اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-25

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ21؍جون 2024بطرز سوال وجواب

سوال:حضرت محمد بن مسلمہؓکوآپ ﷺنے بنو نضیر کے یہود کو کیا پیغام پہنچانے کو کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپ ﷺنے حضرت محمد بن مسلمہؓکو حکم دیا کہ بنو نضیر کے یہود کے پاس جاؤ اور ان سے کہنا مجھے رسول اللہ ﷺنے تمہاری طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ تم ان کے شہر سے نکل جاؤ۔
سوال:حُیِّی نے اپنے بھائی جُدَیّ بن اخطب کو مسلمانوں کے قائد کی طرف کیوں بھیجا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حُیِّی نے اپنے بھائی جُدَیّ بن اخطب کو ایلچی بنا کر بھیجا کہ جاؤ مسلمانوں کے قائد کو بتا دو کہ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جو کر سکتے ہو کر لو۔
سوال:آنحضرت ﷺکو یہود کی سازش کا کس طرح علم ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکو خدا تعالیٰ نے یہود کے اس بدارادے سےبذریعہ وحی اطلاع دے دی اور آپؐجلدی سے وہاں سے اٹھ آئے۔
سوال:یہود کی رسول کریم ﷺکے قتل کی سازش کے بعد آنحضرت ﷺپر کون سی آیت نازل ہوئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اس وقت یہ آیت بھی نازل ہوئی کہ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو۔ جب ایک قوم نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تمہاری طرف اپنے شر کے ہاتھ لمبے کریں گے مگر اس نے تم سے ان کے ہاتھوں کو روک لیا اور اللہ سے ڈرو اور چاہیے کہ اللہ ہی پر مومن توکل کریں۔
سوال:مدینہ پہنچ کر آنحضرت ﷺنے یہود کی ان سازشوں کے متعلق کیا کارروائی فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اِس بارے میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے یہود کی جلا وطنی کا حکم فرمایا لیکن انہوں نے فیصلہ ماننے سےانکار کیا۔ گو شروع میں یہی لکھا ہے لیکن بعد میں ان کا ارادہ بدل گیا اور انہوں نے مقابلے کی ٹھانی۔ اس کی مزید تفصیل اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ پہنچنے کے بعد حضرت محمد بن مسلمہؓکو بلا بھیجا۔ وہ آئے تو آپ ﷺنے انہیں حکم دیا کہ بنو نضیر کے یہود کے پاس جاؤ اور ان سے کہنا مجھے رسول اللہ ﷺنے تمہاری طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ تم ان کے شہر سے نکل جاؤ۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے منافقین کی اس چالبازی اور مکاری کو قرآن مجید میں کن الفاظ میں بیان فرمایا؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے منافقین کی اس چالبازی اور مکاری کو قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا ہے اور یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ(الحشر:12)کیا تُو نے ان کی طرف نظر نہیں دوڑائی جنہوں نے نفاق کیا۔ وہ اہل کتاب میں سے اپنےبھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اگر تم نکال دیے گئے تو تمہارے ساتھ ہم بھی ضرور نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تمہارے خلاف لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے۔
سوال:جُدَیّ نے مدینہ پہنچ کر حیی کا پیغام سنایا تو رسول کریم ﷺنے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جُدَیّ نے مدینہ پہنچ کر حیی کا پیغام سنایا۔ نبی ﷺصحابہ کرامؓکے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺنے اس کی بات سنی تو بلند آواز میں اللہ اکبر! کہا اور مسلمانوں نے بھی نعرۂ تکبیر بلند کر دیا۔آپ ﷺنے فرمایا: حَارَبَتِ الْيَهُوْدُ یعنی یہود نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔
