندہ رہتی ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر ناصر نواب صاحبؓکو عملی زندگی کے متعلق کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:آپؑ نے نصیحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اتباع اختیار کریں، نماز کو اہمیت دیں اور اس زمانہ کے روحانی جہاد یعنی اسلام کی تبلیغ اور دفاع میں حصہ لیں۔
ززز