سوال:اٹلی کے وزیر صاحب نے کیا شوشہ چھوڑا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اٹلی میں ایک وزیر صاحب نے بیہودہ اور غلیظ کارٹون ٹی شرٹس پر چھاپ کر پہننے شروع کر دئیے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی کہاہے میرے سے لو۔سنا ہے وہاں بیچے بھی جا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا علاج یہی ہے۔
سوال:جوبانئ اسلامﷺ پر ناحق حملے کر رہے ہیں ان کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ تو ہمیں نہیں پتہ کہ مسلمانوں کا یہ علاج ہے یا نہیں لیکن ان حرکتوں سے وہ خدا کے غضب کو بھڑکانے کا ذریعہ ضروربن رہے ہیں۔ جو کچھ بیوقوفی میں ہو گیا، وہ تو ہو گیا لیکن اس کو تسلسل سے اور ڈھٹائی کے ساتھ کرتے چلے جانا اور اس پر پھر مصر ہونا کہ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔
سوال:اگر یہ ان حرکات سے بعض نہیں آئے تو خدا تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اگر یہ لوگ عذاب کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں تو وہ خدا جو اپنی اور اپنے پیاروں کی غیرت رکھنے والا ہے، اپنی قہری تجلیات کے ساتھ آنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ وہ جو سب طاقتوں کا مالک ہے، وہ جو انسان کے بنائے ہوئے قانون کا پابند نہیں ہے، ہر چیز پر قادر ہے، اس کی چکّی جب چلتی ہے تو پھر انسان کی سوچ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی، پھر اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
سوال:ہر احمدی کو ان حالات کو دیکھتے ہوئے کیا کرنا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: احمدیوں کو مغرب کے بعض لوگوں کے یا بعض ملکوں کے یہ رویے دیکھ کر خداتعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے۔ خدا کے مسیح نے یورپ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے اور امریکہ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے۔ یہ زلزلے، یہ طوفان اور یہ آفتیں جو دنیا میں آ رہی ہیں یہ صرف ایشیا کے لئے مخصوص نہیں ہیں۔ امریکہ نے تو اس کی ایک جھلک دیکھ لی ہے۔ پس اے یورپ! تو بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس لئے کچھ خوف خدا کرو اور خدا کی غیرت کو نہ للکارو۔ لیکن ساتھ ہی مَیں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ممالک یا مسلمان کہلانے والے بھی اپنے رویے درست کریں۔ ایسے رویے اور ایسے ردّعمل ظاہر کریں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن کو دنیا کے سامنے رکھیں، ان کو دکھائیں۔ تو یہ وہ صحیح ردّعمل ہے جو ایک مومن کا ہونا چاہئے۔
سوال:مسیح ابن مریم کا آسمان سے اترنے سے کیا مراد ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایاـ:اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اترنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سچ مچ خاکی وجود آسمان سے اترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے۔ اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے۔ جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اس جگہ اترا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اترا ہے یا ڈیرا اترا ہے کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ لشکر یا وہ ڈیرا آسمان سے اتراہے۔ ماسوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے توقران شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان سے ہی اترے ہیں۔ بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اتارا ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اترنا اس صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں ۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح کی آمد کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:اب مَیں وہ حدیث جو ابو داؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے اس کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔ ایک شخص حارث نام یعنی حرّاث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔ جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہو گی، الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہو گا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔ مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ درحقیقت دو ہی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہو گی اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا۔
سوال:جواللہ تعالیٰ کے نام کا دعویٰ کرتا ہے اگر اس کا دعویٰ سچا نہ ہو تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْا َقَاوِیْلِ۔ لَاَ َخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ (الحاقۃ:46-45) اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کو ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر فرمایا ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْن (الحاقۃ:47) پھر ہم یقینا اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔
سوال:مہدی کی صداقت کیلئے کون سے دو نشانات ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حدیث میں آتا ہے۔ ’’اِنَّ لِمَھْدِینَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْناَ مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ‘‘ (سنن دارقطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والکسوف وھیئتھما صفحہ51جلد1جزء ثانی حدیث :1777)یعنی ہمارے مہدی کی صداقت کے لئے دو ہی نشان ہیں اور یہ صداقت کے دونوں نشان کسی کے لئے جب سے دنیا بنی ہے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ رمضان میں چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات چاند کو اور سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج کو گرہن لگے گا۔
سوال:مہدی کی آمد کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کون سی دو علامات بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:پہلی علامت وہ علوم حقہ کے موتیوں سے ان کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی۔اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے ان کو دئیے جائیں گے۔ یہ جو قرآن کریم کی خوشبو ہے یہ ان کوملے گی۔دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گااور جس کافر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا۔ سواس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر صلیبی زمین کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا۔ اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی، خوکوں کی بے شرمی‘‘ یعنی سؤروں کی بے شرمی وہ بھی ایک جانور ہی ہےاور نجاست خوری ہے ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا۔ اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ بکلی ندارد۔ بلکہ ایک بدنما ٹینٹ اس میں نکلا ہوا ہے۔ملزم کرکے ان کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا۔اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دین محمدی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے۔مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر بخوبی کھولی گئی ہیں۔ اب چاہے کوئی اس کوسمجھے یا نہ سمجھے لیکن آخر کچھ مدت اور انتظار کرکے اور اپنی بے بنیاد امیدوں سے یاس کلی کی حالت میں ہو کر ایک دن سب لوگ اس طرف رجوع کریں گے۔
خ ض ژ ض خ