سوال: حضور انور نے بنو نضیر کی ان کارروائیوں اور اعلانیہ جنگ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: نبی ﷺنے بنو نضیر کی ان کارروائیوں اور اعلانیہ جنگ کے جواب میں بنو نضیر پر چڑھائی کرنے کا اعلان کیا تو صحابہؓ اسی وقت تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ یہود کا یہی قاصد جُدَیّ بن اخطب فوراً عبداللہ بن اُبی کے گھر پہنچا اور اسے رسول اللہ ﷺکے ساتھ ہونے والی گفتگو اور احوال کے متعلق بتایا۔ یہ گھر میں اپنے دوست احباب سے خوش گپیوں میں مگن تھا۔ اس نے کہا جاؤ مَیں اپنے حلیفوں کو پیغام بھیجتا ہوں وہ تمہارے ساتھ قلعوں میں داخل ہو جائیں گے۔ اس ایلچی نے دیکھا کہ ابن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ زرہ پہنےاور تلوار تھامے اسلامی لشکر میں شمولیت کے لیے دوڑے جا رہے ہیں۔ اس پر جُدَیّ تعاون سے ناامید ہو گیا۔ یہ فوراً حیی کے پاس آیا اور اسے تمام روئیداد بیان کی کہ محمد ﷺنے تمہاری بات سن کر کہا کہ یہود نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ پھر نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے تیاری کا اعلان کر دیاہے۔ اسے پھر بھی اعتبار نہ آیا۔ کہنے لگا یہ تو ان کی جنگی چال تھی۔ حیی نے پوچھا کہ عبداللہ بن اُبَی نے کیا کہا؟ تو اس نے ابن ابی کے ساتھ بات چیت کے بارے میں بتایا کہ وہ کہتا ہے کہ مَیں اپنے حلیفوں کو پیغام بھیج دیتا ہوں وہ تمہارے ساتھ قلعوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ جُدَیّ نے کہا بھائی مَیں تو اس کی مدد سے ناامید ہوں۔ادھر رسول اللہ ﷺنے قلعوں کا محاصرہ کرنے کے لیے صحابہ ؓکو حکم صادر فرمایا۔
سوال:یہود کی رسول کریم ﷺکے قتل کی سازش اور آپؐکی خدائی حفاظت کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے اس بارے میں لکھا ہے کہ یہود نے بظاہر آپؐکے تشریف لانے پر خوشی کااظہار کیا اورکہا کہ آپؐتشریف رکھیں۔ ہم ابھی اپنے حصہ کا روپیہ اداکئے دیتے ہیں۔ چنانچہ آپؐمع اپنے چند اصحاب کے ایک دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے اور بنو نضیر باہم مشورہ کے لئے ایک طرف ہو گئے اور ظاہر یہ کیا کہ ہم روپے کی فراہمی کا انتظام کر رہے ہیں لیکن بجائے روپے کاانتظام کرنے کے انہوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ ایک بہت ہی اچھا موقعہ ہے۔ محمد (ﷺ) مکان کے سایہ میں دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہیں کوئی شخص دوسری طرف سے مکان پرچڑھ جاوے اورپھر ایک بڑا پتھر آپؐکے اوپر گرا کر آپؐکا کام تمام کردے۔یہود میں سے ایک شخص سَلَّامْ بن مِشْکَمْ نے اس تجویز کی مخالفت کی اورکہا کہ یہ ایک غداری کافعل ہے اوراس عہد کے خلاف ہے جو ہم لوگ محمد (ﷺ) کے ساتھ کرچکے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے نہ مانا اور بالآخر عَمرو بن جَحَّاش نامی ایک یہودی ایک بہت بھاری پتھر لے کر مکان کے اوپر چڑھ گیا اورقریب تھا کہ وہ اس پتھر کو اوپر سے لڑھکا دیتا۔ مگرروایت آتی ہے کہ آنحضرت ﷺکو خدا تعالیٰ نے یہود کے اس بد ارادے سے بذریعہ وحی اطلاع دے دی اور آپؐجلدی سے وہاں سے اٹھ آئےاورایسی جلدی میں اٹھے کہ آپؐکے اصحاب نے بھی اور یہود نے بھی یہ سمجھا کہ شاید آپؐکسی حاجت کے خیال سے اٹھ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہوئے آپؐکا انتظار کرتے رہے لیکن آپؐوہاں سے اٹھ کر سیدھے مدینہ میں تشریف لے آئے۔ صحابہ نے تھوڑی دیر آپؐکا انتظار کیا لیکن جب آپؐواپس تشریف نہ لائے تو وہ گھبراکراپنی جگہ سے اٹھے اور آپؐکو اِدھر اُدھر تلاش کرتے ہوئے بالآخر خود بھی مدینہ پہنچ گئے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺنے صحابہؓ کویہود کی اس خطرناک سازش کی اطلاع دی۔
سوال:صف بناتے ہوئے کس طرح کھڑا ہونا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مجھے کسی نے بتایا کہ صفوں میں جب آپ کھڑے ہوتے ہیں تو کندھے سے کندھا نہیں ملا یا ہوتا۔ اب وہ دَور گزر گیا جو کووِڈ (Covid) کا تھا۔ صف بناتے ہوئے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑا ہونا چاہیے۔
…٭…٭…٭…