سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 57 کی تلاوت فرمائی:اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
سوال:اخباروں اور ملکوں کے خلاف مسلمان ممالک میں جو ہوا چل رہی ہے اس بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: یہ انفرادی طور پر بھی ہیں، اجتماعی طور پر بھی ہیں، حکومتی سطح پر بھی احتجاج ہو رہے ہیں بلکہ اسلامی ممالک کی آرگنائزیشن (او آئی سی) نے بھی کہا ہے کہ مغربی ممالک پر دباؤ ڈالا جائے گاکہ معذرت بھی کریں اور ایسا قانون بھی پاس کریں کہ آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ ضمیر کے نام پر انبیاء تک نہ پہنچیں، کیونکہ اگر اس سے باز نہ آئے تو پھر دنیا کے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔ ان ملکوں کا یا آرگنائزیشن کا یہ بڑا اچھا ردّ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلامی ممالک میں اتنی مضبوطی پیدا کر دے اور ان کو توفیق دے کہ یہ حقیقت میں دلی درد کے ساتھ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ایسے فیصلے کروانے کے قابل ہو سکیں۔
سوال:ایران کے اخبار نے ڈنمارک کے اخبار کو مقابلہ کرنے کے لئے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ایران کے ایک اخبار نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرکت کا بدلہ لینے کے لئے اپنے اخبار میں مقابلے کروائے گا جس میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا تھا اس سلوک کے حوالے سے، ان کے کارٹون بنانے کا مقابلہ ہو گا۔
سوال:ایران کے اخبار کا اعلان سن کر ڈنمارک کے اخبار کے ایڈیٹر نے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ڈنمارک کے اس اخبار کے ایڈیٹرنے جس میں یہ کارٹون شائع ہونے پر دنیا میں سارا فساد شروع ہوا ہے، اس نے ایران کے اس اعلان پر یہ کہا ہے کہ وہاں جو اخبار میں کارٹون بنانے کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا گیا ہے یعنی جنگ عظیم دوم میں یہودیوں سے متعلقہ جو بھی کارٹون بننے تھے وہ ایک قوم پر ظلم ہونے یانہ ہونے کے بارے میں کارٹون بننے تھے۔ کسی نبی کی ہتک یا توہین کے بارے میں نہیں بننے تھے۔
سوال:کس وجہ سے مغربی دنیا اسلام پر حملے کر رہی ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جو صورت ہمیں نظر آتی ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ مغربی دنیا کو پتہ ہے کہ مسلمان ممالک ان کے زیرنگیں ہیں ان کے پاس ہی آخر انہوں نے آنا ہے۔ آپس میں لڑتے ہیں تو ان لوگوں سے مدد لیتے ہیں۔
سوال: جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کرے تو اس کی کیا سزا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمً(النساء:94) یعنی جوشخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہو گی اور وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا اور اس کو اپنی جناب سے دور کر دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔
سوال:مسلمانوں کی کن حرکتوں کی وجہ سے دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جو مسلمانوں کی حرکتیں ہیں ان سے مسلمانوں کے دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں اور مسلمان کی طاقت کم کرتے چلے جا رہے ہیں اور ان مسلمانوں کو عقل نہیں آ رہی۔ یہ تو ظاہر و باہر ہے کہ یہ عقل ماری جانا اور یہ پھٹکار اس لئے ہے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کو نہیں مانا اور نہ ہی مان رہے ہیں نہ اس طرف آتے ہیں اور آپؐکے مسیح و مہدی کی تکذیب کر رہے ہیں۔
سوال:درود شریف کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کیا بیان فرماتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہےکہ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب 57)کہ یقینا اللہ اور اس کے فرشتے بھی نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔
سوال:اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کیا جزا دیتا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:قرآن کریم میں بے شمار احکام ہیں جن کے کرنے کا حکم ہے اور ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے پیارے بن جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ٹھہرو گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بن جاؤ گے، جہنم سے بچائے جاؤ گے، جنت میں داخل ہو گے۔
سوال:درود شریف کے فوائد کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:احادیث میں درُود کے فوائد مختلف روایات میں ملتے ہیں۔ ایک روایت میں آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا جو اُن میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درُود بھیجنے والا ہو گا۔ پھر فرمایا: جو شخص دلی خلوص سے ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجے گا اور اسے دس درجات کی رفعت بخشے گا اور اس کی دس نیکیاں لکھے گا اور دس گناہ معاف کرے گا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے درود شریف کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طورپر بلکہ رسول اللہ ﷺکے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپؐکے مداراج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کی اہمیت کے بارے میں کیا توجہ دلاتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اور لوگوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام پر کیسے سخت دن ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم فرمایا جو کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرے گا۔ اس لئے مسلمانوں کو فرمایا کہ اب اپنی ضدیں چھوڑو اور غور کرو کہ کیا اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں بھی کہ آنحضرت ﷺ کی ذات پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں ان کی عزت قائم کرنے کے لئے جوش میں نہیں آیا؟ جبکہ وہ درود بھیجتا ہے۔
سوال:آنحضرت ﷺسے محبت کاکیا تقاضہ ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں امت مسلمہ کوبہت جگہ دیں۔ غیروں کے بھی ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ ابھی پتہ نہیں کن کن مزید مشکلوں اور ابتلاؤں میں اور مصیبتوں میں ان لوگوں نے گرفتارہونا ہے اور ان مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑنا ہے۔ اور کیا کیا منصوبے ان کے خلاف ہو رہے ہیں۔ اللہ ہی رحم کرے۔