سوال:خطبہ جمعہ 14 ستمبر 2007ء کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع رمضان المبارک کی برکات، روزوں کی فرضیت، تقویٰ کا حصول، روحانی ترقی، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا، عبادتوں کے معیار بلند کرنا اور رمضان کو تزکیۂ نفس کا ذریعہ بنانا تھا۔
سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ کا آغاز کس قرآنی آیت سے فرمایا؟
جواب:حضور انور نے سورۃ البقرۃ کی آیت:"یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ"کی تلاوت فرمائی، جس میں روزوں کی فرضیت اور ان کا مقصد تقویٰ بیان کیا گیا ہے۔
سوال:روزوں کی فرضیت کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب:روزوں کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول، روحانی ترقی، تزکیۂ نفس، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا اور دعاؤں کی قبولیت حاصل کرنا ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے روزے صرف امت محمدیہؐ پر ہی فرض کیے ہیں؟
جواب:نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے تم پر بھی اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ سب تقویٰ اختیار کریں۔
سوال:اللہ تعالیٰ کے قرب اور جنتوں کے حصول کے لیے کون سی شرط بیان کی گئی ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ"یعنی جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں؛ ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں۔
سوال:قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کی کون سی خصوصیت بیان کی گئی؟
جواب:قرآن کریم کامل اور مکمل کتاب ہے، اسلام آخری اور دائمی شریعت ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جن کی تعلیم قیامت تک قائم رہے گی۔
سوال:اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا کون سا اصول سورۃ العنکبوت میں بیان ہوا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَایعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
سوال:رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ کیوں ہے؟
جواب:کیونکہ رمضان میں روزے، عبادت، دعا، استغفار اور نفس کی اصلاح کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا اور تقویٰ میں ترقی کرتا ہے۔
سوال:حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت کے مطابق روزے کا کیا اجر ہے؟
جواب:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ستر خریف (بہت طویل فاصلے) کا فرق پیدا کر دیتا ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجاہدہ اور کوشش کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سچی نیت سے بڑھنے والا کبھی ناکام نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔
سوال:حدیث قدسی کے مطابق روزے کی خاص اہمیت کیا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں خود دوں گا۔"یعنی روزے کا اجر بے حد و حساب ہے جس کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
سوال:روزہ کو ’’ڈھال‘‘کیوں کہا گیا ہے؟
جواب:کیونکہ روزہ انسان کو گناہوں، شیطانی حملوں اور جہنم کی آگ سے بچانے والی حفاظتی ڈھال بن جاتا ہے۔
سوال:روزہ دار کو جھگڑے یا گالی کے وقت کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
جواب:اگر کوئی جھگڑا کرے یا گالی دے تو روزہ دار کو کہنا چاہیے:’’میں روزہ دار ہوں‘‘اور صبر، برداشت اور اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سوال:کیا روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام ہے؟
جواب:نہیں، روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ نفس کی اصلاح، گناہوں سے بچنے، ذکر الٰہی میں مشغول رہنے اور روحانی ترقی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
سوال:روزے کے دوران کن باتوں سے بچنے کی تلقین کی گئی؟
جواب:گالی گلوچ، جھگڑا، نفسانی خواہشات، شہوانی باتیں، اخلاقی برائیاں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی تلقین کی گئی۔
سوال:روزہ دار کے لیے دو خوشیاں کون سی ہیں؟
جواب:افطار کے وقت روزہ کھولنے کی خوشی۔
قیامت کے دن اپنے رب سے ملاقات کے وقت روزے کی جزا پانے کی خوشی۔
سوال:رمضان کو ’’ٹریننگ کیمپ‘‘کیوں قرار دیا گیا؟
جواب:کیونکہ رمضان انسان کو برائیوں سے بچنے، نیکیوں پر قائم رہنے، عبادت کی عادت پیدا کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی عملی تربیت دیتا ہے۔
سوال:روزوں کا حقیقی فائدہ کب حاصل ہوتا ہے؟
جواب:جب رمضان کے بعد بھی انسان نیکیوں اور تقویٰ پر قائم رہے اور رمضان میں سیکھی گئی خوبیوں کو اپنی مستقل زندگی کا حصہ بنا لے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے روزے کی حقیقت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ جسمانی غذا کم کرکے روحانی غذا بڑھانا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے لیے ہدایت اور معرفت کے دروازے کھولتا ہے؟
جواب:جو لوگ صدق دل، اخلاص، نیک نیتی اور خدا جوئی کو اپنا مقصد بناتے ہوئے مجاہدہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہدایت اور معرفت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
سوال:خیرِ امت ہونے کا تقاضا کیا ہے؟
جواب:عبادتوں کے معیار بلند کرنا، اعمال صالحہ بجا لانا، تقویٰ میں ترقی کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کرنا۔
سوال:حضور انور نے رمضان کے بارے میں احمدیوں کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ رمضان کے دنوں اور راتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، عبادتوں کو بڑھائیں، دعاؤں میں مشغول ہوں اور تقویٰ کے معیار بلند کریں۔
سوال:رمضان میں عبادتوں کے متعلق حضور انور نے کیا مثال دی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ جس طرح ایک طالب علم امتحان کی تیاری کے لیے راتوں کو دن بنا دیتا ہے اسی طرح مومن کو رمضان میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت اور دعا میں محنت کرنی چاہیے۔
سوال:مرحومین کی نمایاں خصوصیات کیا تھیں؟
جواب:یہ تمام خواتین نیک، عبادت گزار، خلافت سے وفادار، دعا گو، قربانی کرنے والی، موصیہ، تبلیغ دین میں دلچسپی رکھنے والی اور جماعتی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرنے والی تھیں۔
سوال:حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کی اہلیہ نے کس نوعیت کی قربانیاں دیں؟
جواب:انہوں نے اپنے شوہر کی طویل عرصہ تبلیغی خدمات کے دوران تنہا بچوں کی تربیت کی، صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور کبھی شکوہ نہیں کیا۔